سلانوالی، زیتون کادرخت زندگی اورامن کی علامت ہے، محکمہ زراعت

جمعہ نومبر 17:14

سلانوالی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 نومبر2019ء) ترجمان محکمہ زراعت نے بتایاہے کہ زیتون کادرخت زندگی اورامن کی علامت ہے ، زیتون کی ایک ہزار سے زائداقسام ہیں، زیتون کاتیل دل کی بیمار ی پٹھوں کی کمزوری اورنیندکی کمی جیسے امراض کیلئے بے حد مفید ہے، زیتون کادرخت سدابہارہے اس کی بلندی 15میڑجبکہ پھیلائو10میٹرتک ریکارڈ کیاگیاہے زیتون کے پودے تپتے صحرا سے لے کر برف پوش پہاڑی چوٹیوں تک اگائے جاسکتے ہیں، زیتون کے پودے عام طورپرچار سے پانچ سال کی عمر میں پھل دیناشروع کرتے ہیں، زیتون کے پودے پر پھول آنے کاعمل زیتون کی قسم اورموسمی حالات پر منحصر ہے، پھول آنے کے بعد 4تا5ماہ تک پھل پک کرتیارہوجاتاہے، سرگودہاڈویثرن میںواقعہ وادی سون کے موسمی حالا ت زیتون کی پیداوار کیلئے انتہائی مناسب ہے کیونکہ وادی سون سکیسرسطح سمندر سے تقریبا900میٹرکی بلندی پر واقعہ ہے جبکہ سکیسر کی چوٹی سطح سمندرسے 1600میٹر کی بلندی پر سلسلہ کوہ نمک سے ملحقہ پہاڑی علاقہ پر واقعہ ہے وادی سون کے موسمی حالات کے تناظر میں جنگلی زیتون کی پیوندکار ی یہ گرافٹنگ کرکے زیتون کی تجارتی اقسام مثلا آٹوبراٹیکاکوراٹینوفرانتویواورلیسنوکی ترویج کے روشن امکانات ہے ان اقسام کوترقی د ے کر زیتونے کے تیل کی اچھی پیداوارحاصل کی جاسکتی ہے اور خوردنی تیل پر خرچ ہونے و الا کثیرزرمبادلہ بھی بچایاجاسکتاہے خوردنی تیل کے سالانہ اخراجات 40تا50ارب رو پے ہے پاکستان اپنی ضرورت کاصرف32فیصدخوردنی تیل پیداکرتا ہے باقی 68فیصددرآمدکیاجاتا ہے، ا ن حالات کومدنظررکھتے ہو ئے ضرورت ا س امرکی ہے کہ سرگودہاڈویثرن کے علاقہ وادی سون جیسے پہاڑی علاقے میں زیتون کی کا شت کوتجارتی بنیادوں پر متعارف کروایاجائے وادی سون کے موسمی حالات اورجنگلی زیتوں کے پودوں کی کثیرتعداد کی موجودگی اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومتی سرپرستی اورمحکمہ جنگلات کے تعاو ن سے مقامی آبادی کے اندر زیتون کی کاشت کاشعوراجاگرکیاجائے اورزیتون کی کا شت کومقبول عام بنایاجائے وادی سون کا قابل کا شت رقبہ55ہزارایکڑ ہے۔

متعلقہ عنوان :

سرگودھا شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments