ڈی جی آئی ایس آئی کے معاملے پرجاری تنائو ملک اوراداروں کے مفادمیں نہیں ،میاں افتخار حسین

وزرا ء سب ٹھیک ہے کارٹ لگائے بیٹھے ہیں تو پھر فیصلہ کیوں نہیں ہوپاتاکچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہورہی ہے اس نازک صورتحال پرقوم کواعتماد میں لیاجائے ، سیکرٹری جنرل عوامی نیشنل پارٹی

ہفتہ 16 اکتوبر 2021 21:46

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 اکتوبر2021ء) عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے معاملے پرجاری تنائو ملک اوراداروں کے مفادمیں نہیں ،وزرا ء سب ٹھیک ہے کارٹ لگائے بیٹھے ہیں تو پھر فیصلہ کیوں نہیں ہوپاتاکچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہورہی ہے اس نازک صورتحال پرقوم کواعتماد میں لیاجائے حکومت نے نیب نظام کوآرڈیننس کے ذریعے تبدیل کرکے اپنے کرپٹ لوگوں کوبچانے کیلئے این آر او دیدیا اداروں کے درمیان بداعتمادی اورغیر یقینی صورتحال کی وجہ سے معیشت تنزلی کاشکار اوراسٹاک ایکسچینج بری طرح کریش کرگیاہے آئینی معاملات کوآرڈیننس کے ذریعے چلایاجارہاہے جس سے پارلیمنٹ کی بے توقیری ہورہی ہے نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پربغیرکسی تمیز کے کارروائی عمل میں لانے سے ہی دہشتگردی وانتہاپسندی کی بیخ کنی ممکن ہے یہ امرانتہائی تشویشناک ہے کہ ملک بھر بالخصوص پشتونخوااور بلوچستان میں دہشتگرددوبارہ منظم ہورہے ہیں کیا ہم ایک اور اے پی ایس جیسے سانحہ کے انتظار میں ہے افغانستان ایک آزاد اورخودمختارملک ہے بیرونی ممالک کوان کے معاملات میں مداخلت سے اجتناب برتنا ہوگاوہاں کی صورتحال تشویشناک ہے دنیا میں جہاں بھی لوگ بھوک وافلاس کے شکارہوں تووہاں پربدامنی کاپیداہونا فطری عمل ہے دنیا افغانوں کودرپیش مشکلات اورلاحق خطرات کو مدنظررکھتے ہوئے ان کی زندگی بچانے کیلئے انسانی بنیادوں پراقدامات اٹھانے ہوں گے کابل ،قندوز دھماکوں کے بعد قندہار میں دھماکہ اوراس کے نتیجے میں سینکڑوں بے گناہ شہریوں کا لقمہ اجل بننا قابل تشویش ہے،حکومت آئی ایم ایف کے شرائط پوراکرنے کیلئے مہنگائی کاطوفان برپا کئے ہوئے ہیں ،ایکسپورٹ ختم ،مہنگائی عروج پر کارخانے بند ہے نااہل حکمران کرسی بچانے کیلئے پاکستان کو گروی رکھ کرحکومتی معاملات ،قرض اتارنے کیلئے غریب عوام پرآئے روز ٹیکسوں میں اضافہ کرکے وصول کررہی ہے ہرنائی میں نقصانات بہت زیادہ ہوئے ہیں البتہ گرم موسم کی وجہ سے انسانی جانی نقصان کم ہوئی ہیں وفاقی حکومت کی جانب سے زلزلہ زدگان کو یکسربھلادیاگیاہے صوبائی حکومت کی جانب سے ہرنائی کوآفت زدہ قراردینا دیرآیددرست آید کے مصداق کے طورپردکھی انسانیت کی فلاح وبہبودکیلئے معاون ومددگارثابت ہوگی جس پرعوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے کی گئی کوششیں قابل اطمینان ہے پارٹی قائد،اسفندیار ولی خان کی ہدایت پرعوامی نیشنل پارٹی /خدائی خدمت گار آرگنائزیشن کی جانب سے زلزلہ زدگان کیلئے 10لاکھ روپے امداد دی گئی ہے گو کہ یہ انسانی جانوں کانعم البدل تونہیں لیکن مصیبت میں گرے عوام کے ساتھ اظہار ہمدردی و یکجہتی ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ پریس کلب میں پارٹی رہنماں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدروپارلیمانی لیڈراصغر خان اچکزئی، خدائی خدمتگار تنظیم کے سالار اعظم ڈاکٹر شمس الحق،صوبائی وزیرزراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی،ایڈیشنل سیکرٹری جنرل صاحب جان کاکڑ صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا مرکزی جوائنٹ سیکرٹری رشید خان ناصرصوبائی ڈپٹی سیکرٹری سید عبدالباری آغا،صوبائی سالار اعلی شاہ جہان آغا، ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی نذر علی پیر علی زئی ودیگر بھی موجود تھے۔

میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہرنائی میں افسوس ناک زلزلہ آیا تھا جس سے بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے گرم موسم کے اعتبار سے انسانی جانی نقصان کم ہوا اب بھی آفٹر شاکس جاری ہے۔ ہرنائی زلزلہ متاثرین کو اس طرح نہیں پوچھا جس طرح پوچھنا چاہیے صورت حال انتہائی افسوس ناک ہے دی جانے والی امداد انتہائی کم ہے ہرنائی میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور آفت زدہ قرار دینے میں دیر کردی گئی اب شاید لوگوں کو احساس ہوا بدقسمتی سے مرکزی حکومت کی جانب سے اب تک خاموشی اختیار کی گئی ہے جس سے احساس محرومی میں اضافہ ہوگا۔

قدرتی آفت کیلئے وفاقی و صوبائی سطح پر فنڈز مختص کئے جاتے ہیں اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان کی ہدایت پر عوامی نیشنل پارٹی/خدائی خدمت گار آرگنائزیشن کے ذمہ داران نے وہاں جاکر حالات کاجائزہ لیااملاک کوبہت زیادہ نقصان پہنچاہیانہوں نیکہا کہ جب کبھی اس طرح کاآفت آتاہے تو پھر لوگ بیماریوں کے بھی شکار ہو جاتے ہیں تمام مخیر حضرات اوراداروں سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپیل کرتے ہیں کہ وہ صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے لوگوں کے درد میں خود کو شریک کریں۔

انہوں نے کہا کہ باچا خان خدائی خدمت گار تنظیم کے پلیٹ فارم سے ہم امداد اور یکجہتی کیلئے ہرنائی گئے اب بھی سب کو احساس ہونا چاہیے اور انسانیت کی اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کہتی ہے دنیا میں مہنگائی بڑھ رہی ہے اس وجہ سے پاکستان میں مہنگائی بڑھ رہی ہے حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے جو معاہدے ہوئے ہے ان کی ایما پر ہی مہنگائی مسلط کردی گئی ہے ،پاکستان 50فیصد تیل خود پیداکرتاہے اور نااہل اپنے ہی پیداوار کو بین الاقوامی مارکیٹ کے ریٹ پرعوام پر فروخت کررہی ہے۔

حکومت کو عوام کی کوئی فکر نہیں ہے جو بھوک کے مارے خودکشی کرے انکو پتہ ہوتا ہے مہنگائی کیا ہے۔پاکستان میں راتوں رات پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے اپنی پیداوار کو بین الاقوامی سطح کے مطابق مہنگا کررہے ہیں عمران خان تو ویسے بھی سلیکٹڈ وزیر اعظم ہے پاکستان میں عوام کی قوت خرید انتہائی کم ہے جب کوئی قوت خرید کی استطاعت نہیں رکھتا تو انہیں پتہ ہوتا ہے کہ مہنگائی کس بھلا کا نام ہے۔

ایکسپورٹ ختم ہو کر رہ گئی ہے کارخانے بند کاروبار نہ ہونے کے برابر ہے جب خزانہ خالی ہوں تو عوام کا خون چوسنا شروع کیا جاتا ہے نااہل حکمرانوں نے پاکستان کو گروی رکھ دیا ہے۔ حکومت بھی عوام سے چلائو قرض بھی اتارو ٹیکس بھی دو حکمران صرف کرسی کی خاطر عوام پر جو ظلم ڈھا رہی ہے عوامی نیشنل پارٹی اس کی سخت مذمت کرتی ہے۔ مہنگائی کے موجودہ حالات میں غریب کا گزر بسر انتہائی مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کا پتہ نہیں کہ وہ کس حالت میں بولتے ہیں پشتونوں کو دہشت گرد قرار دیا گیا انہیں ایک منٹ بھی اس منصب پر نہیں رہنا چاہیے۔ دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار پشتون ہوئے ۔ پشتونوں کو مٹانے کیلئے دہشت گردی مسلط کی گئی۔ باہر کے صحافیوں کو انٹرویو دیا جاتا ہے ورنہ پاکستانی صحافی تو انہیں بتا دیں گے کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں جتنے جھوٹ ہمارے موجودہ وزیر اعظم بول چکے ہیں شاید ہی دنیا میں کوئی بول گیا ہوں۔

ہم امن پسند اور عدم تشدد پر یقین رکھنے والی قوم ہے ہم نے وطن کی خاطر قربانی دی ہے۔ اور آئندہ بھی بھر پور مقابلہ کریں گے۔صحافیوں کے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہاکہ اس وقت ملک پرجعلی وزیر اعظم مسلط ہے اگرمرکز کاوزیراعظم سلیکٹڈ ہے تو اس کے اثرات صوبوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں خیبر پختونخوا میں دودفعہ احتجاج کر چکے ہیں عوام اتنی پس چکی ہے کہ انہیں ایک وقت کی روٹی بھی مشکل ہے مرکزی کمیٹی سمیت ہر پلیٹ فارم پر احتجاج کر چکے ہیں۔

لوگوں میں شعور آرہی ہے ،انہوں نے کہاکہ مہنگائی سے عوام تکلیف میں ہے اس سلسلے میں تمام سیاسی جماعتوں ،سماجی تنظیموں کویکجا ہونا چاہیے عوامی مسائل کو اٹھانے کی ضرورت ہے سیاسی سطح پر ہو یا سماجی سطح پرافغانستان ایک آزاد و خود مختار ملک ہے کسی کو اس ملک میں مداخلت نہیں کرنا چاہیے۔ افغانستان میں دہشت گردی ختم نہ ہوسکی دنیا کو افغانستان کے معاملے پر توجہ دینی ہوگی وہاں دہشت گردی ختم ہوں تو یہاں بھی امن آسکتی ہے۔

حکومت خود کہہ رہی ہے کہ یہاں ٹی ٹی پی منظم ہو چکی ہے 20 نکاتی ایجنڈا موجود ہیں جو آرمی پبلک اسکول پشاور کے بچوں کے خون کے مرہون منت ہے اس ایجنڈے پر عمل کیوں نہیں ہو رہا ہے۔ کیا ہم کسی اور سانحہ کے انتظار میں ہیں۔ افغانستان میں لوگ کھانے پینے کیلئے ترس رہے ہیں انسانی بنیادوں پر اس طرف توجہ دی جائے ایسا نہ ہو کہ بھوک کی وجہ سے دہشت گردی دوبارہ بڑھ جائے۔

میاں افتخار حسین نے کہاکہ 10 دن ہوئے ہیں ڈی جی آئی ایس آئی سے متعلق ایک صورت حال بن چکی ہے یہ صورتحال اداروں کے مفاد میں نہیں ہے اندرونی مسئلہ کو باہر لاکر ملک کامذاق بنادیاگیاہے لوگ ہم پر ہنس رہے ہیں۔ اداروں کے درمیان فاصلے ملک کے لئے ٹھیک نہیں ہوگاہر وزیر کہتا ہے کہ سب ٹھیک ہے جب سب ٹھیک ہے تو پھرفیصلہ کیوں نہیں ہوپارہا،اس نازک صورتحال میں عوام کو اعتماد میں لیا جائے کہ اندرون خانہ کیا ہو رہا ہے۔

نااہل ٹولہ ویسے بھی تمام معاملات کو آرڈیننس کے ذریعے چلائے رہے ہیں۔ نازک صورتحال ہے آئین کی بالادستی ہو تمام اداروں کو آئین کے مطابق چلنا چاہیے۔ اس موقع پر صحافی کے سوال کاجواب دیتے ہوئے اصغر خان اچکزئی نے کہاکہ وزیراعلی جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ ہے،عدم اعتمادتحریک کا اس وقت جولوگ قیادت کررہے ہیں وہ اسپیکرکے کس بات سے متاثر ہوئے ہیں تحریک عدم اعتماد کے مستقبل میں خطرناک نتائج برآمدہونگے پی ڈی ایم کے سربراہ کا سافٹ ویئر بقول ایمل ولی خان اپ ڈیٹ ہوگیاہے انہوں نے کہاکہ حیران ہوں کہ بی این پی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور جمعیت جیسی بڑی جماعتیں اسپیکر کوغیراعلانیہ طورپرپارلیمانی لیڈرمان چکے ہیں۔

اکثریت والے حکومت اوراقلیت والے باہر ہوں گے۔ ہم مسلسل ہرنائی زلزلے کے متاثرین کے ساتھ رابطے میں رہے سیاسی جماعتوں کو عوام سے صرف ووٹ تک کا ناطہ نہیں رکھنا چاہیے۔ ہرنائی کے معاملے پر وہاں سے ماضی میں منتخب جماعتیں خاموش ہے جام کمال سے رابطے میں ہیں جام کمال نے ایک گھنٹے میں ہرنائی کو آفت زدہ قراردیا انہوں نے کہاکہ آج کا صورت حال اور کل کا صورت حال مختلف ہے اس وقت پوری مسلم لیگ ایک طرف ہو گئی نواب زہری نے خوداستعفی دیکر ایک طرح سے اس گروپ کا حصہ بن گئے تھے۔

جمہوری اصولوں کو پاوں تلے روندا جارہا ہے۔ اپوزیشن وزیر اعلی بنانے کی کوششوں میں ہے یہ یکجہتی اپوزیشن کے سینیٹ میں کیوں دیکھنے کو نہ۔ملی جب اپوزیشن میں شامل جماعتوں نے سینیٹ کی جیتی ہوئی نشست حکومت کو دی۔عثمان خان کاکڑ جب امیدوار تھا اس کو کیوں کامیاب نہیں کرایا گیا اپوزیشن کے دورکن ادھر ادھر ہوئے ان کے خلاف کونسی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ مولانا کا یہ بیان کی ایک ہی ادارہ امید کی کرن ہے کے پیچھے کونسی وجوھتا کار فرما ہییاں ہم شروع دن سے اس کو سازش سمجھتے ہیں۔

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments