ساہیوال، شہید خاندان کے بیٹے کو عدالت سے ضمانت کنفرم ہونے کے با وجود پولیس یوسف والہ نے اسی مقدمہ میںگرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنا دیا

عدالت نے توہین عدالت کی کاروائی شروع کر دی

منگل ستمبر 20:39

ساہیوال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 22 ستمبر2020ء) ایڈیشنل سیشن جج ساہیوال منیر حسین گل نے شہید کے بھائی ،شہید کے بیٹے انیس بھٹی کو عدالت سے حفاظتی ضمانت قبل از گرفتاری کنفرم ہونے کے با وجود پولیس یوسف والہ کے گرفتار کر نے پر توہین عدالت کے الزام میں تھانہ یوسف والہ کے ایس ایچ او ،تفتیشی اے ایس آئی محمد اسماعیل،پولیس کانسٹیبلوں سمیت گیارہ افراد کو عدالت نے 26ستمبر کو طلب کر لیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق چک72۔فائیو۔ایل کے انیس بھٹی کاشتکار کے باپ محمد حنیف بھٹی اور بھائی اویس بھٹی دونوں گوادر میں عسکری خدمات کے دوران شہید ہو گئے تھے کہ اس گھرانہ کے انیس بھٹی کے خلاف تھانہ یوسف والہ پولیس نے ایک مقدمہ اغواء اور غیر قانونی حبس بیجا میں رکھنے کا درج کیا تھا ۔

(جاری ہے)

جس میں عدالت نی17ستمبر کو انیس بھٹی کی حفاظتی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر کے کنفرم کر دی لیکن تھانہ یوسف والہ کے تھانیدار محمد اسماعیل اور ایس ایچ او کو یہ بات ناگوار گزری اور مخالف فریق سے مک مکا کر کے پولیس نی18ستمبر کو اسی مقدمہ میں دو بارہ گرفتار کر کے عدالتی احکامات کی پرواہ بھی نہ کی اور اگلے روز سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم انجم فراز کی عدالت سے انیس بھٹی کا 22ستمبر تک جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا اور انیس بھٹی پر تشدد کیا۔

اور وکیل تاج محمد خاں نے سیشن جج ساہیوال کو توہین عدالت پولیس تشدد،غیر قانونی گرفتاری،غیر قانونی جسمانی ریمانڈ کی پٹیشن پر سیشن جج نے توہین عدالت کا کیس چلانے کے لئے ایڈیشنل سیشن جج منیر حسین گل کو کاروائی کیلئے بھیج دیا ۔جس پر عدالت نے توہین عدالت کے جرم میں گیارہ افراد کو طلب کر لیا ہے۔جبکہ پولیس نے انیس بھٹی کو چھوڑ دیا۔

ساہیوال شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments