شانگلہ ، مارتونگ میں اندھے قتل کا معمہ حل، پولیس نے اصل ملزم تک رسائی حاصل کرکے آلہ قتل سمیت گرفتار کرلیا

جمعرات اکتوبر 19:46

سوات(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 29 اکتوبر2020ء) شانگلہ کے علاقے مارتونگ میں اندھے قتل کا معمہ حل، پولیس نے اصل ملزم تک رسائی حاصل کرکے آلہ قتل سمیت گرفتار کرلیا۔ ۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق 17-10-2020کومسمی فدا محمد ولد عمرین سکنہ کارین درہ کی رپورٹ پر مقدمہ بجرم 302,6/7ATAتھانہ مارتونگ میں رجسٹر ہوا جس میں مدعی نے یہ موقف اختیار کیا کہ اس کے بھائی مقتول مسمی کانسٹیبل حافظ محمد کا کسی کے ساتھ کوئی دشمی عداوت نہیں تھی اس کو صرف پولیس فورس وردی کی بناء پر نامعلوم شدت پسندوں نے ٹارگٹ کرکے فائرنگ کرکے قتل کیا ہے جس پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شانگلہ کیڈٹ محمد آصف گوہر نے وقوعہ کے نسبت اطلاع پاتے ہی رات کے وقت جائے وقوعہ پہنچ کر سارے حالات واقعات سے انسپکٹر جنرل پولیس آف خیبر پختونخواہ اور ریجنل پولیس آفیسر ملاکند محمد اعجاز خان PSP کو اگاہ کیا ریجنل پولیس آفیسر ملاکنڈ محمد اعجاز خان نے فوری طور پر تجربہ کار اور قابل افسران پر مشتمل تفتیشی ٹیم بنانے اور مقدمہ کو ہر صورت میں ٹریس کرنے اور اصل ملزمان کوٹریس کرنے کی نسبت ہدایات جاری کیں جائے وقوعہ کاجائزہ لینے کے بعد ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شانگلہ کیڈٹ محمد آصف گوہر نے ایس ایچ او تھانہ مارتونگ محمد پرویز اور ڈی ایس پی پورن پرویز کو ہدایت دی کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے میرٹ پر ہر پہلو کو مدنظر رکھ کر تفتیش کی جائے اسی طرح ڈی پی او شانگلہ کیڈٹ محمد آصف گوہر نے ایس پی انوسٹی گیشن شانگلہ مزمل شاہ جدون کو بھی ہدایات دی کہ ماہر اور تجربہ کار پولیس افسران پر مشتمل ایک انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دیں تفتیشی ٹیم روزانہ کی بنیاد پر تفتیش کے نسبت پراگرس رپورٹ ڈی پی او کو دیگی تفتیشی ٹیم میں ایس پی انوسٹی گیشن شانگلہ مزمل شاہ جدون، ڈی ایس پی پورن پرویز خان،ڈی ایس پی انوسٹی گیشن عطاء اللہ خان، انسپکٹر ایس ایچ او تھانہ الوچ محمد پرویز خان، انسپکٹر جمعہ رحمن خان تفتیشی آفیسر تھانہ الوچ اور تفتیشی آفیسر تھانہ مارتونگ شیر بہادر نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شانگلہ کیڈٹ محمد آصف گوہر کی جاری کردہ ہدایات پر عمل کرتے ہوئے پورے علاقے میں سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن شروع کیا دوران سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن غیر قانونی اسلحہ جس میں 05بندوق،05پستول اور 38عدد کارتوس شامل ہیں بھی برآمد کر لئے گئے معززین علاقہ کے ساتھ میٹنگ کرکے مکمل حالات واقعات بابت واردات قتل خفیہ یا اعلانیہ امدادکے لئے قائل کیا جنہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ہر ممکن طور پر معلومات حاصل کرکے حقائق پر مبنی وقوعہ کے نسبت اطلاعات فراہم کریں گے اسی طرح جیو فیسنگ کروانے کیلئے کاروائی شروع کی گئی مدعی فریق کے رشتہ داروں اور علاقے کے دیگر مشتبہ گان بہ تعداد تقریباً50کو شامل تفتیش کرکے ہر پہلو سے تفتیشی ٹیم نے انٹاروگیٹ کیا دوران تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ مقتول حافظ محمد کے قتل میں دہشت گردی، شدت پسندی کا کوئی عنصر نہیں پایا جاتا البتہ اتفاقیہ یا دشمنی کے بنیاد پر گاؤں کی ہی سطح پر کسی نے فائرنگ کرکے قتل کیا ہے اس طرح دوران تفتیش یہ بات خفیہ ذرائع سے معلوم ہوئی کہ مسمی سید جمال ولد نصیب سکنہ کارین درہ وقوعہ کے روز دیہہ کارین درہ میں موجود تھا اور صبح مقتول کے جنازہ میں بھی شریک رہا اور اس کی حرکات و سکنات مشکوک پائی گئیں تھیں جو بعد از جنازہ دیہہ کارین درہ سے راولپنڈی چلے جانا بیان ہوا جس کو راولپنڈی سے لا کر شامل تفتیش کرکے انٹاروگیشن شروع کی جس نے دوران انٹاروگیشن جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بیان دیا کہ مقتول حافظ محمد کو اس نے رات کے وقت گھر سے باہر نکلتے ہوئے کلاشنکوف سے فائرنگ کرکے قتل کیا ہے اور کلاشنکوف بعد وقوعہ اس نے اپنے گھر میں بکس کے اندر چھپا رکھا ہے اور اپنے نشاندہی پربرآمد کرواسکتا ہے ملزم کے اس انکشاف پر اس کے گھر سے کلاشنکوف برآمد ہو کر قبضہ پولیس کیا گیا وجہ عداوت یہ بتلائی کہ اس کے کچھ پوشیدہ راز مقتول کے پاس تھے جس کے بناء پر وہ اُسے بلیک میل کر رہا تھا اور قتل کرنا بھی چاہتا تھا ایسے حالات میں مجھے اُس سے جان کا خطرہ بھی تھا موقع پا کر میں نے اُسے رات کے وقت بوقت21:00 بجے گھر کے باہر فائرنگ کرکے قتل کیا ہے جملہ حالات واقعات مدعی فریق کو بتلائے جنہوں نے پولیس کی تفتیش پر اعتماد کرتے ہوئے ملزم پر دعویداری کی اور پولیس افسران، تفتیشی ٹیم کی انتھک محنت کو خوب سراہا جس پر مدعی کا تتمہ بیان 161ض ف قلمبند کرکے عدالت میں بھی 164ض ف کا بیان قلمبند کیا اور FIRسے 7ATAقلمزن کیا گیا ملزم کو حسب ضابطہ گرفتار کیا گیا پولیس کی بہترین حکمت عملی اور تفتیش کی بدولت علاقے میں پھیلاہوا یہ خوف بھی ختم ہو گیا کہ کسی دہشت گرد یا شدت پسند تنظیم نے مقتول پولیس اہلکار حافظ محمد جو کہ موجودہ وقت میں عرصہ گیارہ ماہ سے آرمی یونٹ 136کے ساتھ بطور انفارمر (سورس) ڈیوٹی کی وجہ سے ٹارگٹ کیا گیا ہے بلکہ وقوعہ نہ تو دہشت گردی اور نہ ہی شدت پسندی کا نتیجہ پایا گیا بلکہ خالصتاً اپنے ہی رشتہ دار ملزم سید جمال کے ہاتھوں خاندانی معاملات پر قتل کیا گیا یوں علاقے کے عوا م، آرمی کے افسران ملاکنڈ ڈویژن اور پولیس کے اعلیٰ افسران نے پولیس کی اس انتھک محنت اور کوشش کے نتیجے میں اصل حالات واقعات کو سامنے لا کر صرف6دن کے اندر اندر اندھے قتل کا سراغ لگا کر اور علاقے سے خوف اور دہشت کا خاتمہ کرنے پرعلاقہ معززین نے شاندار الفاظ میں پولیس تفتیشی ٹیم اور ڈی پی او شانگلہ کیڈٹ محمد آصف گوہر کو خراج تحسین پیش کیا ریجنل پولیس آفیسر ملاکنڈ محمد اعجاز خان PSPنے تفتیشی ٹیم کے لئے توصیفی اسناد اور نقد انعام کا حکم بھی جاری کرکے افسران کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

شانگلہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments