ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی کی میڈیکل کالجز کے معاملے پر حکمت عملی تشکیل دینے اور اس بابت اٹھائے گئے اقدامات پر اسمبلی میں رپورٹ پیش کرنے کی رولنگ ،کڈنی سینٹر کے سربراہ کو پیرکوا سمبلی سیکرٹریٹ میں طلب کرلیا

ہفتہ 22 جنوری 2022 00:24

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 جنوری2022ء) بلوچستان اسمبلی کے اراکین کا پی ایم سی کی جانب سے صوبے کے تین میڈیکل کالجز کی رجسٹریشن منسوخ کرنے پر تشویش کا اظہار، ڈپٹی اسپیکر نے میڈیکل کالجز کے معاملے پر حکمت عملی تشکیل دینے اور اس بابت اٹھائے گئے اقدامات پر اسمبلی میں رپورٹ پیش کرنے کی رولنگ دے دی جبکہ کڈنی سینٹر کے سربراہ کو پیرکوا سمبلی سیکرٹریٹ میں طلب کرلیا گیا، بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو دور روزہ وقفے کے بعد پونے دو گھنٹے کی تاخیر سے ڈپٹی اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل کی زیر صدارت شروع ہوا ، اجلاس کے آغاز پر قائد حزب اختلاف ملک سکندر خان ایڈوکیٹ نے اجلاس میں حکومتی ارکان اور سرکاری حکام کی عدم شرکت پر شکو ہ کرتے ہوئے کہا کہ بد قسمتی سے صوبے میں گورننس کاخلاء کے جس کی ذمہ داری منتخب نمائندوں اور حکومت کے ذمہ داروں پر عائد ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ پی ایم سی نے جھالا وان ، لورالائی اور کیچ میڈیکل کالجز کے طلباء کی رجسٹریشن منسوخ کردی ہے کالج کے طلباء نے داخلہ ٹیسٹ پاس کیا انکے میرٹ پر داخلے ہوئے جس کے بعد انہوں نے تین سال کے امتحان پاس کئے اور اب وہ چوتھے سال میں پڑھ رہے ہیں اس وقت طلباء کی رجسٹریشن منسوخ کر کے انہیں تاریک مستقبل کا پیغام دیا گیا ہے یہ طلباء میڈیکل کی تعلیم مکمل کرلیں گے تو انہیں تسلیم نہیں کیا جائیگا جس کے بعد وہ کسی بھی جگہ پریکٹس نہیں کر پائیں گے پی ایم سی کا فیصلہ المیہ ہے جس سے صوبے کے طلباء دو چار ہیں انہوں نے ایوان کی توجہ کڈنی سینٹرمیں گزشتہ 15سال سے زائد عرصے سے کام کرنے والے ملازمین کی برطرفی کی جانب مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ کڈنی سینٹر کی انتظامیہ نے بلاجواز ملازمین کو برخاست کیا ساتھ ہی ان پر ایف آئی آر بھی کاٹی گئی جس پر نقیب اللہ نامی ملازم کی درخواست پربلوچستان ہائی کورٹ نے انہیں بحال کردیا لیکن 15سال تک کام کر نے والے ملازمین کو ٹیشو پیپر کی طرح کیوں پھینک دیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ 2012میں ووکیشنل ٹریننگ سینٹر میں بھرتیاں کی گئی 12سال بعد یہ ملازمین در ، در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں اسی طرح سی اینڈ ڈبلیو کے 360سے زائد ملازمین کو صر ف اس بناء پر برطرف کردیا گیا کہ انکی بھرتی غیر قانونی طریقے سے کی گئی اب یہ ملازمین اوور ایج ہوچکے ہیں اور کسی بھی ملازمت کے اہل نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ 1996میں جے ای ٹیچرز تعینات کئے گئے انکے لئے باقاعدہ طریقہ بنا لیکن آج بھی انکے مسائل جوں کے توں ہیں ،صوبے میں تعلیم اور صحت کے محکموں کی صورتحال ابتر ہوچکی ہے ینگ ڈاکٹرز احتجاج پر ہیں ان کے مسائل بھی حل نہیں ہورہے صاحب حیثت افراد معمولی ٹیسٹ کروانے کے لئے بھی کراچی جارہے ہیںانہوں نے کہا کہ سول سیکرٹریٹ میں احتجاج جاری ہے ملازمین اپنی مراعات اور تنخواہوں کے لئے احتجا ج پر ہیں ایسی صورتحال میں حکومت کو اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ،اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے رکن نصر اللہ زیرے نے کہا کہ منظم سازش کے تحت بولان میڈیکل کالج کا یونیورسٹی کا درجہ ختم کیا گیا جس کے بعد آج صوبے کے تین میڈیکل کالجز کو تسلیم نہیں کیا جارہا ایک شخصیت اس تمام عمل میں رکاوٹ بنی رہی جسکی وجہ سے آج طلباء کی رجسٹریشن منسوخ کردی گئی ہے پی ایم سی دوبارہ امتحان لینے کا کہہ رہا ہے اور جو لوگ اس میں فیل ہوئے انہیں نکال دیا جائیگا انہوں نے کہا کہ 13جنوری کے خط میں پی ایم سی نے میڈیکل کالجز سے لاتعلقی کا اظہار کردیا ہے آج ہم بولان میڈیکل یونیورسٹی ختم کرنے کے تنائج بھگت رہے ہیں انہوں نے مطالبہ کیا جس سیکرٹری صحت نے یہ تمام سازش کی اس کے لئے کمیٹی بنا کر باقاعدہ تحقیقات کی جائیں ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن اختر حسین لانگو نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل کمیشن کے بلوچستان کے تین میڈیکل کالجز کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کے فیصلے کی مذمت کی انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اس مسئلے کو اٹھائے اور پی ایم سی کو پابند کیا جائے کہ وہ سابقہ میرٹ لسٹ کو تسلیم کرے انہوں نے کہا کہ بولان میڈیکل یونیورسٹی کا درجہ ختم ہوا ہے تو اس میں وائس چانسلر تاحال کیوں تعینات ہے اور مراعات کیوں دی جارہی ہیں، اس موقع ڈپٹی اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل نے رولنگ دیتے ہوئے صوبائی حکومت کو سختی سے ہدایت کہ وہ میڈیکل کالجز کے معاملے پر حکمت عملی تشکیل دے اور اس بابت اٹھائے گئے اقدامات پر اسمبلی میں رپورٹ پیش کرے ،اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے رکن اصغر علی ترین نے پوائنٹ آف آرڈر پر ایوان کی توجہ بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف نفرولوجی یورولوجی کے برطرف ملازمین کے مسئلے کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ادارے کے سربراہ نے 13ملازمین کو برطرف کیا ہے ان ملازمین کو بحال کیا جائے۔

(جاری ہے)

بی این پی کے اختر حسین لانگو نے کہا کہ عدالت نے ملازمین کی برطرفیوںکو غیر قانونی قرار دیا ہے اس کے باوجود اگر ملازمین کو بحال نہیں کیا جاتا تو یہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے انہوںنے کہا کہ حکومت نے ستر سال سے زائد عمر کے شخص کو ادارے کا سربراہ تعینات کیا ہے وہ اس عمر میں بطور سربراہ اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کرپارہے انہوںنے کہا کہ موجودہ سربرا ہ کے آنے سے پہلے وہاں کڈنی ٹرانسپلانٹ کئے جاتے تھے مگر اب وہاں صرف ڈائیلاسز کا شعبہ فنکشنل ہے باقی تمام شعبے غیر فعال ہیں۔

بعدازاں ڈپٹی سپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل نے کڈنی سینٹر کے سربراہ کو بروز پیراسمبلی سیکرٹریٹ میں طلب کرنے کی رولنگ دی۔اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کی رکن شکیلہ نوید دہوار نے کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں قبائل کی بلا پیمودہ اراضیات کی سیٹلمنٹ سے متعلق ایوان کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ کے مغربی اور مشرقی بائی پاس پر لوگوں کی آبائی زمینوں کو لینڈ مافیا نے قبضہ کرکے اونے پونے داموں فروخت کیا گیا ہے۔

انہوںنے کہا کہ زمینوں پر ہونے والے تنازعات میں اب تک مختلف قبائل کے چالیس سے پینتالیس افراد لقمہ اجل بنے ہیں ایک مرتبہ پھر پٹواری اور تحصیلدار ان زمینوں کو لینڈ مافیا کو الاٹ کرنے جارہے ہیں جس سے امن عامہ کا خطرہ پیدا ہوگا۔انہوںنے کہا کہ عدالت عالیہ نے بھی بلا پیمودہ زمینوں سے متعلق حکم صادر کرتے ہوئے ان زمینوں کو قبائل کی ملکیت قرار دیا ہے انہوںنے کہا کہ گزشتہ روز زمینداروں اور قبائل پرمشتمل ایک وفد نے وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو سے ملاقات کی ہے جس کے دوران وزیراعلیٰ نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ صوبائی حکومت اس حوالے سے ہر ممکن تعاون کرے گی لیکن اب تک ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا حکومت زمینوں کی سیٹلمنٹ کو روک دے اور اس معاملے کو قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے کی رولنگ دی جائے۔

بی این پی کے اختر حسین لانگو نے کہا کہ زمینوں کی سیٹلمنٹ میں بدنیتی کا عنصر پایا جاتا ہے سیٹلائٹ ٹائون تھانے میں اب تک ایک ہزار سے زائد مقدمات قبضہ مافیا کے خلاف درج کرائے گئے ہیں اس جانب توجہ دی جائے۔ پشتونخوا میپ کے رکن نصراللہ زیرئے نے کہا کہ مشرقی بائی پاس پر لوگوں نے اپنی مرضی سے زمینیں فروخت کی ہیں ایک اراضی کی قیمت تین تین مرتبہ بھی وصول کی گئی ہے یہ زمینیں جن لوگوں نے خریدی ہیں سیٹلمنٹ انہی کے نام ہونی چاہئے۔ ڈپٹی سپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ زمینداروں نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی ہے اور وزیراعلیٰ نے مثبت یقین دہانی کرائی ہے لہٰذا معاملے کو نمٹادیا جاتا ہے۔

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments