نبی کریم ؐ کے ساتھ اپنے عشق و محبت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ان کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کیاجائے،راجہ راشد حفیظ

ا علمائے کرام ، مشائخ عظام ، دانشور ، صحافی اور شعور و آگاہی رکھنے والے تمام افراد معاشرہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری باریتعلیمات نبوی ؐ کا پرچار کرکے اس کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں،صوبائی وزیر کی اپیل

جمعرات اکتوبر 23:22

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 اکتوبر2020ء) انسداد ذخیرہ اندوزی و گراں فروشی مانیٹرنگ سیل کے ضلعی انچارج صوبائی وزیر خواندگی و غیر رسمی بنیادی تعلیم راجہ راشد حفیظ نے جشن عید میلاد النبیؐ کے موقع پر عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ نبی کریم ؐ کے ساتھ اپنے عشق و محبت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ان کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کریں اور اپنی زندگی کے تمام معاملات کو اس کے تابع بنانے کی کوشش کریں ․ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری ایسی غلاظت ہے جو کسی نیکی کو قبول اور معاشرے کو صالح نہیں ہونے دیتی لہذا علمائے کرام ، مشائخ عظام ، دانشور ، صحافی اور شعور و آگاہی رکھنے والے تمام افراد معاشرہ اس غلاظت کے بارے میں تعلیمات نبوی ؐ کا پرچار کرکے اس کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں ․ جس طرح ہماری زبانیں مدح رسول ؐ سے تر ہیں اسی طرح ہمارے قلوب و اذہان میں بھی حب نبوی ؐ اترنی چائییے جس کا لازمی نتیجہ اورتقاضا ہے کہ ہمارے اعمال و کردار سے اسوہ حسنہ کی جھلک ملے ․ انہوں نے یہ بات عید میلاد النبیؐ کے موقع پر اپنے ایک خصوصی پیغام میں کہی ․ راجہ راشد حفیظ نے کہا کہ ملعون فرانسیسیوں کی توہین رسالت ؐ کی جسارت نے ہمارے جذبہ ایمانی کو سخت ٹھیس پہنچائی ہے اور ہر عاشق رسول ؐ کا دل دکھی ہوا ہے ․ انہوں نے کہا کہ رحمت اللعالمین ؐ کی بعثت پوری انسانیت کیلئے رشد و ہدایت ، فلاح و بہبود اور سلامتی کا منبع ہے اور ان کی تکریم خود خالق کائنات بھی کرتا ہے ․ پاکستان بھر کے مسلمانوں نے جس طرح اس گستاخی پر اپنا شدید رد عمل دیا ہے وہ تقاضائے عین ایمان ہے ․ راجہ راشد حفیظ نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں اسلام سے متصادم جو اعمال اور رویے زیر عمل ہیں وہ بھی نبی کریم ؐ کی تکریم سے ٹکراتے ہیں ․ جھوٹ فریب ، دھوکہ دہی ، ناجائز منافع خوری اور بے شمار خرابیاں ہمارے معاشرے میں راسخ ہو چکی ہیں جو ان تعلیمات کے خلاف ہیں جو ہمارے نبی پاکؐنے ہمیں دی ہیں ․ ہم سب کو آج حضور ؐ کی ولادت با سعادت کا دن مناتے ہوئے اپنا محاسبہ کرکے اپنے آپ سے سوال پوچھنا چائییے کہ ہم نبی کریم ؐ کے ساتھ اپنی محبت اور عشق کا اظہار کرتے ہوئے ان کی سیرت و کردار کو الگ کیوں کر دیتے ہیں ․ حضور اکرم ؐ کی ناموس ان کی ذات اقدس اور سیرت و کردار کے مجموعے کا نام ہے ․ ان کی ذات با برکات کی تعریف و توصیف اللہ تعالی ، اس کے فرشتوں اور عاشقان رسول ؐ کا مشترکہ عمل ہے اور بندگان خدا کی جانب سے یہ عمل اس وقت تک محض قانونی ہی رہے گا اورمکمل ایمانی عمل نہیں بن پائے گا جب تک ہم اس کے ساتھ بعثت نبوی ؐ کے تقاضے پورے کرکے ملا نہیں لیتے ․ راجہ راشد حفیظ نے کہا کہ یہ تقاضے صالح اعمال اور رویے ہیں جن پر خود نبی کریم ؐ نے عمل پیرا ہو کر ہمیں نمونہ دیا ․ جب تک ہم ان تقاضوں کو نہیں اپناتے اس وقت تک ہم اسلام یا ایمان کی بیرونی دیواروں کے گرد تو گھومتے رہے گے مگر اس کے اندر یا یہ ہمارے اندر داخل نہیں ہونگے ․اسی کو تصدیق یا یقین باالقلب کہا جاتا ہے جو اقرارباللسان کو کامل ایمان بناتا ہی․انہوں نے علمائے کرام ، اساتذہ ، مشائخ عظام اور مذہبی راہنمائوں سے اپیل کی ہے کہ وہ معاشرے کی تطہیر کیلئے اس جہت میں زیادہ محنت اور توجہ سے کام کریں تاکہ زبانی اقرار کے ساتھ ساتھ ہمارے لوگوں کے قلوب بھی ایمان کی تصدیق کریں جس کا اظہار اعمال صالح سے ہوتا ہے ․

راولپنڈی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments