محکمہ پلانینگ اینڈ ڈیویلپمنٹ کے تمام مستقل آفیسران گزشتہ کئی ہفتوں سے اپنے مطالبات کی منظور نہ ہونے پر علامتی احتجاج پر ہیں، امین اللہ خان

بلوچستان اکنانومست اینڈ پلانرز ایسوسی ایشن کے مطابق پلانینگ اینڈ ڈیویلپمنٹ افیسران کو کیڈر دینے سینئر افیسران کو ہٹا کر دوسرے محکموں کے جونیئر افسران کو تعینات کرنے،ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ کیلئے سہولیات دینے سمیت دیگر مطالبات کے پورا ہونے تک احتجاج جاری رکھیں گے

جمعرات نومبر 22:10

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 نومبر2020ء) محکمہ پلانینگ اینڈ ڈیویلپمنٹ کے تمام مستقل آفیسران گزشتہ کئی ہفتوں سے اپنے مطالبات کی منظور نہ ہونے پر علامتی احتجاج پر ہیں۔ بلوچستان اکنانومست اینڈ پلانرز ایسوسی ایشن کے مطابق پلانینگ اینڈ ڈیویلپمنٹ افیسران کو کیڈر دینے سینئر افیسران کو ہٹا کر دوسرے محکموں کے جونیئر افسران کو تعینات کرنے،ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ کیلئے سہولیات دینے سمیت دیگر مطالبات کے پورا ہونے تک احتجاج جاری رکھیں گے۔

بلوچستان اکنانومست اینڈ پلانرز ایسوسی ایشن کے صدر امین اللہ خان نے بتایا کہ محکمہ پلانینگ اینڈ ڈیویلپمنٹ کے مستقل تمام 65 افیسران جو گریڈ 17 سے 20کے افسران ہیں گزشتہ 3 ہفتوں سے 2 گھنٹوں کی علامتی احتجاج پر ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے بنایا کہ محکمہ پلانینگ اینڈ ڈیویلپمنٹ بلوچستان کے آفیسروں کا صوبے کی معاشی، معاشرتی اور سماجی ترقی میں آہم کردار ہوتا ہے لیکن تاحال وہ اب تک کیڈر سے محروم ہیں جبکہ پاکستان کے دوسرے صوبوں میں محکمہ پلانینگ اینڈ ڈیویلپمنٹ کو کیڈر دیا گیا ہے۔

محکمہ پلانینگ اینڈ ڈیویلپمنٹ میں موجود چیف اکانومسٹ اورگریڈ 20 کی4جوائنٹ چیف اکانومسٹس کو ایک خاص گروہ نظرانداز کر کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے رہے ہیں جسکی وجہ سے موثر اور جامع ترقیاتی منصوبہ بندی متاثر ہو رہی ہیں۔ اسی طرح محکمے میں مانیٹرنگ شعبہ میں سہولیات کا فقدان ہے جس کی وجہ سے ترقیاتی منصوبوں کی مناسب مانیٹرنگ اینڈ ایویلویشن نہیں ہو پاتی جسکی وجہ سے موقع پر غیر معیاری کام ہوتا ہے اور بدعنوانی کا عنصر جنم لیتا ہے۔

انہوں نے مزیدکہا کہ محکمہ پلانینگ اینڈ ڈیویلپمنٹ میں ذاتی پسند اور ناپسند کی بناپرسینئر آفیسران کی جگہ دوسرے محکموں کے جونئیر افسران کو بیٹھانے سے ناصرف ان کی حق تلفی ہو رہی ہے بلکہ ترقیاتی عمل میں بھی خلل واقع ہو رہا ہے۔ اسی طرح ڈویژن میں موجود محکمہ پلانینگ اینڈ ڈیویلپمنٹ کے ڈاریکٹر ترقیات اور ان کے ماتحت افیسران کو تمام الائنسز سے محروم رکھا گیا ہے جس سے ناصرف ان میں مایوسی پھیل رہی ہیں بلکہ ان کی کارکردگی بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

مزیدبراں محکمہ پلانینگ اینڈ ڈیویلپمنٹ میں غیر متعلقہ این جی اوز اور پروجیکٹس کو کمرے الاٹ کیے گئے ہیں جبکہ محکمہ کے مستقل آفیسران بغیر کمرے کے گھوم رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اکنانومست اینڈ پلانرز ایسوسی ایشن نے اپنے تمام مطالبات باقاعدہ طور پر خط کے ذریعے اعلی حکام بشمول وزیر اعلی بلوچستان کو ارسال کردی تھے لیکن اب تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ہم وزیر اعلی بلوچستان جو محکمہ پلانینگ اینڈ ڈیویلپمنٹ کے وزیر بھی ہے اور ہمیشہ پائیدار ترقی اور محکموں میں بہتر نظم و ضبط کے خواہش مند رہیں ہیں، سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے مطالبات کی منظوری کیلئے ضروری ہدایات جاری کرے تاکہ لوگوں کو ترقیاتی منصوبوں کے معاشی، سماجی اور معاشرتی ثمرات پہنچ سکے۔

متعلقہ عنوان :

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments