اُردو پوائنٹ پاکستان راولپنڈیراولپنڈی کی خبریںسیاحتی انفراسڑکچر اور بین الاقومی معیار کی خدمات فراہم کرنا ہماری ..

سیاحتی انفراسڑکچر اور بین الاقومی معیار کی خدمات فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے، چوہدری عبدالغفور

راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 نومبر2017ء)منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان ٹورازم چوہدری عبدالغفور خان نے کویت سے آنے والے سرمایہ کاروں کے 6رکنی وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ اس دوران گفتگو کرتے ہوئے چوہدری عبدالغفور نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت کے شعبے میں ترقی کیلئے بیرون ِ ملک سے سرمایہ کاروں کو ترغیب دینا اشد ضروری ہے کیونکہ انفراسڑکچر اور بین الاقومی معیار کی خدمات فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔

ملک میں ان گنت سیاحتی مقامات اور سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں جن کی درست سمت میں تشہیر کرکے اس نظر انداز شدہ شعبے کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا جا سکتا ہے اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں اضافے سے زر مبادلہ کی کثیر تعداد قومی معیشت میں شامل کی جا سکتی ہے۔

(خبر جاری ہے)

کویت سے سرمایہ کاروں کے گروپ کی پاکستان آمد سیاحت کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری کے لیئے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔

خنجراب سے گوادر اور خیبر سے کراچی تک سیاحتی شعبہ میں بے شمار مواقع موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ موجودہ حکومت کی سیاحت دوست اور مثبت سرمایہ کارانہ پالیسیوں کے باعث یہ کہنا بجا ہے کہ آنے والے وقتوں میں پاکستان ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوگا ۔ منیجنگ ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ ہمارا مذہب ہی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سیاحت کی بھی تر غیب دیتا ہے۔

ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے کویتی بھائی بلا خوف و خطر پاکستان آئیں اور ہماری روایات و میزبانی سے لطف اندوز ہو ں ، ہمارے کھانوں کامزہ اٹھائیں اور تاریخی عمارات کی سیر کریں ۔ صحرا کو دیکھیں اور شمالی علاقہ جات میں برف پر تفریح کریں۔ اتنی متنوع تفریحات دنیا کے کسی ملک میں اکٹھی دستیاب نہیں ہیں۔ اسی مقصد کو ذہن میں لیئے ہم پاکستان کی کئی یونیورسٹیز میں سیاحت کے مضامین متعارف کرواہے ہیں جو ڈپلومہ سے لے کر ڈگری پروگرام تک اس شعبے میں تعلیم فراہم کریں گے۔

تعلیم یافتہ افرادی قوت سے نہ صرف سیاحت کے شعبے میں کوالٹی سروس فراہم ہو گی بلکہ ایک مثبت تاثر بھی دنیا کو پہنچے گا جس کی اس وقت اشدضرورت ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ آنے والی نسلوں میں اپنے ملک سے متعلق تمام معلومات کے ساتھ اپنے وطن سے محبت کا شعور اجاگر کریں۔ ہماری کوشش ہے کہ کویت سمیت دنیا بھر کے نمایاں سرمایہ کاروں میں پاکستان میں سیاحتی مقامات اور سرمایہ کاری کے مواقع سے متعلق معلومات مہیا کی جائیں تاکہ پاکستان میں ترقی کی رفتار میں مزید بہتری آ سکے۔

ان کا کہنا تھاکہ رواں سال سیاحت کے فروغ کیلئے پاکستانی حکومت نے خصوصی پلان مرتب کیا ہے اورانہیں امید ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کرکے نہ صرف ان مواقع سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں بلکہ اس سرمایہ کاری سے کویت اور پاکستان کے عوام بھی قریب آئیں گے۔کویتی گروپ لیڈر حافظ محمد شبیر نے کہا کہ کویت اور دیگر خلیجی ریاستوں میں ایسے پاکستانی افراد کی بڑی تعداد برسوں سے مقیم جو وہاں اپنی فیملیز کے ساتھ قیام پذیر ہیںاور کاروبار سے وابستہ ہیں۔

یہ لوگ پاکستان میں زرمبادلہ بھیجنے کا بڑا ذریعہ ہیں۔ ان لوگوں کی نسلیں وہاں جوان ہوئیں ہیں لیکن نوجوان نسل کو اپنے ملک سے متعلق زیادہ معلومات نہیں ہیں جس کیلئے پی ٹی ڈی سی کی کوششوں سے پاکستان کی سیاحت کا شعور اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ امید ہے کہ پاکستانی حکومت سرمایہ کاری کو مزید فروغ دے گی تاکہ سرمایہ کاروں کو یقین رہے کہ پاکستان میں نہ صرف ان کا سرمایہ محفوظ ہے بلکہ منافع بخش بھی ہے ۔

کویتی انویسٹر عبدالرسول سرخُو نے کہا کہ ہمیں پاکستان آکر خوشگوار حیرت ہوئی کہ یہ ایک نہایت پرامن ملک ہے۔ یہاں کے باشندے سیاح دوست ہیں ۔ ہم کراچی اور لاہور میں بغیر کسی سکیوریٹی انتظامات کے گھومے پھرے ہیں اور یہاں کے عوام کی خوشدلی اور مہمان نوازی سے نہایت متاثر ہوئے ہیں اور پاکستان حقیقی طور پر مسلم برادرانہ ملک ہے ۔لاہور میں موجود مغلیہ دور ِ حکومت کی نادر تاریخی عمارات یقینا مسلم طرز ِ تعمیر کا قیمتی اثاثہ ہیں جو دنیا کو دکھانے کے لائق ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ کویتی لوگ یہاں کا دورہ کریں اور اس بہترین ملک کی سیاحت سے لطف اندوز ہوں۔ گروپ کے دیگر ممبران میں عبداللہ سلیمان، راجہ ظفر اقبال، احسن محمود بابا اور ندیم اکبر شامل ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

راولپنڈی شہر کی مزید خبریں