عام انتخابات سے قبل شیخ رشید مشکل میں پھنس گئے

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے خلاف آتشبازی کرنے پر مقدمہ درج کر لیا گیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل جولائی 11:53

عام انتخابات سے قبل شیخ رشید مشکل میں پھنس گئے
راولپنڈی (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔17جولائی 2018ء) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے خلاف آتشبازی کرنے پر مقدمہ درج کر لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق عوام مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 60اور 62 راولپنڈی سے انتخاب لڑیں گے جہاں تحریک انصاف کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور ان دونوں نشستوں پر پی ٹی آئی نے اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا۔

شیخ رشید نے اپنے حلقے میں انتخابی مہم بھی زور و شور سے جاری رکھی ہوئی ہے۔تاہم شیخ رشید کے لیے انتخابات سے قبل ہی بری خبر آ گئی ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ شیخ رشید کے خلاف آتشبازی کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔پولیس زرائع کے مطابق عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے خلاف مقدمہ این اے 60 اور این اے 62 کی یونین کونسل 40 میں آتشبازی کرنے پر کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

شیخ رشید کے خلاف مقدمہ تھانہ سٹی میں درج کیا گیا ہے۔مقدمہ میں شیخ رشید سمیت 8 افراد نامزد کیے گئے ہیں۔ مقدمے میں شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق اور15 نامعلوم افراد شامل ہیں۔مقدمہ پولیس افسرمحمد یعقوب کی مدعیت میں زیردفعات 285 اور286 درج کیا گیا۔ شیخ رشید کے خلاف ایف آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے تلواڑاں بازار میں آتشبازی کی جب کہ پنجاب حکومت کی جانب سے آتشبازی کرنے پر پابندی عائد ہے۔

یاد رہے کہ عوامی سملم لیگ کے سربراہ شیخ رشید اپنی انتخابی مہم زور شور سے چلا رہے ہیں۔شیخ رشید کبھی لوگوں میں ناشتہ کرتے ہوئے پائے جاتے تھے تو کبھی بازار میں کھڑے ہو کرمونچھیں بنواتے ہوئے نظر آتے تھے۔لوگ بھی عوامی لیڈر کا عوامی انداز پسند کرتے ہیں۔واضح رہے ملک بھر میں عام انتخابات کا اعلان 25جولائی کو کیا گیا ہے۔اور اس بار پاکستان مسلم لیگ ن اورتحریک انصاف میں کڑا مقابلہ تصور کیا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس بار پاکستان تحریک انصاف کا پلڑہ بھاری نظر آ رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب تک کئی سیاسی رہنما اپنی پارٹیوں کو چھو ڑ کرتحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں تا ہم پاکستان مسلم لیگ ن بھی پی ٹی آئی کو ٹف ٹائم دینے کو تیار ہے۔البتہ نتائج کیا ہوں گے اس کا پتہ تو 25جولائی کو ہی چلے گا۔

راولپنڈی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments