’بچیوں کی لاشیں دیکھ کرپوتے پوتیاں یاد آئیں‘ وفاقی وزیرریلوے اعظم سواتی آبدیدہ ہوگئے

اب تک ٹرینوں کو جھنڈی کے ذریعے چلا رہے ہیں، 1971ء کا بنا ہوا ٹریک 30 سال بعد تبدیل ہونا تھا جو اب تک نہ ہوا اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ٹریک تیار کروں یا ایم ایل ون کا انتظار کروں؟ وزیر اعظم اور اسد عمر کو بتا دیا۔ ٹرین حادثے کے زخمیوں کی عیادت کے بعد وزیر ریلوے کی میڈیا سے گفتگو

Sajid Ali ساجد علی منگل جون 14:22

’بچیوں کی لاشیں دیکھ کرپوتے پوتیاں یاد آئیں‘ وفاقی وزیرریلوے اعظم ..
رحیم یار خان ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 08 جون 2021ء ) صوبہ سندھ میں ڈہرکی کے قریب پیش آئے ٹرین حادثے کے زخمیوں کی عیادت کے دوران وفاقی وزیرریلوے اعظم سواتی آبدیدہ ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی نے رحیم یار خان میں شیخ زید ہسپتال کا دورہ کیا اور اس دوران ٹرین حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی ، اس دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریسکیو اور ریلوے عملے کو سلام پیش کرتا ہوں ، جائے حادثے پر رات بھر رہا ہوں ، بچیوں کی لاشیں دیکھ کرپوتے پوتیاں یاد آئیں ، ہم واقعے کے ذمہ دار ہیں ، کیوں کہ سکھر ڈویژن کا ریلوے ٹریک بوسیدہ ہو چکا ہے ، سگنل سسٹم کی ناکامی اور بروقت اقدام نہ اٹھانے سے حادثہ ہوا ، وزیراعظم کو ٹرین حادثے سے متعلق حقائق سے آگاہ کر دیا ہے ، ہم اب تک ٹرینوں کو جھنڈی کے ذریعے چلا رہے ہیں، 1971ء کا بنا ہوا ٹریک 30 سال بعد تبدیل ہونا تھا جو اب تک نہ ہوا اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ٹریک تیار کروں یا ایم ایل ون کا انتظار کروں؟ وزیر اعظم اور اسد عمر کو بتا دیا۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ ٹرین حادثہ کے ذمہ داروں کو نشان عبرت بنائیں گے، ریلوے کے کرپٹ افسران کیخلاف جہاد کا اعلان کر دیا ہے، کل تک رپورٹ مرتب کرکے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ وفاقی وزیر برائے ریلوے اعظم خان سواتی نے ٹرین حادثے کے زخمیوں کی عیادت کے لیے اوباڑو ہسپتال کا بھی دورہ کیا ، جہاں انہوں نے کہا کہ ریسکیو آپریشن میں حصہ لینےوالےاداروں اور مقامی افراد کا مشکور ہوں ، واقعے کی تمام تحقیقات کی میں خود نگرانی کروں گا اور متاثر ہونے والے مسافروں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی ، جب تک مسافروں کوسہولت میسر نہیں ہوتی میں یہاں موجودہوں ، مریضوں کی دیکھ بھال کریں گے، حادثے کے زخمی مسافروں کا مکمل علاج کرایا جائے گا، حادثے میں جاں بحق افراد کی لاشوں کو ان کے آبائی علاقوں میں پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔

رحیم یار خان شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments