سانگھڑ ،ڈپٹی کمشنر نثار احمد میمن کی جانب سے سول اسپتال میں کھلی کچہری کا انعقاد

کھلی کچہری میں عام عوام کے بجائے سول اسپتال کے تمام عملے کو مدعوکرکے فوٹو سیشن کیا گیا

پیر جولائی 22:40

سانگھڑ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 15 جولائی2019ء) ڈپتی کمشنر سانگھڑ نثار احمد میمن کی جانب سے سول اسپتال میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا ۔کھلی کچہری میں عام عوام کے بجائے سول اسپتال کے تمام عملے کو مدعو کرتے ہوئے فوٹو سیشن کیا گیا۔

(جاری ہے)

اس سلسلے میں من پسند درباری صحافی کو مدعو کیا گیا درباری صحافی سے فوٹو سیشن کراکر سب اچھے کی رپورٹ جاری کی گئی اس سلسلے میں سانگھڑ کی عوام میں تشویش کی لہر پائی گئی عوامی ردے عمل میں کہا گیا ہے کہ کھلی کچہری جو کہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان ہوتی ہے اور صحت کی سہولیات اور عوامی مسائل کا آزالہ کیا جاتا مگر ڈپٹی کمشنر سانگھڑ نثار احمد میمن نے اسپتال عملے کو کھلی کچہری میں بیٹھا کر عوام کے ساتھ کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا ہے عوامی ردے عمل میں کہا گیا ہے کہ سول اسپتال جو کہ ریفر سنٹر کا کردار ادا کر رہا ہے گزشتہ ایک سال سے سول اسپتال میں نہ ادویات دستیاب ہیں اور نہ ہی میڈیکل کا عملہ دستیاب ہے اسپتال میں عام مریضوں کو سرنج تک دستیاب نہیں مگر ایسی صورت حال ہونے کے باوجود ڈی سی سانگھڑ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کردار ادا کر رہے ہیں کھلی کچہری میں اسپتال ملازمین کے گلے شکوے کالونی کے مسائل پر بات چیت کرتے ہوئے گفتًن نشستًً کے کلیے کو اپناتے ہوئے کچہری برخواست کی گئی سانگھڑ کی عوام نے کہا ہیکہ ہمارے خون پسینے کی کمائی سے ضلعی انتظامیہ لاکھوں روپے تنخواہیں وصول کرتی ہے جب کہ عوام کے خادم اور ملازم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر عوامی حقوق کی پائمالی بھی یہی لوگ کرتے ہیں اس سلسلے میں محمد یونس نوید احمد اور دیگر شہریوں کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ نے ضلع سانگھڑ کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے اپنے کیے ہوئے وعدے بھی پورے نہیں کر رہے باکھوڑو روڈ پائپ لائن منصوبہ، واٹر سپلائی منصوبہ، لوڈ شیڈنگ، شہر کی گلیاں ،سیوریج، صفائی ستھرائی، فلٹرز پلانٹس صحت اور تعلیم جیسے ادارے تباہ حال ہیں مگر ان سب منصوبوں کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے بجائے فوٹوسیشن کر کے عوام کے ساتھ کھلا مزاق کیا جا رہاہے سانگھڑ کی تین لاکھ عوام پینے کے پانی کو ترس رہی ہے اوجی ڈی سی ایل میں مقامی افراد کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے جب کہ معزور افراد کی نوکریاں ڈی سی سانگھڑ کی مرحون منت کا شکار ہیں ضلع بھر میں روزانہ 35 افراد کو کتے کاٹ رہے ہیں اسپتالوں میں اینٹی ریبیز کی ویکسین دستیاب نہیں جوان سال نوجوان کتوں کی وجہ سے موت کی آغوش میں جارہے ہیں ہر تیسرا شخص ہیپاٹائٹس کا شکار ہے ہیپاٹائٹس کی ادویات دستیاب نہیں ضلع بھر میں آٹھ ہزار ٹی بی کے مریض اور دو سو کے قریب ایچ آئی وی ایڈز کے مریض جس میں سو افراد موت کی وادی میں پہنچ چکے ہیں ملیریا کی وبائ اور ایک سال سے مچھروں مار مہم نہیں ہوسکی مختیار کار آفس کرپشن کا گڑھ بن گیا سیلز سرٹیفکیٹ اور دیگر کاموں کے لئے ہزاروں روپے رشوت طلب کی جا رہی ہے کرپشن عروج پر ڈومی سیل جیسے کاغذات ایجنٹوں کے زریعے بنوانے کا عمل جاری ہے آئے روز ٹریفک حادثات معمول بن گئے مگر ڈی سی سانگھڑ کسی بھی طرح عوامی بھلائی کے لئے اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں بلدیہ سانگھڑ کا سی ایم او روینیو کا آفیسر ہونے کے باوجود عوامی شکایات کا آزالہ نہیں ہورہا بلدیہ سانگھڑ کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے مال مویشی منڈی، ایڈور ٹائزنگ، پارکنگ کے ٹھیکے التواء کا شکار ہیں شہر میں مصنوعی مہنگائی نے عوام سے دو وقت کی روٹی چھین لی مزدور عملہ بھوک مررہا ہے اوجی ڈی سی ایل کے فنڈز پر سیاسی لوگوں کو نواز جارہا ہے شہریوں سے لی گئی تجاویز اور درخواستوں کو کچرے کی ٹوکری میں پھینکتے ہوئے من مرضی کی اسکیمیں جاری کی جارہی ہیں عوام نے ڈی سی سانگھڑ ہٹاؤ مہم کا عندیہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایماندار آفیسر تعینات کیا جائے تاکہ عوام کے دکھوؤں کا مداوا ہوسکے ۔

#

سانگھڑ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments