پی ڈی ایم کا بلوچستان میں تحریک عدم اعتماد کی حد تک کوئی تعلق نہیں ہے ، ملک سکندر خا ن ایڈوکیٹ

یہ متحدہ اپوزیشن جماعتوں کے پلیٹ فارم سے جمع کی گئی ہے، ہم 24گھنٹے حکومتی ارکان سے رابطے میں ہیں ان پر جب دبائو آتا ہے تو انہیں جیک دیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے پائو ں پر کھڑے رہیں ،بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر

منگل 21 ستمبر 2021 00:18

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 ستمبر2021ء) بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خا ن ایڈوکیٹ نے کہا ہے پی ڈی ایم کا بلوچستان میں تحریک عدم اعتماد کی حد تک کوئی تعلق نہیں ہے یہ متحدہ اپوزیشن جماعتوں کے پلیٹ فارم سے جمع کی گئی ہے، ہم 24گھنٹے حکومتی ارکان سے رابطے میں ہیں ان پر جب دبائو آتا ہے تو انہیں جیک دیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے پائو ں پر کھڑے رہیں ، ہم نے بلوچستان کے 1کروڑ 20لاکھ عوام کے حقوق، امن و امان کے لئے تحریک عدم اعتماد جمع کی اس میں کوئی ذاتی ایجنڈا شامل نہیں ، ہم جام کمال کو کسی بھی صورت وزیراعلیٰ نہیں دیکھنا چاہتے چاہے تحریک حزب اختلاف کی ہے اور ہم ہی اسے کامیاب بنانے کی کوشش کریں گے ۔

یہ بات انہوں نے بلوچستان اسمبلی میں ارکان اسمبلی نصر اللہ زیرے، میر یونس زہری، احمدنواز بلوچ، میر حمل کلمتی ، بابورحیم مینگل کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔

(جاری ہے)

ملک سکندر خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ حکومت کے درمیان معاہدے سے ہمارا تعلق نہیں ہے ہم سن رہے تھے کہ دو دن پہلے وزیراعلیٰ نے استعفیٰ دیناتھا ہمارے ساتھ نہ کوئی معاہدہ ہوا اور نہ ہی کسی معاہدے کے لئے ہم نے تحریک پیش کی ہے ہم صرف یہی چاہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ جام کمال نہ رہیں انہوں نے کہا کہ ہم 24گھنٹے حکومتی ارکان سے رابطے میں ہیں ان پر جب دبائو آتا ہے تو انہیں جیک دیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے پائو ں پر کھڑے رہیں انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتمادمیں ہم نے بلوچستان ،یہاں کے حقوق، وسائل ، امن وامان، ظلم و جبر پر بات کی ہے اس میں ہماری ذات کی کوئی چیز نہیں ہے ہم نے میرٹ کی بات کی ہے انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پی ڈی ایم کی بنیاد پر نہیں بلکہ بلوچستان اسمبلی کی متحدہ اپوزیشن جماعتوں نے یہ تحریک پیش کی ہے اگر ہماری جماعتوں کا تعلق پی ڈی ایم کے ساتھ ہے تو خدا کرے پی ڈی ایم کو عزت ملے اس سے ہمیں کیا پی ڈی ایم کا بلوچستان میں تحریک عدم اعتماد کی حد تک کوئی تعلق نہیں ہے انہوں نے کہا کہ 14ستمبر کو نام نہاد وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی ہے اسمبلی سے گورنر ہائوس اجلاس بلانے کے لئے سمری ارسال کی گئی سمری پر وزیراعلیٰ نے گورنر اور دیگر حکام کے ساتھ ملکر نقائص چھوڑے ہیں سمری کو چیف سیکرٹری کے ذریعے بجھوایا گیا جو کہ اسمبلی کے قائدہ 35کے تحت درست نہیں تھی انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ عزم ہے کہ چاہے جتنی بھی غلطیاں کی جائیں یا روڑے اٹکا ئے جائیں ہم تحریک عدم کو ہر صورت کامیاب بنائیں گے ہم جام کمال کو کسی بھی صورت وزیراعلیٰ نہیں دیکھنا چاہتے چاہے تحریک حزب اختلاف کی ہے اور ہم ہی اسے کامیاب بنانے کی کوشش کریں گے انہوں نے کہا کہ اسپیکر اس صورت میں اجلا س بلاتا ہے کہ جب حزب اختلاف کی طرف سے ریکوزیشن دی جائیگی تحریک عدم اعتماد میں ریکوزیشن کرنے کی ضرورت نہیں ہے تحریک عدم اعتماد میں 20فیصد ارکان کی جانب سے تحریک پیش کرنے کی اجازت ملنے کے کم سے کم تین اور زیادہ سے زیادہ سات روز میں اجلا س طلب کر کے تحریک پر ووٹنگ کروائی جائیگی وہاں تحریک عدم اعتماد کے حق میں اکثریت ثابت کرنی ہے جو ہونے کے بعد وزیراعلیٰ عہدے پر برقرار نہیں رہیں گے وزیراعلیٰ کا جانا تو ٹہر چکا ہے سمری واپس کئے جانے کے قانونی کاغذات ملنے کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ ہم نے اس سے کیسے نمٹنا ہے انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر اجلاس بلایا جانا لازمی ہے جو بھی رکاوٹ آئی ہے ہم قانونی اور جمہوری جدوجہد کریں گے

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments