سانحہ سیالکوٹ، مقتول سری لنکن شہری کی آخری رسومات ریاستی سطح پر کرنے کا مطالبہ کر دیا گیا

پریانتھا کمارا کی ریاستی سطح پر آخری رسومات ادا کی جائیں تاکہ مقتول کے خاندان کو بتا سکیں کہ بحیثیت قوم ہم شرمندہ ہیں: لیگی رہنما احسن اقبال

muhammad ali محمد علی اتوار 5 دسمبر 2021 00:49

سانحہ سیالکوٹ، مقتول سری لنکن شہری کی آخری رسومات ریاستی سطح پر کرنے کا مطالبہ کر دیا گیا
لاہور (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 دسمبر2021ء) سانحہ سیالکوٹ، مقتول سری لنکن شہری کی آخری رسومات ریاستی سطح پر کرنے کا مطالبہ کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما احسن اقبال نے مقتول سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کے حوالے سے حکومت سے بڑا مطالبہ کیا ہے۔ لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ پریانتھا کمارا کی ریاستی سطح پر آخری رسومات ادا کی جائے تاکہ مقتول کے خاندان کو بتا سکیں کہ بحیثیت قوم ہم شرمندہ ہیں، ہم اس واقعے پر افسوس ہے۔



اپنی ایک اور بیان میں احسن اقبال نے سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان کے بیان کے جواب میں کہا کہ بصد احترام مولانا صاحب ایسے واقعات کی غیر مشروط مذمت ہونی چائیے۔ اسلام اس طرح کی جنونیت اور ہجوم کے ہاتھوں غیرقانونی قتل کی اجازت کسی صورت میں نہیں دیتا۔

(جاری ہے)

علماء کرام سے قوم توقع رکھتی ہے کہ وہ قوم کی اس معاملہ میں راہنمائی فرمائیں گے۔

دوسری جانب مقتول سری لنکن کے بھائی کا بھی اہم بیان سامنے آیا ہے۔ نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق مقتول سری لنکن شہری کے بھائی نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی والدہ کو تاحال اپنےبیٹے کی موت کا علم نہیں ہوا۔ کمالا سری شانتا کا کہنا ہے کہ انہیں سمجھ ہی نہیں آ رہی والدہ کو بھائی کی موت کا کیسے بتائیں۔ مقتول کے بھائی نے حکومت پاکستان کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے خصوصی گزارش بھی کی ہے۔

کمالا سری شانتا نے گزارش کی ہے کہ حکومت پاکستان ان کے مقتول بھائی کے بچوں کیلئے کچھ کرے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ وہ حکومت پاکستان کے اقدامات اور تحقیقات سے مطمئن ہیں۔ مقتول سری لنکن مینیجر کے بھائی کمالا سری شانتا کے مطابق انہیں پاکستان پسند ہے، پاکستان کے متعلق ان کے خیالات اب بھی اچھے ہیں۔ اپنے بھائی سے متعلق کمالا سری شانتا کا بتانا ہے کہ ان کے بھائی ہمیشہ پاکستان کی تعریف کرتے تھے، انہوں نے پاکستان سے متعلق کبھی کوئی شکایت نہیں کی، ان کا ایک اور بھائی پاکستان کے شہر کراچی میں ملازمت کرتا ہے۔

سیالکوٹ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments

>