پاکستان رینجرز اور بھارتی بارڈ سکیورٹی فورس کے درمیان ہونیوالا 44 واں اجلاس نئی دہلی میں اختتام پذیر

اجلاس میں2003ء کے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر جنگ بندی کی معاہدے کی بحالی پر زور دیا گیا معمولی سرحدی تنازعات جونیئر کمانڈر سطح پر حل کرنے کیلئے مخلصانہ کوششیں کرنے پر اتفاق فریقین کا سرحدی خلاف ورزیوں اور بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں ہونیوالے جانی نقصانات پر بھی تبادلہ خیال ،آئی ایس پی آر

جمعہ نومبر 19:05

پاکستان رینجرز اور بھارتی بارڈ سکیورٹی فورس کے درمیان ہونیوالا 44 واں ..
راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 نومبر2017ء) پاکستان رینجرز اور بھارت کی بارڈ سکیورٹی فورس نے 2003ء کے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر جنگ بندی کے معاہدے کی بحالی پر زور دیتے ہوئے اتفاق کیا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور بلا اشتعال فائرنگ سے عام لوگو ں کی اموات واقع ہوتی ہیں۔نئی دہلی میں پاکستان رینجرز اور بھارتی بارڈ سیکیورٹی فورس کے درمیان تین روزہ مذاکرات کے اختتام پر جمعہ کو جاری ہونیوالے بیان میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کے مقامی کمانڈروں کو ہدایت کی جائے کہ وہ چھوٹے مقامی مسائل کو نچلی سطح پر حل کریں ، اس کے علاوہ مقامی کمانڈر بارڈر مینجمنٹ کے معاملات کو بھی کمپنی اور بٹالین کی سطح پر حل کرنے کی کوشش کرے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس کے دوران سمگلنگ اور سرحد پار کرنے سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا ۔

(جاری ہے)

بیان کے مطابق اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اکثر مواقع پر دونوں ممالک کے درمیان فائرنگ کی وجہ سے خواتین اور بچے نشانہ بن جاتے ہیں اسی تناظر میں اجلاس میں کہا گیا کہ عام لوگوں کی اموات اور انہیں نقصان پہنچنے کی وجہ سے 2003ء کے جنگی بندی کے معاہدے کی بحالی ضروری ہے۔

غلطی سے سرحد پار کرنیوالے لوگوں اور بھارتی جیلوں میں پاکستانی ماہی گیروں کی مشکلات کم کرنے کیلئے نئی تجاویز پر غور کیا گیا۔ ان تجاویز کا مقصد ان ماہی گیروں کی جلد واپسی کو یقینی بنانا ہے۔ اجلاس میں دونوں اطراف سے بچھڑے لوگوں کو خاندان سے ملانے کیلئے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں ورکنگ بائونڈری اور بین الاقوامی سرحد کے قریب بھارت کی جانب سے تعمیرات کا معاملہ بھی اٹھایا گیا اور اس قسم کی تعمیرات کو روکنے کے حوالے سے باہمی خدشات دور کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا گیا۔

راولپنڈی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments