پشتونخواملی عوامی پارٹی نے صوبائی اسمبلی میں بولان میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز یونیورسٹی کے ایکٹ 2017میں تعلیم دشمن ترامیم کو یکسر مسترد کردیا

صوبے کی عوام ، شعبہ طب اور تعلیم کے خلاف سازش قرار

منگل اکتوبر 23:42

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 27 اکتوبر2020ء) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی پریس ریلیز میں سلیکٹڈ صوبائی حکومت کی جانب سے گزشتہ روز صوبائی اسمبلی میں بولان میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز یونیورسٹی کے ایکٹ 2017میں تعلیم دشمن ترامیم کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے صوبے کی عوام ، شعبہ طب اور تعلیم کے خلاف ایک ایسی گہری سازش قرار دیا ہے جس سے آنیوالے دنوں میں ہمارے عوام اور بالخصوص شعبہ طب سے تعلق رکھنے والوںکو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑیگا جس کی ذمہ دارصرف اور صرف موجودہ سلیکٹڈ حکومت ہوگی اور وہ عوام کے سامنے بھی جوابدہ ہونگے بیان میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں یونیورسٹیز کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ہمارے ملک میں پہلے ہی کوئی یونیورسٹی ایسی نہیں جو دنیا کے دیگر ممالک کی یونیورسٹیز کی قطار میں شامل ہو اور اب صوبے کی واحد میڈیکل یونیورسٹی کو ختم کرکے کالج کا درجہ دیا گیاجو دنیا میں نئی مثال قائم کردی گئی ہے اس علم دشمن فیصلے سے صوبے ، ملک اور دنیا بھر میں ہماری جگ ہنسائی ہورہی ہے۔

(جاری ہے)

بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے اس عوام دشمن فیصلے کیخلاف پشتونخوامیپ اپنے عوام اور دیگر علم دوست قوتوں سے ملکر اس تعلیم دشمن اقدام کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ 2017میں اس وقت کی منتخب جمہوری عوامی حکومت اور معاشرے کے تمام علم دوست طبقات ، علمی حلقوں اور بالخصوص شعبہ طب سے تعلق رکھنے والے پروفیسرز اور ڈاکٹرز کی طویل اور باہمی مشاورت سے صوبے کے واحد بولان میڈیکل کالج کو ترقی دیکر بولان میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا تھااور پورے اتفاق رائے سے میڈیکل یونیورسٹی کا ایکٹ صوبائی اسمبلی سے منظور ہواجو کہ موجودہ حالات میں ایک بہترین میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کی یونیورسٹی کا ایکٹ کہلایا جاسکتاہے مگر افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ موجودہ سلیکٹڈ صوبائی حکومت نے سازش کے تحت گزشتہ روز صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں 2017کے ایکٹ میں غیر آئینی ،عوام دشمن اورعلم دشمن ترامیم کرکے بولان میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز یونیورسٹی کی حیثیت کو ختم کیا جو کہ صریحاً پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے ایکٹ 2012کی خلاف ورزی ہے ۔

کیونکہ پی ایم ڈی سی کے ایکٹ 2012کے تحت ہر میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز یونیورسٹی کیلئے کم از کم ایک Constituent Recognizedمیڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کا ہونا لازمی ہے اور صوبے میں واحد بولان میڈیکل کالج پی ایم ڈی سی سے Recognizedکالج ہے مگراب سلیکٹڈ صوبائی حکومت نے بولان میڈیکل کالج کو الگ طور پر بحال کرکے دراصل پی ایم ڈی سی کی ایکٹ 2012کی خلاف ورزی کیںجس سے بولان میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز یونیورسٹی ختم ہوگئی اس طرح غریب اور تعلیمی طور پر پسماندہ صوبہ مزید تعلیمی پسماندگی کا شکار ہوجائیگا جس سے نہ صرف ہمارے میڈیکل اسٹوڈنٹس کی ڈگری لا محلہ متاثر ہوگی بلکہ یونیورسٹی کے ختم ہونے سے صوبے کے تمام میڈیکل کالجز ملک کے دیگر صوبوں کے میڈیکل یونیورسٹیزسے Affliation(الحاق) کیلئے مجبور ہونگے بیان میں کہا گیا ہے کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ صوبائی حکومت میں شامل بعض وزراء اور چند بیوروکریٹس نے اپنے ہی عوام کے خلاف سازش کرتے ہوئے لوگوں کو دھرنا اور بھوک ہڑتال پر بٹھایا جس کا مقصد صرف اور صرف علم دشمنی ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ بولان میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز یونیورسٹی کے ایکٹ میں تمام ملازمین کے پینشن، گریجویٹی اور دیگر مراعات کو مکمل تحفظ دیا گیا تھامگر اب یونیورسٹی کا وجود ہی ختم کردیا گیا بیان میں کہا گیا ہے کہ بولان میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز یونیورسٹی کے قیام سے صوبے میں میڈیکل سائنس کے شعبے میں بے پناہ ترقی ہونی تھی اور میرٹ کو فروغ ملنا تھا اور ہمارے صوبے کے عوام پر دورس مثبت اثرات مرتب ہونے تھے مگر حکومت نے 2017کے ایکٹ میں بنیادی تبدیلی کرکے بولان میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز یونیورسٹی کی حیثیت ہی ختم کردی بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سلیکٹڈ حکومت فوری طور پران عوام دشمن ترامیم کو واپس لیں تاکہ یونیورسٹی اپنی اصل حیثیت کے مطابق بحال رہے

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments