آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشنز کا نجی تعلیمی اداروں کی کنٹونمنٹ کے علاقوں سے بے دخلی پر شدید احتجاج

نجی تعلیمی اداروں کو متبادل جگہ کی فراہمی تک نجی تعلیمی اداروں کے خلاف کاروائی سے اجتناب کیا جائے، مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں ہمارا آئندہ پڑائو ڈی چوک میںہو گا،جوائنٹ ایکشن کمیٹی

منگل 7 دسمبر 2021 23:42

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 07 دسمبر2021ء) آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشنز کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے نجی تعلیمی اداروں کی کنٹونمنٹ کے علاقوں سے بے دخلی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کنٹونمنٹ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کو تعلیمی سرگرمیوں کے لئے فوری متبادل جگہ فراہم کی جائے اور متبادل و مناسب جگہ کی فراہمی تک نجی تعلیمی اداروں کے خلاف کاروائی سے اجتناب کیا جائے ایکشن کمیٹی نے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں ہمارا آئندہ پڑائو ڈی چوک میںہو گایہ مطالبہ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام نجی تعلیمی اداروں کی کنٹونمنٹ کے علاقوں سے بے دخلی کے خلاف راولپنڈی کینٹ بورڈ سے چکلالہ کینٹ بورڈ تک’’ تعلیم بچائو‘‘ احتجاجی مارچ کے موقع پر کیا گیا احتجاجی مارچ کے شرکا نے آرمی سٹیڈیم اور وزارتِ دفاع کے سامنے علامتی دھرنے بھی دیئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ممبران چوہدری ناصر محمود، ملک اظہر محمود،ابرار احمد خان، چوہدری محمد طیب، رانا سہیل،محمد عثمان، ملک نسیم احمد، حافظ محمد بشارت، راجہ نصیر احمد جنجوعہ، محمد آصف، شہباز قمر، چوہدری امجد زیب، ندیم شیراز، محمد جمیل کے علاوہ ایبٹ آباد پیما کے مرکزی عہدیداران واحد سراج، عرفان طالب، عاطف خان جدون، واہ فیکٹری سے نعیم اشرف، امجد علی، شیخ قمر، عاطف عزیز نے ریلی کی قیادت کی مارچ میں ہزاروں سکول مالکان، مردو خواتین اساتذہ، طلبا و طالبات اور والدین نے شرکت کی احتجاج کے شرکا نے ہاتھوں میں پلے کارڈزاٹھا رکھے تھے جن پر تعلیم کے حوالے سے کلمات درج تھے جبکہ شرکانے زبردست نعرہ بازی کی اور چیف جسٹس ، آرمی چیف اور وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا کہ نجی تعلیمی اداروں کی کنٹونمنٹ کے علاقوں سے بے دخلی فوری طور پر روکی جائے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کنونیئرچوہدری ناصر محمود نے کہا کہ کنٹونمنٹ انتظامیہ نجی تعلیمی اداروں کو تعلیمی سرگرمیوں کے لئے متبادل جگہ فراہم کرے متبادل اور مناسب جگہ کی فراہمی تک نجی تعلیمی اداروں کے خلاف کاروائی سے اجتناب کیا جائے انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں تعلیمی اداروں کی بندش کے باعث 37 لاکھ طلبا و طالبات کے لئے تعلیم کے دروازے بند ہو جائیں گے جیک کے جنرل سیکریٹری ملک اظہر محمود نے کہا کہ آرمی چیف نجی تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لئے کردار ادا کریں اور کنٹونمنٹ ایکٹ میں مناسب ترمیم کر کے تعلیمی سلسلہ بحال رکھا جائے ممبر جیک ابرار احمد خان نے کہا کہ انتہائی افسوس ناک امر ہے کہ آج کا استاد اپنے تعلیمی ادارے بچانے کے لئے سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو گیا ہے کاش ہمارا احتجاج اس بات پر ہوتا کہ ہم نے شرح خواندگی کو کیسے بڑھانا ہے اور دو کروڑ بچوں کو تعلیمی اداروں میں کیسے لانا ہے اقوامِ عالم کی صفوں میں علم کی بدولت اپنا لوہا کیسے منوانا ہے انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک اس وقت اس طرح کے مسائل کا متحمل نہیں ہو سکتااگر کنٹونمنٹ کے علاقوں سے تعلیمی ادارے ختم ہوتے ہیں تو دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہوگی اگر انتظامیہ ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کرتی اور مسئلے کا دیر پا حل تلاش نہیں کرتی تو ہماری اگلی منزل ڈی چوک اسلام آباد ہو گی کینٹ انتظامیہ نے اگر کسی ایک سکول کو بھی سیل کیا تو جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور اس سے وابستہ ہزاروں تعلیمی ادارے اُس کے تحفظ کے لیے میدانِ عمل میں کود پڑیں گے انہوں نے کہا کہ کنٹونمنٹ کی طرف سے نجی تعلیمی اداروں کے خلاف بعض اقدامات آئین سے متصادم ہیں کنٹونمنٹ عملہ کی طرف سے صرف نجی تعلیمی اداروں کو نوٹس جاری کرنا عدالتی فیصلے کی غلط تشریح اور نفاذ ہے حکومت کنٹونمنٹ کے زیر انتظام علاقوں سے نجی تعلیمی اداروں کی منتقلی کے معاملے پر سٹیک ہولڈرز سے ملکر کوئی قابل عمل حل نکالی

راولپنڈی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments