معاشرہ مذہبی واخلاقی انحطاط کا شکار ہے ‘صدر انجمن فیض الاسلام

شریعت کے جو عہد و پیمان ہم نے توڑے ہیں مغرب نے ان کو جوڑ کر اپنی معاشرتی ترقی کی بنیاد بنایا ہماری بدقسمتی رہی جن جماعتوں نے معاشرے کی اصلاح کرنی تھی وہ کسی اور ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں

جمعہ ستمبر 13:15

ْراولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 ستمبر2019ء) انجمن فیض الاسلام کے صدر محمد صدیق اکبر میاں نے کہا ہے کہ شریعت کے جو عہد و پیمان ہم نے توڑے ہیں مغرب نے ان کو جوڑ کر اپنی معاشرتی ترقی کی بنیاد بنایا ․ ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ جن جماعتوں نے معاشرے کی اصلاح کرنی تھی وہ کسی اور ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں اور معاشرہ مذہبی واخلاقی انحطاط کا شکار ہے ․ انجمن فیض الاسلام محض ایک یتیم خانہ ، مدرسہ ، سکول یا فنی تعلیم کا مرکز نہیں بلکہ ایک ایسی تنظیم ہے جہاں یتیم ، لاوارث اور محروم بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ معاشرتی اصلاح و بہتری ، غربت و جہالت کے خاتمے سمیت قومی یک جہتی جیسے اعلی مقاصد کی بھی ایک تسلسل کے ساتھ آبیاری کی جا رہی ہے اور یہ مقاصد شروع دن سے انجمن کی بنیادہیں ․ انہوں نے ان خیالات کا اظہار انجمن کے زیر اہتمام یوم آزادی ،یوم دفاع اور یوم قائد اعظم محمد علی جناح کے سلسلے میںمنعقدہ دو روزہ تقریری مقابلہ جات کی اختتامی تقریب سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا ․ ان کے علاوہ اس موقع پرانجمن کی نائب صدر و چئیرپرسن تعلیمی کمیٹی اظہار فاطمہ ، جنرل سیکریٹری راجا فتح خان، پروفیسر رفیق چوہان ، پروفیسر نیاز عرفان ، طاہر ضیاء ، میڈم مسرت شفیق ، محمد اکمل ، انجمن کے دیگر عہدیداران ، تعلیمی اداروں کے سربراہان ، اساتذہ اور طلبہ کی بہت بڑی تعداد موجود تھی ․ صدر انجمن نے کہا کہ پاکستان میں شائد ہی کوئی این جی او ہو جو جمہوری اصولوں پر چل رہی ہو ․ انجمن کسی قسم کے تعصب یا فرقہ واریت سے پاک ایسے افراد کی تنظیم ہے جو ہر تین سال کے بعد اپنی مجلس منتظمہ کا الیکشن کے ذریعے انتخاب کرتے ہیں جہاں کسی کی کوئی اجارہ داری نہیں ․ انہو ںنے کہا کہ آزادی ، دفاع اور قائدین تحریک پاکستان کے ایام کو منانے کا مقصد طلبہ کو اپنے اسلاف کی قربانیوں ، جدوجہد اور کردار و عمل سے کماحقہ آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ آزادی کی قدر و قیمت کو جان کر وطن کی تعمیر نو میں فعال کردار ادا کر سکیں ․ انجمن کے تمام فنی اور عام تعلیمی مراکز میں طلبہ کی شخصیت و کردار سازی پر خاص توجہ دی جاتی ہے اور انہیں با عمل مسلمان اور معاشرے کا مفید شہری بنانا انجمن کے اولین مقاصد میں شامل ہے ․ محمد صدیق اکبر میاں نے کہا کہ آج ہمارے معاشرے میں خود غرضی ، کام چوری ، دوسروں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاٹا ، جھوٹ ، عدم برداشت اور ان جیسی دیگر بے شمار خرابیاں پیدا ہو چکی ہیں ․ ہم سب نے ان کے خلاف جہاد کرنا ہے ․ انجمن کی پوری توجہ اس امر پر ہوتی ہے کہ ہمارے اداروں میں پلنے بڑھتے اور پڑھنے والے بچے ان خرابیوں سے بچ کر معاشرے کا مفید شہری بن سکیں اور الحمدللہ ہمیں اس میں بہت کامیابیاں ملی ہیں ․ انہوں نے سر کہانیوں ، تقریروں اور ملی نغموں کے مقابلوں میں حصہ لینے اور پوزیشنیں حاصل کرنے والے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ سچائی ، دیانت اور امانت اور محنت کو اپنا شعاربنائیں ․ انہوں نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں بانیان پاکستان بالخصوص قائد اعظم محمد علی جناح اور دفاع وطن میں پاک افواج کے کردار پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ہمارا کردار ہمارے ان اسلاف کی شخصیت و کردار کا آئینہ ہونا چائییے ․ نعرے لگانے اور ایک دوسرے کی مخالفت کرنے والے اسلامی قدروں کی پاسداری سے دور ہوتے ہیں اس لئے ہمیں اسلام کی آفاقی قدروں کے ساتھ جڑ کر اپنے اسلاف کی تاریخ کا مطالعہ کرنا اور اس پر عمل کرنا چائییے ․ نائب صدر انجمن محترمہ اظہار فاطمہ نے اپنے خطاب میں آزادی کو بہت بڑی نعمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنی آزادی کی قدر و قیمت کو جان کر اس کی حفاظت کرنی ہے جس کیلئے ہمیں بانیان پاکستان کے کردار کی ضرورت ہے جنہوں نے اپنے اعلی اور پختہ کردار کی بدولت قیام پاکستان کو ممکن بنایا ․ انہوں نے بچوں سے کہا کہ وہ اپنی تاریخ سے پوری طرح آگاہی حاصل کریں ، پوری محنت کے ساتھ علم حاصل کریں اور تعصبات سے اپنے آپ کو بچا کر ملک کی خدمت کریں ․ انہوں نے کلمات تشکر ادا کرتے ہوئے مقابلہ جاتی تقریبات کو منعقد کرنے کے منتظمین کا شکریہ بھی ادا کیا ․ اس موقع پر پروفیسر رفیق چوہان نے بھی خطاب کیا اور تحریک پاکستان کے قائدین اور افواج پاکستان کو خراج تحسین دیا ․ قبل ازیںگذشتہ روز کے مقابلوں میں پوزیشنیں حاصل کرنے والے طلباء وطالبات نے اپنی پرفارمینس دوبارہ پیش کی ․ محمد صدیق اکبر میاں ، اظہار فاطمہ اور دیگر نے اساتذہ اور طلبہ کو انعامات دئیے -

راولپنڈی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments