بلوچستان کے سینئر صحافی عارف محمود اس جہان فانی سے کوچ کر گئے

پیر 18 اکتوبر 2021 22:28

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اکتوبر2021ء) بلوچستان کے سینئر صحافی عارف محمود اس جہان فانی سے کوچ کر گئے بلوچستان میں 33سال تک صحافت کے شعبے میں خدمات سر انجام دینے والے سینئر صحافی عارف محمود کا شمار بلوچستان کے نامور صحافیوں میں ہوتا تھا۔ مرحوم نے 1988میں اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز کیا۔ اس دوران وہ کافی عرصے تک بلوچستان کے مقامی روزنامے انتخاب سے منسلک رہے بعد ازاں 2002میں انہوں نے قومی روزنامہ سینچری ایکسپریس اور ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کو بطور رپورٹر جوائن کیا اور زندگی کی آخری سانس تک ایکسپریس نیوز اور سینچری ایکسپریس سے وابسطہ رہے۔

عارف محمود کی بے شمار خبریں اخبارات کی شہ سرخیاں بنیں۔ انہوں نے سینکڑوں نامور شخصیات کے انٹرویوز کئے وہ کرائم کے شعبے میں انتہائی مہارت رکھتے تھے۔

(جاری ہے)

انہیں سب سے پہلے خبر بریک کرنے والا صحافی قرار دیا جاتا تھا انکے سیاسی ادبی اور دیگر موضوعات پر بھی سینکڑوں مکالمے اخبارات کی زینت بنے۔ وہ ایکسپریس کے میگزین کے لئے بھی کام کرتے رہے۔

بلوچستان میں شورش کے دوران انہوں نے بے پناہ دھماکوں و دلخراش واقعات کی کوریج کی اور متعدد مرتبہ وہ ان دھماکوں کی زد میں بھی آئے تاہم وہ محفوظ رہے عارف محمود بلوچستان یونین آف جرنلسٹس اور کوئٹہ پریس کلب کے اہم عہدوں پر بھی فائز رہے۔ مرحوم کی نماز جنازہ آج دوپہر 12بجے مدرسہ مرکزی تجوید القرآن سرکی روڈ پر ادا کی جائے گی جبکہ تدفین مشرقی بائی پاس ہو گی۔

عارف محمود کے انتقال پر صحافتی حلقوں نے گہرے رنج اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرحوم ایک ملنسار شخص تھے وہ جونیئرز کے ساتھ جونیئر اور سینئرز کی طرح پیش آتے ان کے تربیت یافتہ درجنوں صحافی آج بھی مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز سے منسلک ہیں۔ صحافتی حلقوں نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلائ مدتوں پر نہیں ہوگا۔ علاوہ ایں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس بلوچستان یونین آف جرنلسٹس اور کوئٹہ پریس کلب کے عہدیداروں کابینہ کے اراکین نے عارف محمود کے انتقال پر گہرے رنج اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ اور مقام اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔

متعلقہ عنوان :

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments