شہر و کینٹ کو دریائے جہلم سے پانی کی فراہمی کے منصوبے کی منظوری

منگل نومبر 03:50

راولپنڈی18نومبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 نومبر2018ء) پنجاب حکومت نے راولپنڈی شہر میں پانی بحران پر قابو پانے کے لیے دریائے جہلم سے پانی کی فراہمی کے منصوبے کی منظوری دے دی ۔راولپنڈی کے ترقیاتی اداری(آر ڈی اے ) کے چیئرمین عارف عباسی نے اے پی پی کو بتایاکہ پنجاب حکومت نے راولپنڈی شہر کو پانی کی مطلوبہ مقدار کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے دریائے جہلم سے شہر کو پانی کی فراہمی کا منصوبہ بنایا ہے ۔

عارف عباسی نے بتایاکہ اس منصوبے کے تحت سب سے پہلے کوہالہ دریائے جہلم سے پانی کوٹلی ستیاں اور مری لایا جائے گا جبکہ پھر راول ڈیم لایا جائے گا جہاں سے راولپنڈی شہر و کینٹ کو یہ پانی فراہم کیا جائے گا ۔انہوںنے کہاکہ راولپنڈی کو پانی کی فراہمی کے موزوں ترین روٹ کے تحت راول ڈیم میں پانی کی ترسیل کے لیے مری اور کوٹلی ستیاں میں بڑا جنکشن بنایا جائے گا ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ راولپنڈی کو دریائے جہلم سے پانی کی فراہمی کے منصوبے کا قابل عمل بنایاجائے گا کیونکہ اس ضمن میں پنجاب حکومت نے متعلقہ حکام کو پہلے ہی مالی معاونت کا اشارہ دے دیاہے ۔عارف عباسی نے قومی خبر ایجنسی کو مزید بتایاکہ راولپنڈی کو پانی کی فراہمی کے اس منصوبے کی لاگت میں خاطر خواہ کمی کے لیے دریائے جہلم کے پانی کو پہلے بڑے پائپوں کے ذریعے مری اور کوٹلی ستیاں میں بڑے جنکشن منتقل کیا جائے گا جہاں سے یہ پانی راول ڈیم میں جائے گا ۔

ایک سوال کے جواب میں چیئرمین آر ڈی اے نے اے پی پی کو بتایاکہ راولپنڈی شہر و کینٹ میں پانی کی فراہمی کا نیٹ ورک پہلے ہی موجود ہے جبکہ منصوبے پر کوٹلی ستیاں و مری جنکشن سے راول ڈیم تک پہنچانے کے لیے محض 260ملین روپے خرچ کیے جائیں گے۔عارف عباسی نے بتایاکہ صوبائی وزیر میاں محمود الرشید،ایم این اے صداقت علی عباسی اور ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے حال ہی میں پراجیکٹ روٹ کے وزٹ کے دوران منصوبے کا مکمل جائزہ لیا ۔

انہوں نے کہاکہ اس منصوبے کے تحت تین کلومیٹر سے زائد کی پائپ لائن بھی پہلے ہی بچھائی جا چکی ہے۔واضح رہے کہ واسا راولپنڈی اپنی رپورٹ میں پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ زمین سے زیادہ مقدار میں پانی نکالنے کے سبب شہر میں گذشتہ چھ برس کے دوران زیر زمین پانی کی گہرائی 550سے 650فٹ تک جا پہنچی ہے۔

متعلقہ عنوان :

راولپنڈی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments