میرے اغواء کار حیران تھے کہ میں تشدد کے باوجود رویا کیوں نہیں ،بازیاب ہونے والے پروفیسر ڈاکٹر لیاقت سنی

منگل دسمبر 23:50

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 01 دسمبر2020ء) بلوچستان سے پروفیسروں کا اغواء میرے اغواء کار حیران تھے کہ میں تشدد کے باوجود رویا کیوں نہیں جن لوگوں نے مجھے اور میرے دو پروفیسر ساتھیوں کو بندوق کے نوک پر اغوا کیا ان کا لب و لہجہ تلخ تھا اور یوں محسوس نہیں ہوتا تھا کہ ان کے نزدیک تعلیم اور درس و تدریس سے منسلک کسی استاد کی عزت اور اہمیت ہے وہ اس پر حیران تھے کہ میری آنکھوں میں آنسو کیوں نہیں آئے اور میں ان کے سامنے رویا کیوں نہیںیہ کہنا تھا بلوچستان یونیورسٹی کے سینئر استاد اور شعبہ براہوی کے چیئرمین ڈاکٹر لیاقت سنی کا جن کو گزشتہ جمعہ کے روز یونیورسٹی کے دو اساتذہ کے ساتھ اغوا کیا گیاڈاکٹر لیاقت سنی کے دونوں ساتھیوں کو اغوا کے چند گھنٹوں بعد رہا کر دیا گیا تھا لیکن ڈاکٹر لیاقت سنی کو دو روز بعد چھوڑا گیاڈاکٹر لیاقت سنی نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے کہ میں گاڑی چلارہا تھا جب ہم مستونگ میں ان کے اشارے پر رکے توان کا لب و لہجہ بہت زیادہ تلخ تھا انہوں نے مجھے گاڑی بند کرنے تک نہیں دی اور انہوں نے خود میری گاڑی کو بند کر کے اس کا چابی نکال لی میں نے ان کو بتایا کہ ہم یونیورسٹی کے اساتذہ ہیں لیکن انہوں نے میری بات کو سنے بغیر مجھے اور میرے ساتھ ہمسفر اساتذہ کو بھی باہر کھینچ لیا اور مجھے ان سے الگ ایک اور گاڑی میں دھکیلاانہوں نے میری آنکھوں پر پٹی باندھ کر اور ہاتھوں میں ہتھکڑی لگا کر گاڑی کی پچھلی نشست پر دھکیلا۔

(جاری ہے)

میرے دائیں اور بائیں ایک ایک آدمی بیٹھ گیاگاڑی نامعلوم سمت روانہ ہوئی اور اس کی رفتار تیز تھی۔ اندازا ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد گاڑی ایک جگہ تھوڑی دیر کے لیے رکی اس کے بعد مزید ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد مجھے ایک جگہ اتارا گیاآنکھیں پر پٹی کی وجہ سے میں یہ نہیں دیکھ سکا کہ وہ کیسی جگہ ہے لیکن ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ایک کمپانڈ تھا جہاں مجھے ایک کمرے میں رکھا گیامجھے جہاں رکھا گیا تھا وہاں سپیکر بھی لگے تھے جن سے رات کو نعت کی آوازوں کے علاوہ تلاوت کی آوازیں بھی آتی تھیں اور کبھی کبھی جذباتی تقاریر کی آوازیں بھی سنائی دیتی تھیںجب تک دن تھا تو مجھ سے کوئی بات کرنے نہیں آیا، تاہم رات کو لوگ آتے رہے وہ مجھ مختلف سوالات کے علاوہ یہ پوچھتے رہے کہ آپ کی جائیداد میں کیا کیا ہے اور یہ کہتے رہے کہ پیسوں کا انتظام کریں۔

پہلے انہوں نے پہلے میرے بچوں کا سیل فون نمبر لیا اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آئے اور کہا کہ اپنے بھائی کا فون نمبر دومجھے یہ بھی کہا گیا کہ آپ یونیورسٹی اسکینڈل میں ملوث رہے ہیں۔اس پر میں نے ان کو بتایا کہ یہ معاملہ تو ختم ہوگیا ہے اگر میرے خلاف کوئی ثبوت ہے تو لایا جائے پہلی رات کو ایک دو مرتبہ پوچھ گچھ کے بعد مجھے چھوڑ دیا گیا اور دوسرے روز پورا دن مجھ سے بات چیت کے لیے پھر کوئی نہیں آیا تاہم دوسری رات کو پھر لوگ آکر مختلف باتیں پوچھتے رہے ۔

دونوں راتیں مجھے ذہنی طور پر اذیت دینے کے علاوہ جسمانی طور پر تشدد بھی کیا جاتا رہا جس کی وجہ سے میرے لیے سونا ممکن نہیں رہا مجھے کھانا اور پانی دیا گیا لیکن میں ان کے تلخ لہجے کے پیش نظر کم پانی اور کم کھانا کھانے کی کوشش کی۔ ان کے غیر انسانی رویے کے باعث اس لیے کم کھایا اور پیا تاکہ مجھے پیشاب کے حوالے سے کسی مشکل صورتحال کا سامنا نہ ہوچھوٹے پیشاب کے لیے اس جگہ میں انتظام تھا جہاں مجھے رکھا گیا تھا۔

بڑے پیشاب کے لیے مجھے کہیں اور لے جایا گیا لیکن چونکہ میں نے محسوس کیا کہ وہ لوگ میرے قریب کھڑے ہیں جس کے باعث میں پیشاب نہیں کرسکا۔آپ کو معلوم ہے کہ ہم جس سماج میں پلے بڑے ہیں اس کے باعث ہمارے لیے لوگوں کی موجودگی میں پیشاب کرنا بھی مشکل ہوتا ہے مجھ سے جو لوگ سوالات کرتے تھے وہ پشتو زبان میں کرتے تھے اور ان کا پشتو کا لہجہ وہ نہیں تھا جو کہ ہمارے ہاں پشتو بولنے والوں کا ہوتا ہے بلکہ ان کا لہجہ اس طرح تھا جو کہ خیبر پختونخوا کے لوگوں کا ہے مجھے پشتو زیادہ نہیں آتی ہے تاہم جتنی آتی ہے میں اتنا جواب پشتو میں دیتا تھا جہاں پشتو میں جواب نہیں دے سکتا تھا تو اردو میں جواب دیتا تھا۔

دوسری رات کو مجھے ایک گاڑی میں بٹھاکر ایک مقام پر چھوڑ دیا گیا اتارتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں ہمارے لوگ موجود ہیں، آپ ادھر ٹھہریں ایک دوسری گاڑی آکر آپ کو کہیں اور لے جائے گی اس وقت اچھا خاصا اندھیرا تھا۔ گاڑی کے جانے کے بعد میں نے ادھر ادھر دیکھا۔ تا حد نگاہ مجھے کوئی انسان یا کسی انسان کی موجودگی کے آثار نظر نہیں آئے جس پر میں نے اندازہ لگایا کہ مجھے چھوڑ دیا گیا ہے اس لیے میں نے وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیاجہاں مجھے چھوڑا گیا وہاں سے دور مجھے روشنی نظر آئی جس کی جانب میں نے چلنا شروع کیا۔

اندازا چھ سے آٹھ کلومیٹر پیدل چلنے کے بعد میں جب ایک سڑک پر پہنچا تو اس وقت صبح کی آذانوں کی آوازیں آ رہی تھیںپہلے مجھے لگا کہ یہ سوراب کا علاقہ ہے لیکن تھوڑی دیر چلنے کے بعد مجھ ریلوے کا ٹریک نظر آیا تو میں نے کہا کہ یہ کوئی اور علاقہ ہوسکتا ہے کیونکہ سوراب میں ریلوے کا ٹریک نہیں ہے۔ریلوے ٹریک کے قریب پختہ سڑک پر علی الصبح روڈ پر جو گاڑیاں گز رہی تھیں میں نے ان کو روکنے کی کوشش کی لیکن شاید ڈر اور خوف کی وجہ سے دو تین گاڑیاں نہیں رکیں۔

تاہم ایک گاڑی رکی تو میں نے اس کے ڈرائیور کو یہ نہیں بتایا کہ میرے ساتھ کوئی ایسا واقعہ پیش آیا ہے بلکہ ان کو بتایا کہ میری گاڑی چھینی گئی ہے۔ جس کے باعث میں اس وقت یہاں کھڑا ہوںگاڑی والے نے اس پر افسوس کا اظہار کیا اور میرے پوچھنے پر بتایا کہ جہاں میں کھڑا ہوں یہ پنجپائی کا علاقہ ہے جو کہ کوئٹہ شہر سے بہت دور ہے لیکن انتظامی لحاظ سے ضلع کوئٹہ کا حصہ ہے۔

انہوں نے مجھے کوئٹہ میں اپنے گھر تک پہنچایا۔مجھے ابھی تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ اس سلوک کا کیوں نشانہ بنایا گیا۔ میں حیران ہوں کہ اول تو کوئٹہ کراچی جیسی اہم شاہراہ پر اتنی بڑی تعداد میں تین گاڑیوں کے ساتھ مسلح نقاب پوش افراد کیسے کھڑے تھے وہاں یہ لوگ کہاں سے آئے اور کس طرح ہماری انتظار میں اطمینان کے ساتھ ایک اہم شاہراہ پر کھڑے رہے وہ لوگ کم از کم دو ڈھائی گھنٹے تک ہم کو لے کر چلتے رہے ،کسی نے ان سے نہیں پوچھا کہ مسلح ہوکر آپ لوگ کہاں سے آئے اورکہاں جا رہے ہو یہ لمحہ فکریہ ہے، اگر یہ صورتحال ہے تو پھر یہاں کوئی محفوظ نہیں ہے اگرچہ انہوں نے مجھے چھوڑ دیا ہے لیکن مجھے اب بھی ان لوگوں سے خطرہ ہے۔

میں یہ بات متعلقہ حکام اور حقوق انسانی کی تنظیموں کے نوٹس میں لانا چاہتا ہوں۔ڈاکٹر لیاقت سنی نے بتایا کہ انہوں نے زندگی میں بہت سارے تلخ تجربات دیکھے لیکن یہ ان کی زندگی کا ایک تلخ ترین تجربہ تھا اغواء کاروں کا جو لب و لہجہ تھا اس سے نہیں لگتا تھا کہ ان کے لیے استاد اور تعلیم دینے والوں کی عزت اور احترام ہے شاید یہ لوگ مجھے فوری طور پر نہیں چھوڑتے اور بہت زیادہ دیر تک رکھ کر اذیت کا نشانہ بناتے لیکن اساتذہ اور سول سوسائٹی کے فوری رد عمل کے سامنے ان کی درندگی شکست کھا گئیان لوگوں نے تشدد کرنے کے علاوہ نہ صرف تلخ رویہ اختیار کیا بلکہ مجھے یہ تک کہا کہ اگر وہ پیسوں کا انتظام نہیں کریں گے تو وہ میری انگلی کاٹ کر میرے گھر والوں کو بھیجیں گے تشدد اور تلخ رویے کے باجود جب میرے آنکھوں سے آنسو تک نہیں آئے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ میرے آنکھوں سے آنسو کیوں نہیں آئے اور میں رویا کیوں نہیں میں نے ان کے تلخ رویے سے شروع میں ہی محسوس کیا کہ یہ لوگ دبلوچستان میں 2000ء کے بعد حالات کے خرابی کے باعث بلوچستان یونیورسٹی کی ایک خاتون سمیت چار اساتذہ کو ہلاک کیا گیا جس کی وجہ سے بعض اساتذہ کو یہاں سے جانا بھی پڑا لیکن یونیورسٹی کے اساتذہ کے اغوا کا یہ منفرد واقعہ تھا اگرچہ مستونگ پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے لیکن تاحال سرکاری سطح پر اس کے محرکات کے بارے میں نہیں بتایا گیابلوچستان میں 2007 کے بعد اغوا کے واقعات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا جو کہ کمی و بیشی کے ساتھ اب بھی جاری ہیں لیکن 2016تک جن تاجروں اور ڈاکٹروں کو اغوا کیا گیا ان سے نہ صرف بھاری تاوان وصول کیا گیا۔

لیکن تینوں پروفیسروں کی رہائی میں بہت زیادہ تاخیر نہیں کی گئی اور ان کی بازیابی کسی تاوان کی ادائیگی کے بغیر ممکن ہوئی

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments