بلوچستان اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس میں پی ڈی ایم کے خلاف حکومتی مذمتی قرار داد شور شرابے کے دوران منظور

فرانس کے دارالخلافہ پیرس کے نواحی علاقے میں پیغمبر اسلام حضرت محمدؐکی شان میں گستاخانہ خاکے شائع کرنے کیخلاف ایوان کی متفقہ قرار داد منظور کر لی گئی

پیر اکتوبر 23:37

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 اکتوبر2020ء) بلوچستان اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس میں پی ڈی ایم کے خلاف حکومتی مذمتی قرار داد شور شرابے کے دوران منظور کرلی گئی ،اپوزیشن کا اسپیکر ڈائس کا گھیرائو اور شدید احتجاج جبکہ فرانس کے دارالخلافہ پیرس کے نواحی علاقے میں پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ کی شان میں گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے خلاف ایوان کی متفقہ قرار داد منظور کرلی گئی ۔

بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے سپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت شروع ہوا ۔ اجلاس میں بی این پی کے اختر حسین لانگو نے اپنا توجہ دلائو نوٹس پیش کرتے ہوئے وزیر محکمہ مال کی توجہ گوادر کی اراضیات کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ صدر الدین ہاشوانی کو گوادر میںساڑھے تین سو ایکڑ اراضی الا ٹ کی گئی ہے جبکہ مذکورہ الاٹ کردہ اراضی گوادر ماسٹر پلان کا حصہ ہے اس کے باوجود مذکورہ زمین کسی شخص کو الاٹ کرنے کی کیا وجوہات ہیں ۔

(جاری ہے)

وزیر مال میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ مذکورہ اراضی کی الاٹمنٹ کینسل کردی گئی ہے یہ اراضی اب بلوچستان حکومت کی ملکیت ہے ۔ اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم سرداریارمحمدرند نے بلوچستان کیڈ ٹ کالجز کامسودہ قانون مصدرہ 2020(مسودہ قانون نمبر5مصدرہ 2020 ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن لیڈر ملک سکندرخان ایڈووکیٹ نے کہاکہ بل کومنظوری کی بجائے متعلقہ کمیٹی کے حوالے کیاجائے تاکہ اس پر بحث کی جائے اور اس کے بعد آئینی طریقہ کار کے مطابق اس ایوان میں لاکر منظور کیاجائے جبکہ حکومتی ارکان نے اسرار کیا کہ بل کوبلوچستان اسمبلی کے مجریہ 1974ء کے قاعدہ 84اور 85 کے تقاضوں سے مستثنیٰ قراردیاجائے اس موقع پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے مسلسل بولنے سے کان پڑی آواز سنائی نہ دی ،صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی نے کہاکہ متعلقہ محکموں نے قانون کے تمام امور کو دیکھ لیاہے لہٰذاء اس سے منظور کیاجائے جس پر اسپیکر نے مسودہ قانون منظوری کیلئے ایوان میں رائے شماری کیلئے پیش کیا جس کی ایوان کی اکثریت رائے سے منظوری کے بعد سپیکر نے مسودہ قانون کو بلوچستان اسمبلی کے مجریہ 1974ء کے قاعدہ 84اور 85 کے تقاضوں سے مستثنیٰ قرار دینے کی رولنگ دی ۔

اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم سرداریارمحمدرند نے بلوچستان قبضہ ومنجمد اداروں(مدارس اور سکولز) کامسودہ قانون مصدرہ 2020 (مسودہ قانون نمبر7مصدرہ 2020 پیش کیااس موقع پر پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ زیرے نے کہاکہ ہم نے یہ مسودہ قانون ابھی نہیں پڑھا لہٰذااس سے کمیٹی کے سپرد کیاجائے کمیٹیاں اسی لئے بنائی جاتی ہے کہ وہاں پر بحث کرکے مسودہ کو بہترانداز میں ایوان میں لایاجائے جس پر سرداریارمحمدرند نے کہاکہ مسودہ قانون ارکان کو بھیج دیاگیا یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے نہیں پڑھا اس موقع پر ایک مرتبہ پھر اپوزیشن اور حکومتی ارکان مسلسل بولتے رہے اسپیکر نے نصراللہ زیرے کے بعض ریمارکس کارروائی سے حذف کرائے اور مسودہ قانون کو منظوری کیلئے ایوان کے سامنے پیش کیاایوان کی رائے شماری کے بعد اسپیکر نے مسودہ قانون کی منظوری کی رولنگ دیدی ۔

اجلاس میں بلوچستان رکن صوبائی اسمبلی ماہ جبین شیراں نے وزیربرائے مذہبی امور کی طرف سے بلوچستان قبضہ ومنجمد اداروں(مساجد) کامسودہ قانون مصدرہ 2020 (مسودہ قانون نمبر8مصدرہ 2020ایوان میں پیش کیا جس کی ایوان نے منظوری دی ،اجلاس میںپارلیمانی سیکرٹری برائے صحت بلوچستان ڈاکٹرربابہ بلیدی نے بلوچستان قبضہ اور منجمد سہولیات (ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں) کا مسودہ قانون مصدرہ 2020مسودہ قانون نمبر10مصدرہ 2020ایوان میں پیش کیا جس کی ایوان نے منظوری دی تاہم قبل ازیں جب پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کا(ترمیمی) مسودہ قانون مصدرہ 2020مسودہ قانون نمبر9مصدرہ 2020 ء ایوان میں پیش کیا تو اس پر نہ صرف اپوزیشن رکن نصراللہ زیرئے نے شدید احتجاج کیا بلکہ حکمران اتحاد میںشامل عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی نے بھی شدید احتجاج کیا ان کا کہنا تھا کہ اس مسودہ قانون کو اس طرح منظور نہ کیا جائے بلکہ اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے اس طرح تو ہم یونیورسٹی کو واپس کالج کے درجے پر لارہے ہیں منظوری کی بجائے اسے پہلے قائمہ کمیٹی میں بھیجا جائے یا اس پر ایوان میں بحث کرائی جائے جس پر وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی نے کہا کہ اس مسئلے پر طویل احتجاج ہوتا رہا ہے ابھی ہمیں دیگر معاملات میں نہیں پڑنا چاہئے بلکہ مسودہ قانون منظور کرناچاہئے ۔

انہوںنے کہا کہ ملازمین کو چھ مہینوں سے تنخواہیں نہیں ملیں اور انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ا صغرخان اچکزئی نے کہا کہ احتجاج وائس چانسلر کے رویئے کے خلاف تھا وائس چانسلر کے رویئے سے طلبہ اور اساتذہ کو تحفظات تھے انہوںنے کہا کہ قانون سازی کے حوالے سے ایوان کو اعتماد میں لیا جائے ۔اس موقع پر جب مسودہ قانون کی منظوری سے متعلق تحریک ایوان میں لائی گئی تو اس پر پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ مسودے کی منظوری سے احتجاج کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوجائے گا ۔

بعدازاں اصغرخان اچکزئی اور نصراللہ زیرئے نے احتجاجاً ایوان سے واک آئوٹ کیا جبکہ ان کی غیر موجودگی میں ایوان نے مسودہ قانون کی منظوری دی ۔ صوبائی وزیر داخلہ میرضیاء اللہ لانگو نے مشترکہ مذمتی قرارداد پیش کی گزشتہ دنوں فرانس کے دارالخلافہ پیرس کے نواحی علاقے میں پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ کی شان میں گستاخانہ خاکے رکھایاجانا نہ صرف قابل مذمت بلکہ فرانس میں باربار گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور ترویج مسلم امہ کیلئے ناقابل برداشت عمل ہے علاوہ ازیں افسوسناک اور قابل حیرت کردار فرانس کے صدر کی جانب سے آیاہے جو انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے گستاخانہ کو اظہار رائے کی آزادی کانام دے کر اس کا دفاع کیا گیا جس کی وجہ سے مسلم دنیا کی نہ صرف دل آزاری ہوئی ہے بلکہ مسلم امہ میں شدید تشویش پائی جاتی ہے یہ کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں توہین مذہب کے لئے اظہار رائے کی آزادی کاسہارا لے کر طویل عرصے سے مسلمانوں کی دل آزاری کا سلسلہ جاری ہے ،پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ اور مذہب کی شان میں گستاخانہ عمل عالمی سطح پر تعصب اور نسل پرستی کو ہوا دینے کی سازش ہے جس کاعالمی برادری اور ذمہ دار اداروں کونوٹس لیناچاہیے یہ کہ دنیا میں آباد مسلمان کسی صورت اپنے آقا محمدؐ کی شان میں توہین برداشت نہیں کرسکتے۔

لہٰذا یہ ایوان فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی مسلسل ترویج اور فرانسیسی صدر کے غیر ذمہ دارانہ ریمارکس کانہ صرف شدید الفاظ میں مذمت کرتاہے کہ بلکہ وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتاہے کہ وہ او آئی سی اور اقوام متحدہ میں یہ معاملہ اٹھائیں تاکہ مستقبل میں اسلام دشمن طرز عمل کاراستہ روکاجاسکے اپوزیشن لیڈر ملک سکندرایڈووکیٹ نے تجویز دی کہ یہ ایک انتہائی اہم مسئلے پر مبنی قراردادہے اسے ایوان کی مشترکہ قرارداد کے طورپر منظور کیاجائے بعدازاں ایوان نے قرارداد کو متفقہ طورپرمنظورکرلیا۔

اجلاس میں صوبائی وزراء و حکومتی اراکین سردارمحمد صالح بھوتانی ، سردار یار محمد رند ، سلیم احمد کھوسہ ، سردار عبدالرحمان کھیتران، میر ضیاء اللہ لانگو ، عبدالخالق ہزارہ اور مبین خان خلجی کی مشترکہ قرار داد ایوان میں پیش کرتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ میرظہوراحمدبلیدی کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے چند سیاسی جماعتوں پی ڈی ایم نے ملک کے مختلف حصوں میں جلسے جلوس کے نام پر جو واویلا مچارکھاہے وہ گزشتہ انتخابات میں اپنی اپنی شکست خوردگی کی بھڑاس نکالنے کے سوا کچھ نہیں ،جمہوری عمل میں جلسے اور احتجاج اگرچہ ہرشخص وگروہ کاجمہوری حق ہے لیکن گوجرانوالہ اور کراچی کے جلسوں میں ریاستی اداروں کے خلاف جس انداز میں زہر اگلوائے گئے وہ یقینا کسی بھی محب وطن پاکستانی کیلئے ناقابل برداشت ہے ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی اور کردار کشی کسی بھی قومی سیاسی جماعت کا خاصہ نہیں ہوسکتی ،ان سیاسی جماعتوں نے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کے ذریعے قوم اور اداروں کے درمیان دوریان اور غلط فہمیاں پیدا کرنے کی مذموم کوشش کی ہے ۔

اور یہ کہ ان غیرذمہ دار سیاسی جماعتوں نے جلسوں میں اپنے گفتار وکردار کے ذریعے ملک میں انارکی ،سیاسی ،سماجی اور معاشی عدم استحکام لانے کی سازش کی ہے ایک ایسے وقت میں جب ملک وقوم کو معیشت،ایف اے ٹی ایف سمیت داخلی وخارجی سطح پر چیلنجز درپیش ہیں ایسے وقت میں قومی یکجہتی کامظاہرہ کرنے کی بجائے ریاستی اداروں پر بہتان تراشی اور ملک میں انتشار پھیلانے کی کوششوں سے ظاہر ہوتاہے کہ نام نہاد جلسوں میں شامل جماعتیں کسی صورت ملک وقوم کی خیرخواہ نہیں ،ہم آج اس قرارداد کے ذریعے واضع کرناچاہتے ہیں کہ پاکستان اور بلوچستان کی عوام پاک فوج سمیت تمام ریاستی اداروں کی قربانیوں پر فخر کرتے ہیں اور انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں اس کے برعکس گوجرانوالہ اور کراچی کے جلسوں میں ریاستی اداروں پر دشنام طرازی اور قوم میں انتشار پھیلانے والوں کے طرز عمل کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہیں بلوچستان کے عوام اپنی فوج اور اداروں کے ساتھ ہمیشہ کھڑے نظرآئیںگے ۔

قرارداد کی موذونیت پربات کرتے ہوئے میرظہوربلیدی نے کہاکہ ایوان میں سب کو اپنا موقف پیش کرنے کا حق حاصل ہے جس طرح ہم نے اپوزیشن کو تحمل سے سنا انہیں بھی ہمیں تحمل سے سننا چاہیے ،انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتیں ملک میں جمہوریت اور اداروں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں کچھ سیاسی جماعتوں نے اپنے مذموم عزائم کیلئے اداروں پرالزام لگا کر عوام کی توہین کی ۔

انہوںنے کہا کہ جلسے جلوسوں میں جو الفاظ استعمال ہوتے ہیں وہ قابل مذمت ہے بلوچستان کے لوگ اور پوری قوم اپنے اداروں اورپاک فوج کی پشت پر کھڑی ہے مگرافسوس سے کہناپڑرہاہے کہ یہ لوگ اپنا سیاست چمکانے کیلئے اداروں کو بیچ میں لارہے ہیں ،10سی15سال تک دہشتگردی کی لہر تھی یہی فوج تھی جنہوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی اور آج انہی کی قربانیوں کے بدولت ہمیں امن نصیب ہواہے اقتدارآنی جانی چیز ہے ،کئی دہائیوں تک یہ لوگ اقتدار پر برا جمان رہے آج ملک کواگر معاشی عدم استحکام اور مشکلات کاسامناہے تووہ انہی کی وجہ سے ہے ،یہ قیادت جو زبان استعمال کررہی ہے یہ زبان کسی محب وطن پاکستانی کی نہیں بلکہ اسرائیلی اور بھارتی وزرائے اعظم کی ہوسکتی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ جب بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات میں خواتین مرد ،اساتذہ اور راہ گیروں کو شہید کیا گیا ان کے منہ سے ایک بیان نہیں آیا نہ انہوں نے کبھی ان واقعات کی مذمت کی ،انہوں نے پی ڈی ایم رہنمائوں کی تقاریر میں استعمال ہونے والے الفاظ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جلسے جلوس کرنا سب کا جمہوری حق ہے مگر کسی کو اجازت نہیں دینگے کہ وہ اپنے اداروں کے خلاف بات کرے ۔

انہوںنے کہا کہ یہ ففتھ جنریشن وارہے بھارتی میڈیا اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے خلاف ہرزہ سرائی کررہا ہے ۔ ظہوربلیدی کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان مسلسل ڈیسک بجاتے رہے اور ووٹ کو عزت دو ، آٹا ، چینی ، گیس ،بجلی چور کے نعرے لگاتے رہے ۔ اس موقع پر کان پڑی آواز بھی سنائی نہ دی ۔ اس موقع پر سپیکر نے کہا کہ قرار داد پر جمہوری انداز میں بات کرکے اس کی حمایت یا مخالفت کی جاسکتی ہے ہمیں ایوان کو جمہوری طریقے سے چلاتے ہوئے ایک دوسرے کی بات تحمل سے سننی چاہئے ۔

انہوںنے فلور عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی کے حوالے کیا جنہوںنے قرار داد کی مخالفت اور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز جلسے میں مقررین کو شاید غور سے نہیں سنا گیا ۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے گوجرانوالہ اور کراچی میں تقریریں کیں اوران پر بغاوت کے مقدمات بنائے گئے انہوں نے کہا کہ ایوان میں بیٹھے بہت سے لوگ مسلم لیگ(ن) ، پیپلزپارٹی ،جمعیت العلماء اسلام ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے وابستہ رہے ہیں کیا انہیں بغاوت صرف کل کے جلسے میں محسوس ہوئی ۔

ایک دن میں ایسا کیا ہوا کہ انہیں غداری اور بغاوت تک پہنچادیا گیا انہوںنے کہا کہ گزشتہ روز کے جلسے میں بلوچستان میں چیک پوسٹوں پر ناروا رویے ، اسدخان اچکزئی سمیت مسنگ پرسنز کی بازیابی کامطالبہ کیاگیا کہ اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے کوئٹہ کے محفوظ ترین علاقے ایئر پورٹ روڈ سے ایک ماہ قبل اسدخان اچکزئی کو لاپتہ کیاگیا کوئٹہ کی سیکورٹی کے لئے دس ارب روپے خرچ کئے جاتے ہیں جبکہ دن دیہاڑے لوگ لاپتہ ہورہے ہیں انہوںنے کہا کہ گزشتہ روز کے جلسے میں سندھ پولیس کے آئی جی کو رات دو بجے اغواء کرنے کے خلاف احتجاج کرنے والے افسران کو خراج تحسین اور کراچی واقعے میں روا رکھے گئے رویے کی مذمت کی گئی ۔

جلسے میں سندھ ، بلوچستان کے جزائر کے ایوان صدر آر ڈیننس فیکٹری کے ذریعے قبضہ کرنے کی مذمت کی گئی رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کے ساتھ روا رکھے گئے رویے کی مذمت کی گئی ۔ جلسے میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کا فیصلہ آنے کے بعد صدر مملکت ، وزیراعظم اور وزیر قانون کو اخلاقی طو رپر مستعفی ہونا چاہئے جلسے میں ووٹ کے تقدس ، صاف اور شفاف انتخابات کی بات کی گئی انہوںنے کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف کو قانوناً نوٹس لینے کا اختیار نہیں وزیراعظم کو اس واقعے کا نوٹس لینا چاہئے انہوںنے کہا کہ ملک کے لئے خدمات سرانجام دینے والے جنرل قادر ، جنرل عبدالقیوم ، جنرل صلاح الدین اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم تک کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کئے گئے یہ مقدمات درج کرکے دنیا کو کیا پیغام دیا گیا کہ ہم کشمیر کے معاملے پر قوم کو دھوکہ دے رہے تھے انہوںنے کہا کہ یہ انتہائی غیر جمہوری قرار داد ہے جسے دیکھ کر افسوس ہوا ۔

ہمارے اکابرین نے جمہوریت کے لئے بہت سی قربانیاں دی ہیںان کی تاریخی جدوجہد ہے عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کے طو رپر اس قرار داد کی مذمت کرتا ہوں اس موقع پر سپیکر میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ پی ڈی ایم میںشامل پیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے آرمی چیف سے آئی جی سندھ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا نوٹس لینے کی درخواست کی تھی جس پر ملکی مفاد میں آرمی چیف نے نوٹس لیا جس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوںنے ملکی مفاد میں بروقت اور درست فیصلہ کرکے حالات خراب ہونے سے بچائے۔

انہوںنے کہا کہ پی ڈی ایم اپنے پلیٹ فارم سے یہ واضح کرلے کہ ان کی کیا پالیسی ہے ۔صوبائی مشیر کھیل و ثقافت عبدالخالق ہزارہ نے کہا کہ ہمیں اس ایوان میں کھڑے ہو کر نہایت ذمہ داری سے بات کرنی چاہئے تمام صورتحال کو دیکھ کر اور پوری ذمہ داری سے ایسی بات کی جائے جس سے حالات خرابی کی جانب جانے کی بجائے بہتری کی جانب جائیں ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ ہم نے اپنے اداروں کو مضبوط نہیں کیا بلکہ اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے رہے ففتھ جنریشن وار میں بھی یہی ہورہا ہے اور ملک کے سب سے مضبوط ادارے کے خلاف باتیں ہورہی ہیں ہمیں اپنے اداروں کو مضبوط کرنا چاہئے اور کوئی ایسی بات نہ کریں کہ جس سے یہ محسوس ہو کہ کوئی کسی اور کے ایجنڈے پر بات کررہا ہے ہر ملک میں اس کے اپنے ادارے ہوتے ہیں فوج سمیت دیگر اداروں کے بغیر کوئی ملک نہیں چل سکتا افسوس کی بات یہ ہے کہ یہاں تین مرتبہ کے وزیر اعظم کی طرف سے غیر ذمہ دارانہ بیانیہ آتا ہے اور ملک کے سب سے مضبوط ادارے کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اس سے کس کو خوشی ہوگی یقینی طو رپر اس سے بھارت سمیت پاکستان کے ہر دشمن کو خوشی ہوگی یہ گھر ہمارا ہے اور گھر کی بات گھرمیں رہے ، گھر کی بات باہر جانے سے دنیا میں ہم پر انگلیاں اٹھیں گی ۔

کسی دوسرے کے مقابلے میں تین مرتبہ کے وزیراعظم کو ملک ، خطے اور عالمی صورتحال کا زیادہ بہتر طریقے سے احساس ہوگا ۔ عالمی حالات ، کشمیر سمیت دیگر چیلنجز کا بھی ان کو بخوبی علم ہوگا مگر ان کا بیانیہ دشمن کو فائدہ پہنچا رہا ہے ہم نے اپنے اداروں کو کمزور یا متاثر نہیں کرنا یہ صوبوں ، وفاق سمیت جمہوریت اور کسی کے بھی حق میں نہیں ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے ملک کو نقصان پہنچے سابق وزیراعظم کی تقریر کسی عام شخص کی تقریر نہیں بلکہ ایک ذمہ دار شخص کی تقریر ہوتی ہے انہیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے کل ایک دوسرے کو سڑکوں کوگھسیٹنے کی باتیں کرنے والے آج ایک دوسرے کے دوست بنے ہوئے ہیں ہم کہتے ہیں کہ تمام سیاسی قائدین سیاسی جمہوری انداز اختیار کریں ملک میں سیاسی جمہوری جدوجہد کی جائے اور ففتھ جنریشن کے تحت ملک کے اداروں کو بدنام کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے انہوںنے کہا کہ کل کے جلسے میں جو باتیں ہوئیں اس سے ایسا محسوس ہوا کہ دل کی بھڑا س نکالی گئی اور عداوت کی بنیاد پر باتیں کی گئیں جو نہیں ہونی چاہئے ۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکن مبین خلجی نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ گوجرانوالہ اور کراچی کے جلسوں میں گیارہ جماعتی اتحاد نے جو زبان استعمال کرکے اداروں پر تنقید کی ہے وہ درست عمل نہیں چوہدری نثار علی خان نے گزشتہ حکومت میں شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی آڑ میں پشتونوں پرجو ظلم کیا اس وقت گورنری اور کشمیر کمیٹی والوں نے کوئی بات نہیں کی انہوںنے کہا کہ صوبے میں پشتونخوا میپ ، نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت جمعیت اور بی این پی نے گرائی انہوںنے کہا کہ اصغرخان اچکزئی کی اپوزیشن سے مخالفت صرف فنڈز تک ہے اور آج ان کی حمایت میں بول رہے ہیں انہوںنے کہا کہ یہ لوگ اسمبلیوں سے استعفیٰ نہیں دیں گے اگر انتخابات ٹھیک نہیں تھے تو مولانافضل الرحمان نے صدارتی اور ان کے بیٹے نے ڈپٹی اسپیکر کا الیکشن کیوں لڑا صوبائی وزیر نور محمد دمڑ نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جلسے جلوس کرنا سیاسی جماعتوں کا جمہوری حق ہے مگر اداروں پر تنقید کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جاسکتی یہ ملک ہے تو ہم ہیں ۔

ملکی اداروں پر الزامات کس کی خوشنودی کے لئے لگائے جارہے ہیں عوام نے انہیں انتخابات میں مسترد کیا اب یہ اگلے انتخابات تک عوام کو تسلی دیتے رہیں گے انہوںنے کہا کہ اس طرح کی زبان کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا انہوںنے کہا کہ گزشتہ روز کوئٹہ میں ہونے والے پی ڈی ایم جلسے میں اویس نورانی نے آزاد بلوچستان کی جو بات کی انہیں یہ سٹیج کس نے فراہم کیا یہ سب اس عمل میں برابر کے شریک ہیں ۔

اپوزیشن کی جانب سے اختر حسین لانگو نے قرار داد پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں پہلے بھی حیات بلوچ کے قتل، نواب اکبر بگٹی کی شہادت، چیک پوسٹوں کے معاملات پر سیر حاصل بحث ہوئی حکومت نے الزام لگایا ہے کہ پی ڈی ایم کسی ادار ے کے خلاف تحریک ہے انہوں نے کہاکہ مبین خلجی نے ضیا الحق کے بیٹے اور پارٹیاں بنانے کا ذکر کیا اگر جنرل ضیاء، جنرل ایوب خان ، یحیٰ خان ، جنرل مشرف مارشل لاء نہ لگاتے ،آئین معطل نہ کرتے ، ججز کو گرفتار سرپم کورٹ کا معطل نہ کیا جاتا تو ملک کی بدنامی نہیں ہوتی انہوں نے کہاکہ حکومت ہماری انڈراسٹینڈنگ سے قرار داد لائی کہ انہوں نے ہمیں ذلیل کیا تم انہیں ذلیل کرو انہوں نے کہا کہ پا پا جونز پیزا کے مالکان سے نیب اور ایف بی آر کو پوچھ گجھ کرنی چاہیے اور ارب پتی بننے والوں سے ریٹرن مانگے جائیں سلیم کھوسہ بتائیں کہ انہیں سفید ڈبل کیبن گاڑی میں گھر سے کون اٹھا کرلے گیا تھا ظہوربلیدی بتائیں کہ کیا حیات بلوچ کا قتل ٹھیک تھا ابھی انکی تقرریر جاری تھی کہ حکومتی بنچز کی جانب سے شور شرابا شروع کردیاگیا اس دوران کان پڑی آواز سنائی دی دی جبکہ اپوزیشن ارکان نے ہنگامہ آرائی کے دوران اسپیکر ڈائس کا گھیرائو کرتے ہوئے شدید احتجاج اور نعرے بازی کی شور شرابے کے دوران اسپیکر نے قرار داد کی منظور ی کے لئے ایوان سے رائے لینے بعد قرار داد کو منظور کرلیا جبکہ حکومتی ارکان ڈیسک بجاتے ہوئے مبارک ہو کے نعرے لگاتے رہے اور ایوان سے نکل گئے جبکہ اسپیکر نے اسمبلی کا اجلاس جمعرات کو سہ پہرچار بجے تک ملتوی کردیا ۔

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments