حکومت ہیومن ریسوس ڈویلپمنٹ اور ٹیکنیکل ایجوکیشن پر توجہ دے رہی ہے ،ْیکساں تعلیم کے مواقع فراہم کرینگے ،ْ غلام سرور خان

ہمارے دھرنے میں خواتین کا بہت کردار تھا ،ْان چوروں لیٹروں کے خلاف دنیا کا لمبا ترین دھرنا تھا ،ْ وفاقی وزیر کا خطاب

ہفتہ 22 دسمبر 2018 18:12

حکومت ہیومن ریسوس ڈویلپمنٹ اور ٹیکنیکل ایجوکیشن پر توجہ دے رہی ہے ،ْیکساں ..
ٹیکسلا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 دسمبر2018ء) وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے کہا ہے کہ ہماری حکومت ہیومن ریسوس ڈویلپمنٹ اور ٹیکنیکل ایجوکیشن پر توجہ دے رہی ہے ،ْیکساں تعلیم کے مواقع فراہم کرینگے۔ہفتہ کو گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے کہا کہ اس کالج سی1975میں ڈپلومہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ٹیکنیکل تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے ،ْہم تعلیمی میدان میں بہت پیچھے ہیں ،ْخاص کر مسلمان بہت پیچھے ہیں ۔تمام دنیا کے تعلیمی ادارے ایک طرف انگلستان کے ایک طرف ۔کسی بھی حکومت نے تعلیم کی طرف دھیان نہیں دیا ۔آج بھی ڈھائی کڑوڑ بچہ سکول جانے سے قاصر ہے ۔انہیں سہولیات میسر نہیں کہ وہ سکول جا سکیں۔

(جاری ہے)

دنیا میں ٹیکنیکل نوجوانوں کی ڈیمانڈ ہے ۔

ہمارے نوجوان پیدا یہاں ہوتے ہیں ،ْابتدائی تعلیم یہاں لیتے ہیں ۔اعلی تعلیم کے لئے باہر جاتے ہیں اور وہی رہ جاتے ہیں ۔وہ پاکستان واپس نہیں آتے ،ْادھر ہی سروس کرتے ہیں ۔ہماری حکومت ہیومن ریسوس ڈویلپمنٹ اور ٹیکنیکل ایجوکیشن پر توجہ دے رہی ہے ۔ہم یکساں تعلیم کے مواقع فراہم کرینگے۔ ہمارے دھرنے میں خواتین کا بہت کردار تھا ۔ان چوروں لیٹروں کے خلاف سب سے لمبا بلکہ دنیا کا لمبا ترین دھرنا تھا ۔

انہوں نے کہا کہ جن بچیوں کو میڈیکل میں داخلہ نہ ملے انہیں نرسنگ کی جانب آنا چاہیئے ۔نرسنگ کی بیرون ممالک بہت ڈیمانڈ ہے ۔خواتین ذمہ دار بھی زیادہ ہیں اور ایماندار بھی زیادہ ہیں ۔ہماری اپنی بیٹیاں ہمارے بیٹوں سے زیادہ ذہین ہیں ۔لیکن ہمارے معاشرے میں خواتین کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ غلام سرور خان ,وفاقی پیٹرولیم نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہے جس کیلئے ٹیچر کی رہنمائی ضروری ہے۔

ملک اس وقت سخت معاشی بحران کا شکار ہے۔ اسکے باجود کالج کے تمام مسائل کے حل کیلیے کوشش کریں گے۔پیٹرولیم کے شعبہ میں بہت زیادہ مواقع ہیں۔دیگر انجینئرنگ ٹیکنالوجی کے مقابلے پیٹرو لیم انجینئرز کی تنخواہیں کئی گنا زیادہ ہیں ،ْاس کالج میں پیٹرولیم اور کیمیکل ٹیکنالوجی کی تعلیم شروع کی جائے۔اپنی منسٹری سے ان شعبہ جات کی تعلیم کیلئے مدد کروں۔

چکری میں ایک پولی ٹیکنیک کالج بناییں گے جس میں پیٹرولیم اور کیمیکل کی تعلیم بھی دیں گے۔تعلیم کی طرح پیٹرولیم کی صنعت کو تباہ کیا گیا۔آج ہمارے 12ارب 50 کروڑ رو پے کی پیٹرولیم مصنوعات منگواہی جاتیں ہیں۔چار ارب 50کروڑ کی گیس درآمد کروائی جاتی ہے ۔نئی ڈرلنگ نہیں کی گئیں جسکی وجہ سے 17ارب روپے گیس اور پیٹرول کی درآمد پر لگ جاتے ہیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر پٹرولیم نے کالج میں ایک درخت بھی لگایا۔ وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان کے ہمراہ ایم این اے منصور حیات خان اور ایم پی اے عمار صدیق خان نے پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ میں انعامات تقسیم کئے۔

راولپنڈی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments