ڈیجیٹل پیمنٹ کی مدت میں 31دسمبر2021ء تک توسیع لا لی پا پ ہے ،فدا حسین دشتی

حکومت پہلے اپنی پیمنٹس سسٹم کو ڈیجیٹلائز کر ے بعد میں ہم پر یہ شرط لا گوکرے ،صدرایوان صنعت و تجا رت کو ئٹہ بلو چستان اور نائب صدر کی گفتگو

جمعرات 2 دسمبر 2021 00:02

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 دسمبر2021ء) ایوان صنعت و تجا رت کو ئٹہ بلو چستان کے صدر فدا حسین دشتی اور نا ئب صدر امجد علی صدیقی نے ٹیکس لا ء ترمیمی آرڈیننس کے تحت کا ر پوریٹ سیکٹر کے لئے ڈیجیٹل پیمنٹ کو لا زمی قرار دینے کے فیصلے کو غیر دانشمندانہ قراردیا ہے اور کہا ہے کہ اسے پہلے سے تبا ہ حالی کا شکا ر کا روبار مزید تبا ہ ہو گا ،ڈیجیٹل پیمنٹ کی مدت میں 31دسمبر2021ء تک توسیع لا لی پا پ ہے ،حکومت پہلے اپنی پیمنٹس سسٹم کو ڈیجیٹلائز کرے بعد میں ہم پر یہ شرط لا گو کرے۔

وہ گزشتہ روزمختلف وفود سے با ت چیت کر رہے تھے۔

(جاری ہے)

ایوان صنعت و تجا رت کو ئٹہ بلو چستان کے صدر فداحسین دشتی اور نا ئب صدر امجد علی صدیقی کا کہنا تھا کہ حکومت کو چا ہئے کہ وہ ٹیکس لا ء ترمیمی آرڈیننس ودیگر قوانین بنا نے یا پھر انہیں لا گو کر نے سے قبل بزنس کمیونٹی یا کسی اور شعبے سے وابستہ افراد کو اعتما د میں لے مگر ڈیجیٹل بنکنگ سسٹم کے ذریعے ادائیگیوں کے حوالے سے انہیں اعتماد میں ہی نہیں لیا گیا پہلے ای سسٹم کے تحت ٹیکسز و دیگر کی ادائیگی نے بلو چستان کے کا روباری طبقہ کو مشکلات سے دوچا ر کیا اب کا رپوریٹ سیکٹر کے لئے ڈیجیٹل پیمنٹ کا نظام لا کر رہی سہی کسر پوری کر دی گئی ہے بلو چستان میں شرح خواندگی کی کمی اور لو گوں کے ڈیجیٹل سسٹم سے آ گا ہی نہ رکھنے کی وجہ سے لو گ مشکل سے دوچار ہو جا تے ہیں انہوں نے کہا کہ چیکس بزنس کمیونٹی کے ما بین رقم کی ادائیگی کی گارنٹی ہوا کر تی ہے جب ڈیجیٹل بنکنگ کے ذریعے ہی ادائیگی ہو گی تو اس میں کسی بھی بزنس مین کو اسی وقت رقم ٹرانسفر کر نا ہو گی جو ممکن نہیں کیو نکہ یہاں کے لو گ ما ل لینے کے بعد اسے فروخت کر تے ہیں اوررقم ملنے پر دوسری پارٹی کو پیمنٹ کر تے ہیں ، انہوں نے کہا کہ جو لا ئی سے 30نومبر تک کا پیریڈ ریٹرن فا ئلنگ کی ہی مد میں گزر گیاہے جتنے بھی ٹیکس کے کنسلٹنٹ تھے ان کا پرائمری فوکس ریٹرن فا ئلنگ پر ہی رہا ابھی تک کسی ٹیکس با ر ، کنسلٹنٹ اور نا ہی کسی چیمبر نے اس پر کو ئی سنجیدہ جواب جمع کرا یا ہے ، ہم حکومت سے دوبا رہ التجا کریں گے کہ اس طرح کے قوانین اور آرڈیننس بنا نے سے قبل چیمبر ز اور دیگر اسٹیک ہو لڈرز کو اعتما د میں لیا جا نا چا ہئے، کیو نکہ چیمبر بزنس کمیونٹی اور حکومت کے درمیان پل کا کردار اد کر رہے ہیں ، اگر حکومت پل کو استعما ل نہیں کر رہی تو پھر ہم حکومت کی کو ئی مدد کر سکتے ہیں نا ہی اپنے ممبرز کی تجا ویز پہنچا سکتے ہیں کہ جس سے حکومتی قوا نین کو لا گو کر نے میں آ سانی ہو ، اس سے قبل فیڈرل بورڈ آف روینیو نے ہی ای پیمنٹ کا سلسلہ تین سال قبل شروع کیا مگر یہ پہلا سال تھا جب زیا دہ ای پیمنٹ چا لا ن جمع ہو سکے حکومت کو ای پیمنٹ کو لا گو کر نے اور لو گوں کو اسے سمجھنے میں تین سال کا عرصہ لگا اب بزنس سیکٹر کیو نکر دو یا تین مہینے میں اس ڈیجیٹل بنکنگ کو کسے لا گو کر سکتا ہے ، چیمبر آف کامرس کے بہت سارے ممبرز حج ٹوور ز آپریٹرز ہیں ان کی تو 80سے 90فیصد پیمنٹ ملک سے با ہر ہو تی ہیں ایک ہی لا ٹھی سے پو رے کے پورے کا رپوریٹ سیکٹر کو ہانکنا ٹھیک نہیں ،نا ہی وہ ایک ہی اشارے پر چلنا شروع کر سکتا ہے ،اس کے لئے فیز ٹو فیز سیکٹرز کو لا نا ہو گا ہمیں اعتما د میں لئے بغیر کو ئی بھی فیصلہ قابل قبول نہیں ہیں ،حکومت اور ایف بی آر اپنے ذمہ کے کا م بزنس کمیونٹی سے کرا نا چا رہی ہے جو نا ممکن ہے اگر حکومت اور ایف بی آر اس طرح کا طرز عمل اپنا ئے گی تو ہما را بھی تعاون اس لیول کا نہیں رہے گا جس لیول کا ہو نا چا ہئے ،سب سے پہلے حکومت اپنی پیمنٹس کو تو ڈیجیٹلا ئز کرے وفاقی حکومت صو بوں کو اور پی ایس ڈی پی اور پر چیزز کی پیمنٹس کو تو پہلے ڈیجیٹلا ئز کیا جا ئے دوسرے فیز میں ہم حکومت اور ایف بی آر کے ساتھ چلیں گے ہم اسے سیکھیں گے بھی اور مدد بھی دیں گے پہلے حکومت خود ڈیجیٹل بنکنگ کے ذریعے پیمنٹس کرے پھر ہمیں کہیں یہ فیصلہ بزنس مینوں کے درمیان تنا زعات کا با عث بنے گاہم سمجھتے ہیں کہ ٹیکس لا ء ترمیمی آرڈیننس کا روبا ر پر بھاری پڑ گیاہے۔

متعلقہ عنوان :

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments