مدعی کے انکار پر رکن اسمبلی 9 افراد کے قتل میں مدعی بنانے کو تیار ہو گئے

مظلوموں کا ساتھ دینے کی وجہ سے انڈھڑ گینگ نے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی ہیں۔ ممتاز چانگ کی گفتگو

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ 15 اکتوبر 2021 12:12

 مدعی کے انکار پر رکن اسمبلی  9 افراد کے قتل میں مدعی بنانے کو تیار ہو گئے
رحیم یار خان ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 15 اکتوبر 2021ء ) صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یارخان کی تحصیل صادق آباد میں 9 افراد کے قتل کے مدعی کے شاملِ تفتیش ہونے اور گواہی دینے سے انکار کرنے پر رکن صوبائی اسمبلی ممتاز چانگ کیس میں مدعی بننے کو تیار ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ مظلوموں کا ساتھ دینے کی وجہ سے انڈھڑ گینگ نے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی ہیں۔

چار روز قبل قتل کیے گئے 9 افراد کے کیس میں نیا موڑ اس وقت سامنے آیا جب مقتولین کے بھائی کی مدعیت میں درج مقدمے میں شامل تفتیش ہونے سے انکار کر دیا تھا اور کہا کہ وہ کسی سے جھگڑا نہیں چاہتے معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا ہے۔مدعی کے انکار پر پیدا ہونے والی قانونی پیچیدگی کا جائزہ لے رہے ہیں۔ملزمان کو مقتولین پر مخبری کا شک تھا، اس لیے بدلہ لینے کے لیے انہیں قتل کیا۔

(جاری ہے)

ممتاز چانگ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مقتولین کے ورثاء شریف لوگ ہیں لہذا میں مدعی بننے کو تیار ہوں۔انہوں نے کہا کہ میری عدالت اور پولیس کو سیکیورٹی کے لیے دی گئی درخواست انڈھڑ گینگ کے پاس پہنچ گئی۔انڈھڑ گینگ نے مجھے اسی درخواست کی دستاویز بعمہ دھمکی بھیج دی ہیں۔مظلوموں کا ساتھ دینے پر انڈھڑ گینگ نے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی ہیں۔

پنجاب میں رہتا ہوں لیکن سندھ پولیس نے سکیورٹی دی ہوئی ہے۔واضح رہے کہ یہ واقعہ کچھ روز قبل کا ہے اور اس کا مقدمہ اندھڑ گینگ کے سرغنہ سمیت 15 ملزمان کے خلاف درج ہے،تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ۔بتایا گیا کہ رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد میں بدنام زمانہ ڈاکوں کے گینگ نے دن دیہاڑے دو پیٹرول پمپوں پر حملہ کرکے ایک ہی خاندان کے 9 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور فرار ہوگئے ۔

پولیس کے مطابق صادق آباد کے نواحی چوک ماہی میں بدنام زمانہ جرائم پیشہ انڈھڑ گینگ کے تین موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے دو پیٹرول پمپوں پر دن دیہاڑے حملہ کردیا اور فائرنگ کر کے ایک ہی خاندان کے منور انڈھڑ غلام نبی فاروق شریف نذیر سمیت 9 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ ایک شخص شدید زخمی ہوگیا۔ لاشوں اور زخمی کوسول اسپتال صادق آباد شیخ زاید اسپتال رحیم یار خان لیجایا گیا ۔

ڈی پی او اسد سرفراز کے مطابق مقتولین کی جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ پرانی دشمنی تھی ،پولیس کے مطابق تین سال قبل پولیس نے انڈھڑ گینگ کے چھ افراد کو ہلاک کیا تھا ،ڈاکوؤں نے بدلے میں پولیس اہلکار کوبھی شہید کیا تھا جبکہ مقتولین پر انڈھڑ گینگ کی مخبری کا الزام تھا جس کا ڈاکوں نے بدلہ لیا ہے،جبکہ معاملہ پر وزیراعلی پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے آر پی او بہاولپور سے رپورٹ طلب کر رکھی ہے۔

رحیم یار خان شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments