اُردو پوائنٹ پاکستان راولپنڈیراولپنڈی کی خبریںلاہور ہائی کورٹ نے ڈھوک سیداں اراضی کیس کا فیصلہ سنا دیا سرکاری اراضی ..

لاہور ہائی کورٹ نے ڈھوک سیداں اراضی کیس کا فیصلہ سنا دیا

, سرکاری اراضی سکول ،کالج ،ہسپتال ،پارک اور پلے گرائونڈ کے لیے مختص کرنے کا حکم

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جنوری2018ء)لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے سرکاری اداروں کو ڈھوک سیداں اراضی کی فروخت کی ممانعت کرتے ہوئے اراضی سکول ،کالج ،ہسپتال اور پلے گرائونڈ کے لیے مختص کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ۔ڈھوک سیداں راولپنڈی میں واقع 108کنال اراضی کیس کا محفوظ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی کے جج مسٹر جسٹس خالد محمود ملک نے منگل کو سنا یا ۔

ڈھوک سیداں اراضی کیس کا فیصلہ جسٹس فرخ عرفان خان نے پٹیشن کی سماعت کے بعد اکتوبر2017 میں تحریر کیا تھا جسے گذشتہ روز لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی کے فاضل جج مسٹر جسٹس خالد محمود ملک نے سنایا ۔درخواست گذار محمد انوار ڈار ایڈووکیٹ نے ذرائع ابلاغ کو بتایاکہ عدالت نے ڈھوک سیداں اراضی کیس کے فیصلے میں ملٹری اسٹیٹ آفس کو اربوں روپے مالیتی اراضی نیلام یافروخت کر نے سے روک دیا ۔

(خبر جاری ہے)

پٹیشن میں وزارت دفاع ،متعلقہ ادارے،حکومت پنجاب اورسیکرٹری محکمہ تعلیم پنجاب کو فریق بنا یا گیا تھا۔انوار ڈار ایڈووکیٹ نے بتایاکہ عدالت نے حکم دیاہے کہ وزارت دفاع صدر مملکت سے مفاد عامہ میں مذکورہ اراضی سے متعلق منظوری لے کر عدالتی حکم کی تعمیل کرے۔ درخواست گذار محمد انوار ڈار ایڈووکیٹ کی جا نب سے پٹیشن میں اٹھائے گئے تمام نکات منظور کر لئے گئے ہیں ،اراضی کو پبلک پارک ،پلے گراؤنڈ اور ہسپتال جیسے عوامی فلاحی مقاصد کے استعمال کے بارے میں رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے ۔

درخواست گذار صدر شفاف سوسائٹی غازی آباد راولپنڈی کینٹ محمد انوار ڈار ایڈووکیٹ نے میڈیا کو بتایاکہ انہوں نے علاقہ مکینوں کی جانب سے 16اپریل 2009میں اس وقت کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو ایک درخواست بھجوائی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ حلقہ این اے 52اور حلقہ این اے 54کے سنگم پر واقع غازی آباد کے علاقے میں لاکھوں نفوس پر مشتمل گنجان آبادی ہے تاہم علاقہ مکینوں کے لیے سرکاری سکول ،ہسپتال اور نہ ہی کھیل کا میدان موجود ہے جبکہ ڈھوک سیداں میں 108کنال 09مرلہ جگہ موجود ہے جسے علاقہ مکینوں کی ضروریات کے مطابق سکول کالج ہسپتال اور کھیل کے میدان کے لیے مختص کیاجائے۔

انہوں نے بتایاکہ بعدازاں اسی درخواست کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں پٹیشن کا حصہ بنایا گیا اور عدالت عالیہ کو بتایاگیا کہ مذکورہ جگہ مختلف سرکاری اداروں کو الاٹ کی جارہی ہے جبکہ اس سے قبل مذکورہ اراضی کی نیلامی کی کوشش بھی کی گئی جس پر شہریوں نے شدید احتجاج بھی کیا تھا۔محمدانوار ڈار ایڈووکیٹ نے بتایاکہ گذشتہ سماعت پر فاضل جج جسٹس محمد فرخ عرفان خان نے ممبر کالونیز پنجاب کو طلب کر کے معاملے کی وضاحت مانگی تھی۔

اس ضمن میں مختصر سماعت کے بعد فاضل جج نے فیصلہ محفوظ کیا تھا ۔واضح رہے کہ ڈھوک سیداں میں 108کنال 09مرلہ اراضی پر پنجاب حکومت کے دو کالجز کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے جبکہ ایک گرلز ڈگری کالج میں کلاسوں کا باقاعدہ اجراء بھی ہو چکا ہے۔عدالتی فیصلے کے بعد پٹیشنر انوار ڈار ایڈووکیٹ نے کہاکہ عدالتی فیصلہ خوش آئند ہے اور عوامی مطالبات کی منظوری پر اہالیان علاقہ فاضل جج کے شکر گذار ہیں ۔انہوں نے کہاکہ مذکورہ فیصلے پر عمل در آمد کے بعد لاکھوں نفوس پر مشتمل آبادی کے لیے کھیل کے میدان ،ہسپتال اور پبلک پارک کا مطالبہ پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

راولپنڈی شہر کی مزید خبریں