مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید ہاشمی نواز شریف سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچ گئے

جاوید ہاشمی کو اڈیالہ جیل کے گیٹ پر روک دیا گیا۔ میں تو خود یہاں کا باسی رہ چکا ہوں۔ جاوید ہاشمی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر جولائی 14:59

مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید ہاشمی نواز شریف سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل ..
راولپنڈی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔16 جولائی 2018ء) : مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید ہاشمی سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچ گئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف اڈیالہ جیل میں گذشتہ تین روز سے قید ہیں۔ جاوید ہاشمی نواز شریف سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے تو انہیں گیٹ پر ہی روک دیا گیا۔ جاوید ہاشمی نے سکیورٹی حکام سے کہا کہ میں تو خود اڈیالہ جیل کا باسی رہ چکا ہوں، مجھے نواز شریف سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔

یاد رہے کہ جیل حکام نے نواز شریف ،مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر سے ملاقات کے لیے جمعرات کا دن مقرر کر رکھا ہے۔ مقررہ دن کے علاوہ کسی بھی دن ملاقاتیوں کو نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

(جاری ہے)

گذشتہ روز سابق وزیر طارق فضل چودھری بھی سابق وزیراعظم سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے اور نوازشریف سے ملاقات کی اجازت چاہی لیکن جیل انتظامیہ نے انہیں روک دیا اور کہا کہ آج چھٹی ہے ملاقات نہیں ہو سکتی ۔

جس پر طارق فضل چودھری نے کہا کہ یہ بینک نہیں کہ چھٹی والے دن ملاقات نہیں ہو سکتی۔ جیل انتظامیہ کی جانب سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر لیگی رہنما طارق فضل چودھری سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کئے بغیر ہی واپس چلے گئے۔قبل ازیں بروز ہفتہ سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف بھی خصوصی طیارے میں نواز شریف کی والدہ اور اہل خانہ کے چند افراد کے ہمراہ اسلام آباد روانہ ہوئے، اس موقع پر حمزہ شہباز ،سلمان شہبازبھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

اڈیالہ جیل پہنچنے کے بعد شہباز شریف اوران کی والدہ کو جیل سپرٹنڈنٹ کے کمرے میں ٹھہرایا گیا جس کے بعد نواز شریف اور مریم نواز کو اطلاع دی گئی۔ جیل حکام نواز شریف اور مریم نواز کو لے کر سپرٹنڈنٹ کے کمرے میں پہنچے جہاں ان کی اہل خانہ سے ملاقات کروائی گئی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بیٹے اور پوتی سے ملاقات میں نواز شریف کی والدہ شمیم اختر جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور روتے ہوئے نواز شریف اور مریم نواز کے ساتھ رہنے کی ضد کرتی رہیں، نواز شریف نے زبردستی اپنی والدہ کو شہباز شریف کے ساتھ واپس بھجوایا۔

یاد رہے کہ 13 جولائی بروز جمعہ وطن واپسی پر سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو لاہور ائیر پورٹ سے گرفتار کر کے خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد لے جایا گیا جس کے بعد انہیں اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

راولپنڈی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments