بلدیاتی سسٹم کی افادیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ،میر عابد حسین لہڑی

ضرورت اس امر کی ہے سسٹم کو فعال اور مستحکم بنانے کیلئے اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح پر منتقل کرکے لوگوں کو ان کی دہلیز پر سہولیات فراہم کی جائیں

ہفتہ 16 اکتوبر 2021 21:50

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 اکتوبر2021ء) لوکل کونسل ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر میر عابد حسین لہڑی اور دیگر نمائندوں محمد انور حسین ، سردار منظور احمد پرکانی، اورنگزیب جمالدینی، رحیم کرد، جاوید حسنی، عیسیٰ روشان، یحییٰ خان ناصر، محمد اسلم رند سمیت دیگر نے کہا ہے کہ بلدیاتی سسٹم کی افادیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سسٹم کو فعال اور مستحکم بنانے کے لئے اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح پر منتقل کرکے لوگوں کو ان کی دہلیز پر سہولیات فراہم کی جائیں۔

پہلے بھی عدالت عظمیٰ کے احکامات کی روشنی میں سب سے پہلے بلوچستان میں انتخابات عمل میں لائے گئے اب پھر عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد ہی اس سسٹم کی بحالی اور استحکام کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔

(جاری ہے)

یہ بات انہوں نے ہفتہ کو کوئٹہ کے نجی ہوٹل میں منعقدہ منعقدہ سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں بلوچستان بھر سے لوکل کونسل ایسوسی ایشن بلوچستان کے نمائندے شریک تھے۔

مقررین نے کہا کہ دنیا بھر میں بلدیاتی سسٹم کو ترجیحی بنیادوں پر عوام کو ان کی دہلیز پر سہولیات کی فراہمی کے لئے فعال بنایا جاتا ہے لیکن ہمارے ملک میں اس بنیادی نظام کی افادیت کے ثمرات عوام تک منتقل کرنے اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی میں رکاوٹیں پیدا کی جاتی ہے جس کی وجہ سے یہ سسٹم پوری طرح فعال اور مضبوط نہیں ہوسکا مقررین کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے صوبائی حکومتوں اور وفاقی حکومت کو بلدیاتی انتخابات کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا پڑا لوکل گورنمنٹ کی سسٹم کی افادیت سے کوئی بھی شخص انکار نہیں کرسکتا لوکل کونسل ایسوسی ایشن چاروں صوبوں اور وفاق میں فعال ہے جس کے تحت ہم اپنے مسائل کے حل اور اس سسٹم کی مضبوطی کے لئے آگے بڑھ رہے ہیں کیونکہ تحفظات اور مسائل کو دور کرنے کے لئے ملکر ہی جدوجہد کی جاسکتی ہے اور ملک بھر میں بلدیاتی سسٹم کے لئے ہم نے متحد ہوکر اس سسٹم کی بحالی میں حائل رکاوٹوں اور تحفظات کو دور کرنا ہے۔

جب تک ہم متحد ہوکر معاملات کو بہتر نہیں بناتے اس وقت تک یہ مسائل حل نہیں ہوسکتے کیونکہ ماضی میں بلدیاتی سسٹم کے دوران فنڈز اور وسائل کے حصول اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے لئے چیئرمینز اور ڈپٹی چیئرمینز نے اس لوکل کونسل کے تحت تنظیم بناکر احتجاج کیا اور اس وقت کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرکے ترامیم بھی کروائہی جس پر ہم سب متفق تھے اس کے بعد اس سسٹم کو تواتر کے ساتھ آگے بڑھانے کے لئے وہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے جن کی ضرورت تھی آج کے اجلاس میں بھی ہمارے کئی نمائندے شریک نہیں ہوئے ہمیں چاہئے کہ ہم بلوچستان بھر میں ضلعی سطح پر اپنے اجلاس منعقد کریں اور ایگزیکٹو کمیٹی ممبران اجلاس بلائے جس طرح صوبائی حکومتوں کے بجٹ میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اس تناسب سے بلدیاتی سسٹم کے تحت ہمارا بجٹ بھی بڑھے گا۔

اور ہم لوگوں کے مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ آج لوگوں کو سہولیات جس میں سڑک، نالی اور دیگر مسائل کے حل کے حوالے سے داد رسی کی ضرورت ہے اس لئے حکومت فوری طور پر بلدیاتی سسٹم کو فعال بنائے اور اختیارات ، وسائل کو نچلی سطح پر منتقل کریں تاکہ بلدیاتی سسٹم کے ذریعے لوگوں کو ان کی دہلیز پر مسائل کے حل کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔ اس موقع پر صوبائی صدر میر عابد حسین لہڑی، انڈولمنٹ فنڈ کو مشترکہ اکائونٹ کے ذریعے استعمال کرنے کی اجازت حاصل کی جس کی نمائندوں نے مشترکہ طور پر اجازت دے دی۔

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments