پی ڈی ایم وزیراعلیٰ جام کما ل خان کی حکومت کے خلاف ساز ش کرکے جمہوریت کو کمزور کر رہی ہے ،لیا قت شاہوانی

مولانا فضل الرحمن، سردار اختر مینگل ، محمود خان اچکزئی بتائیںکہ ماضی میں جتنی بھی حکومتیں گرائی گئیں کیا وہ درست عمل تھا ترجمان حکومت بلوچستان

ہفتہ 16 اکتوبر 2021 21:46

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 اکتوبر2021ء) ترجمان حکومت بلو چستان لیا قت شاہوانی نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم وزیراعلیٰ جام کما ل خان کی حکومت کے خلاف ساز ش کرکے جمہوریت کو کمزور کر رہی ہے مولانا فضل الرحمن، سردار اختر مینگل ، محمود خان اچکزئی بتائیںکہ ماضی میں جتنی بھی حکومتیں گرائی گئیں کیا وہ درست عمل تھا ہم اپنے دوستوں کو منانے میں کامیاب ہوں گے پی ڈی ایم کو ہر جگہ شکست اور ناکامی ہو گی،وزیر اعلیٰ بلو چستان اور بلوچستان کے عوام ،بلو چستان عوامی پارٹی کے خلاف جو سا زشیں کر رہے ہیں انہیں یہاں پر بھی منہ کی کھانی پڑے گی اور انکی یہ سا زش بھی ناکام ہو گی اور پی ڈی ایم والے منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہیں گے ۔

یہ بات انہوں نے ہفتہ کو آفیسرزکلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ ہر نائی میں زلزلے متاثرین کے لئے ریسکیو آپریشن پہلے ہی مکمل کر لیا گیا اور ریلیف آپریشن تکمیل کے مراحل میں ہے املاک کو جو نقصان ہو اہے 60فیصدرپورٹ آچکی ہے وزیر اعلیٰ بلو چستان جام کما ل خان کی ہدایت پر ہرنائی کو آفت زدہ علا قے قرار دیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ مشکل کی اس گھڑ ی میں حکومت اپنی عوام تنہا نہیں چھو ڑے گی ہم انکے سا تھ ہیں متاثرین کی ہر ممکن طور پر مالی مدد کی جائے گی ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ محمود خان اچکزئی کی پارٹی کے ایم پی اے جو پی ڈی ایم کا حصہ ہیں وہ بھی جمہو ر یت کی جمہو ر ی اصولوں کی ، جمہو ر ی بالا دستی کی استحکام کی با تیں کر رہے ہیں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ اس وقت جمہو ریت اور جمہو ری اصولوں کے سا تھ کھڑے رہیں گے یا پھر پی ڈی ایم گرینڈ سازش کو سپورٹ کر تے ہوئے اپنے اصولوں سے ہٹ کر وزیر اعلیٰ کے خلاف سازشوں کا سلسلہ جا ری رکھیں گے انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم نے فیصل آباد میں تماشہ بننے کے لئے میدان سجا لیا ہے اور میں ٹی وی پر دیکھ رہا تھاکہ اتنے بڑے جلسہ گاہ میں فیصلے کے سا تھ دور دور تک کر سیاں رکھی ہوئیں ہیں لائٹنگ، ٹینٹوں اور ڈرون کے ذریعے جو ڈرامے با زی کر رہے ہیں یہ جلسہ نہیں ہے فیصل آباد کی عوام نے پی ڈی ایم کے جلسے کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور انکے جلسے کی ناکامی انکی با توں اور جلسہ گاہ کی سیٹنگ سے بلکل عیاں ہیں پی ڈی ایم گز شتہ ایک سال ایک بھی بڑ ا جلسہ نہیں کر سکی اورترقی کر نے کے بجائے انکی تعداد کم ہو گئی ہے انکی سا زش ہے کہ وہ وفا قی حکومت ، پنجاب حکومت ، کے پی کے حکومت اور بلو چستان حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں گے اور انکی حکومت کو چلنے نہیں دیں گے اور انکی سا زشوں کا سلسلہ جا ری و سا ری رہا لیکن ہر سا زش کے بعد یہ رسوا ہو تے رہے ہیں انہوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایوان میں اعتماد کو ووٹ لیں اور جب وزیر اعظم نے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا تو پی ڈی ایم والے جنکی ڈیمانڈ تھی وہ اسمبلی فلور سے مقابلے کر نے بجائے غائب ہو گئے سینٹ کے انتخابات میں شکست کے بعد اب یہ بلو چستان میں جو سا زشیں کر رہے ہیں وزیر اعلیٰ بلو چستان اور بلوچستان کے عوام ،بلو چستان عوامی پارٹی کے خلاف جو سا زشیں کر رہے ہیں انہیں یہاں پر بھی منہ کی کھانی پڑے گی اور انکی یہ سا زش بھی ناکام ہو گی اور پی ڈی ایم والے منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہیں گے پی ڈی ایم والے جو جمہو ریت کا اور گڈ گورنز کا دعویٰ کر تے ہیں جو بار ہاں کہتے رہے ہیں کہ اسمبلیوں کو اپنی مدت ہر صورت پوری کر نی چاہیے جو ہمیشہ جمہوریت اور جمہوری اداروں کی بات کر تے رہے ہیں آج وہی پی ڈی ایم کی جما عتیں ایک منتخب حکومت اور وزیر اعلیٰ بلو چستان جس کی بہترین کا ردگی ہے اسکے خلاف سا زش کر کے حکومت کو گر انے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں اگر حکومت گرانا وزیر اعلیٰ کی تین سال مدت گزنے کے بعد انکو ہٹانا بہترین عمل ہے تو کچھ تاریخی سوالات اٹھتے ہیں انہوں نے کہا کہ بلو چستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سر دار اختر جان مینگل سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ نیپ کی حکومت کو جب ذوالفقار علی بھٹو نے ختم کیا اور مر حوم سر دار عطاء اللہ مینگل کی حکومت کو ختم کر کے پیپلز پارٹی کی حکومت کو لایا گیا تو کیا بھٹو صاحب کایہ فیصلہ درست تھا انہوں نے میں مولانا فضل الرحمن نے پوچھنا چاہتا ہوں کہ مولانا مفتی محمود نے سر دار عطاء اللہ مینگل کے سا تھ یکجہتی کااظہار کر تے ہوئے کے پی کے حکومت سے استعفیٰ دے دیا تھا کیا مولانا مفتی محمود کا وہ فیصلہ درست تھا یا پھر جو مولانا فضل الرحمن کی جماعت آج بلو چستان میں کر نے جا رہی ہے وہ درست ہے انہوں نے کہا کہ سر دار اختر جان مینگل کی حکومت کو ختم کر کے میاں محمد نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے وزیر اعلیٰ کو بلو چستان میں منتخب کیا تو سر دار اختر بتائیں میاں نواز شریف نے صحیح کیا شہید نواب اکبر خان بگٹی کی حکومت کو ختم کر کے تا ج محمد جما لی کو لایا گیا کیا انکے اثرات مثبت مرتب ہوئے انہوں نے کہا کہ بلو چستان میں نواب ثناء اللہ زہری کی حکومت کے خاتمے میں سر دار اختر جان مینگل کی جماعت ، قدوس بزنجو،جمعیت علماء اسلام انکے سا تھ تھے انہوں نے ملکر نواب ثناء اللہ زہری کو حکومت کوختم کیا کیا یہ فیصلہ ٹھیک تھا کیا اسکے اچھے اثرات مر تب ہوئے آج آپ سمجھ رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ بلو چستان جام کما ل خان کے خلاف عدم اعتماد لاکر انکی حکومت ختم کر نا چاہتے ہیں 14ستمبر کو پی ڈی ایم نے جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی انہیں یقین تھا وہ جام کما ل خان کو نہیں ہٹا سکتے تو اب انہوں نے ناراض ارکان کے سہا را لیا پی ڈی ایم نے اعتر اف کیا ہے کہ یہ چنگاری ہم نے لگائی ہے اب انکا یہ پلان ہے کہ وہ اب اپنی قرار داد پیچھے ہٹ گئے ہیں ہما را ناراض دوستوں کو استعمال کر رہے ہیں انہوںنے کہاکہ سر دار اختر مینگل نے کہا ہے کہ جام کما ل خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کر نے کے کئے دھکا لگائیں گے یہ جام کما ل کو دھکا نہیں لگا رہے بلکہ جمہو ریت کو لگا رہے ہیں پی ڈی یم کو معلوم ہے کہ جن 14اراکین سے دستخط کئے ہیں وہ انکے پاس نہیں ہوں گے وہ باپ پارٹی کو کمزور کرنا چاہتے ہیں باپ پارٹی کے ناراض اراکین کو آگے لگا کر وہ باپ پارٹی کے خلاف سا زش کر رہے ہیں اورہما رے دوست انہیں ہیں سمجھ رہے انہوں نے کہا کہ نا راضگی تب تک قائم رہنی چاہئے جب تک آپ سے کوئی رابطہ نہیں کرے جو آپکے تحفظات ہیں سنے جا رہے ہیں تو ناراضگی کس بات کی ہے ہم اپنے دوستوں کو منانے میں کامیاب ہوں گے پی ڈی ایم کو ہر جگہ شکست ہو گی پی ڈی ایم کو فیصل آباد کے جلسے میں بھی ناکامی ہو گی

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments