کوئٹہ، امیرحیدر ہوتی کی اصغرخان اچکزئی، منظورپشتین اور دیگر سیاسی کارکنان پر ایف آئی آر درج کرنے کی مذمت

منگل 30 نومبر 2021 00:16

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 29 نومبر2021ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیرحیدر خان ہوتی نے کوئٹہ میں صدر اے این پی بلوچستان اصغرخان اچکزئی، پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم)کے سربراہ منظورپشتین اور دیگر سیاسی کارکنان پر ایف آئی آر درج کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں امیرحیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ پرامن احتجاج ہر پاکستانی کا حق ہے، سیاسی کارکنان کو مقدموں سے ڈرایا نہیں جاسکتا۔

اے این پی بلوچستان کے صدر اصغرخان اچکزئی، منظورپشتین اور دیگر کارکنان بھی اسی طرح پاکستانی ہیں جس طرح اور لوگ ہیں۔ایک پرامن احتجاج پر شرکا یا منتظمین کے خلاف ایف آئی آر سمجھ سے بالاتر ہے۔

(جاری ہے)

کیا پشتون اپنے ایک منتخب ایم این اے کیلئے پرامن احتجاج کرنے کا حق بھی کھوچکے ہیں اس قسم کے اقدامات احساس محرومی اور مایوسی کو جنم دے گی، ریاست اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف 80ہزار پاکستانیوں کے قاتلوں کے ساتھ بات چیت کی جارہی ہے اور انہیں معافی دینے کی باتیں ہورہی ہیں۔پرتشدد جھتوں کے ساتھ بھی بات چیت کی جارہی ہے، انہیں پولیس کا خون معاف کرایا جارہا ہے۔دوسری جانب پرامن سیاسی کارکنان پر مقدمے درج کئے جارہے ہیں، ایف آئی آر فوری طور پر واپس لیا جائے۔کیا ہر کسی کو اپنے حق کیلئے تشدد کا راستہ اپنانا ہوگا پشتونوں کو مزید امتحانات میں نہ ڈالا جائے۔

پنجاب میں پولیس اہلکاروں کو شہید کیا گیا لیکن حکومتی اراکین انکے سربراہان کو ہار پہنارہے ہیں۔ امیرحیدر خان ہوتی نے کہا کہ ایک منتخب ایم این اے پابندسلاسل ہے، ان کا کیس نہیں سنا جارہا، تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔یہ دو قسم کے رویے ایک ریاست میں نہیں چل سکتے، عدم تشدد کے پیروکاروں کو اس قسم کے ہتھکنڈوں سے نہیں ڈرایا جاسکتا

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments