کوئٹہ میں واساء اور واپڈا کے درمیان رسہ کشی میں عوام کو اذیت میں مبتلا کر دیا گیا ہے ، مولا نا عبد الر حمن رفیق

کبھی واساء کی جانب سے فنی خرابی کا بہانہ بنا کر عوام کو بے وقوف بنایا جاتا ہے تو کبھی واپڈا کی جانب سے بجلی کے کنکشن منقطع کر دیے جاتے ہیں ، امیر جے یو آئی کوئٹہ

جمعرات نومبر 21:24

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 نومبر2020ء) جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبدالرحمن رفیق، سنیئرنائب امیر مولانا خورشید احمد،جنرل سیکرٹری حاجی بشیر احمد کاکڑ، مولانا مفتی محمد روزی خان، مولانا قاری مہراللہ، مولانا شیخ احمد جان، مولانا محمد ہاشم خیشکی ،مولانا محمد اشرف جان ،مولاناحافظ عبدالحق حقانی ،مولانا غلام نبی محمدی، ڈپٹی جنرل سیکرٹری حافظ مسعود احمد ،حافظ شبیر احمد مدنی ،مولاناعبدالغفور مدنی، مفتی عبدالسلام رئیسانی، حاجی محمد شاہ لالا، حاجی ولی محمد بڑیچ ،حافظ سراج الدین، ظفراللہ کاکڑ، مفتی رحمت اللہ،حافظ خلیل احمد سا رنگزئی، مولانا جمال الدین حقانی ،مولانا مفتی نیک محمد فاروقی، چوہدری محمد عاطف ،میر فاروق لا نگو،ناظم مالیات میر سرفراز شاہوانی، ملک نصیر احمد ایڈووکیٹ ،حاجی عبداللہ سلیمانخیل ،عبداللہ خان ناصر، حاجی صالح محمد، مولانا سردار محمدنورزئی، سالار حافظ مجیب الرحمن ملا خیل، مولانا محمد یاسر بازئی ،حاجی صادق دین ایڈووکیٹ،حافظ مفتی ابوبکر، مولاناسیدسعد اللہ آغا،حافظ دوست محمد، حافظ رحمن گل نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں واساء اور واپڈا کے درمیان رسہ کشی میں عوام کو اذیت میں مبتلا کر دیا گیا ہے کبھی واساء کی جانب سے فنی خرابی کا بہانہ بنا کر عوام کو بے وقوف بناتے ہیں تو کبھی واپڈا کی جانب سے بجلی کے کنکشن منقطع کر دیے جاتے ہیں اور اس کشمکش میں 11 سے 15 دن عوام کو پانی کے مصنوعی بحران میں مبتلا کر کے عوام کو ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے جو کہ سراسر ناانصافی اور ظلم پر مبنی اقدام ہے صوبائی نااہل حکومت کو عوام کے مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں اور نہ ہی مسائل حل کرنے کی صلاحیت ہیں اس وجہ سے آئے دن عوام کو پانی ،بجلی اور گیس جیسی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اگر ہی صورتحال رہی تو عوام کے ساتھ مل کر واپڈا اور واساء کے سخت احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے عوام کو ہردور میں مشکل میں رکھا گیا ہے جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے ہردور میں بڑے بڑے دعوے کئیے گئے مگر کوئٹہ میں پانی کی قلت کا مسئلہ تاحال حل نہ ہو سکا،سردی میں عموماً گیس نہ ملنے کی شکایات عام ہوتی ہیں لیکن کوئٹہ کے شہری اس موسم میں بھی پانی کی قلت کا شکار ہیں انہوں نے کہا کہ واپڈا اور واسا کی کشمکش کے باعث اکثر علاقوں میں پانی کی فراہمی کئی روز سے معطل ہے، جس کی وجہ سے مکین پریشانی کا شکار ہیں اور روز گزر گئے واسا کی لائنوں سے پانی کی سپلائی معطل ہے، پانی کے حصول کیلئے انہیں دور دراز علاقوں کو جانا پڑتا ہے یا ٹینکر ڈلوانے پر مجبور ہیں۔

(جاری ہے)

پانی کی قلت کے باعث ٹینکر مافیا نے بھی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، چھوٹا ٹینکر 600 روپے جبکہ بڑا ٹینکر 2000 روپے میں فروخت کیا جا رہے۔

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments