پاکستانی ریکروٹمنٹ ایجنسی متحدہ عرب امارات کی ہزاروں ملازمتوں کے کوٹے محروم ہوگئی

متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستانیوں کو ورک ویزوں کے اجراء پر عائد کی گئی پابندی کے بعد راولپنڈی میں واقع ریکروٹمنٹ کمپنی سے 3 ہزار ملازمتوں کو کوٹہ لے کر بھارتی کمپنی کو دے دیا گیا

muhammad ali محمد علی بدھ نومبر 22:04

پاکستانی ریکروٹمنٹ ایجنسی متحدہ عرب امارات کی ہزاروں ملازمتوں کے کوٹے ..
راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ،25 نومبر2020ء ) پاکستانی ریکروٹمنٹ ایجنسی متحدہ عرب امارات کی ہزاروں ملازمتوں کے کوٹے محروم ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستانیوں کو حال ہی میں ورک ویزوں کے اجراء پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس پابندی کی وجہ سے ناصرف ملازمت کے حصول کے خواہش مند پاکستانیوں، بلکہ ریکروٹمنٹ ایجنسیوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستانیوں کو ورک ویزوں کے اجراء پر عائد کی گئی پابندی کے بعد راولپنڈی میں واقع ریکروٹمنٹ کمپنی سے 3 ہزار ملازمتوں کو کوٹہ لے کر بھارتی کمپنی کو دے دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 18 نومبر کو اماراتی حکام کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ کرونا وائرس خدشات کی وجہ سے پاکستان سمیت 13 ممالک کے شہریوں کو نئے ویزٹ ویزہ جاری نہیں کیے جائیں گے۔

(جاری ہے)

تاہم بعد ازاں انکشاف ہوا کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستانیوں کو نئے ورک ویزے بھی جاری نہیں کیے جا رہے۔ اس پابندی کے باعث پاکستانی ریکروٹمنٹ ایجنسیاں بری طرح متاثر ہونے لگی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق راولپنڈی میں واقع مشہور ریکروٹمنٹ کمپنی، جو پاکستانی محنت کشوں کو متحدہ عرب امارات میں ملازمت دلواتی تھی، اس کمپنی سے 3 ہزار ملازمتوں کا کوٹہ چھین لیا گیا ہے۔

پاکستانی کمپنی سے چھینا گیا ملازمتوں کا کوٹہ اب ایک بھارتی کمپنی کو دے دیا گیا ہے۔ پاکستانیوں پر عائد پابندی کے حوالے سے اگرچہ اماراتی حکومت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یہ پابندی پاکستان میں کورونا کیسز میں تیزی سے اضافہ ہونے کے باعث احتیاطی اقدامات کے پیش نظر لگائی گئی ہے۔ تاہم امارات بھر میں یہ افواہیں سرگرم ہو رہی ہیں کہ شاید حکومت پاکستان کے اماراتی حکومت کے ساتھ سفارتی سطح پر تعلقات میں کوئی بگاڑ پیداہو چکا ہے۔

ایسی افواہوں کو چند شر پسند عناصر بھی ہو ادے رہے ہیں۔ خصوصاً سوشل میڈیا پر یہ منفی پراپیگنڈہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ مستقبل میں اماراتی حکومت پاکستانیوں کی تعداد کومحدود کر دے گی۔اسی وجہ سے پاکستانیوں کے ویزوں کی تجدید نہیں ہو رہی اور انہیں امارات سے ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ اس پراپیگنڈے میں کوئی زیادہ حقیقت نہیں ہے۔ مگر پاکستانی حکومت اور وزارت خارجہ کی پُراسرار خاموشی شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے۔

امارات میں موجود پاکستانیوں کو ان سارے حالات میں اپنا مستقبل مخدوش دکھائی دینے لگا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی مشکل دور سے گزرنے والی معیشت کو امارات میں مقیم 16 لاکھ پاکستانیوں نے اربوں ڈالر سالانہ کے ترسیلات زر کی صورت میں بہت بڑا سہارادے رکھا ہے۔ دُنیا بھر میں سعودی عرب کے بعد یو اے ای پاکستانیوں کے لیے سب سے بڑا مہمان نواز ملک ہے۔

اماراتی حکام کی جانب سے پاکستانیوں کے لیے ویزے اور ورک پرمٹ پر حالیہ پابندی پاکستانی معیشت کی کمزور بنیادوں کو مزید ہلا سکتی ہے۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کے متعلقہ حکام فوری طور پر غفلت کی نیند سے جاگ کر ہنگامی بنیادوں پر یہ پابندی ختم کروانے کیلئے عملی اقدامات کریں، ورنہ پاکستانی مزدوروں کی مضبوط منڈی یو اے ای میں پابندی کے دور میں دیگر ممالک کے کارکنان کا غلبہ ہو جائے گا اور یوں پاکستان بڑے زرِمبادلہ سے محروم ہو جائے گا، لاکھوں پاکستانیوں کا روزگار چھن جانے کا خدشہ جنم لے سکتا ہے۔

راولپنڈی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments