سیالکوٹ واقعہ ؛ 13 مرکزی ملزمان ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

ملزمان کو کل گوجرانوالہ انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا جائے گا

Sajid Ali ساجد علی اتوار 5 دسمبر 2021 15:15

سیالکوٹ واقعہ ؛ 13 مرکزی ملزمان ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
سیالکوٹ ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 05 دسمبر 2021ء ) سیالکوٹ واقعے میں سری لنکن مینیجر کو قتل کرنے والے 13 مرکزی ملزمان کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق سری لنکن شہری کے قتل کے واقعے میں گرفتار کیے گئے 13 مرکزی ملزمان کو ایک روزہ سفری ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے ، ملزمان کو کل گوجرانوالہ انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

دوسری جانب پولیس نے سیالکوٹ واقعے میں ملوث مزید 6 مرکزی ملزمان گرفتار کرلیا ‘ گرفتاریوں کی تعداد 124 ہوگئی ، پولیس ترجمان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سیالکوٹ میں فیکٹری کے سری لنکن مینیجر کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران مزید 6 مرکزی ملزمان گرفتار کیا گیا ہے ، جس کے لیے سائنٹفک انداز سے تفتیش کو آگے بڑھایا گیا ، سی سی ٹی سی فوٹیج اور موبائل کالز ڈیٹا سے گزشتہ 12 گھنٹوں میں پولیس نے مزید 6 مرکزی کرداروں کا تعین کرکے انہیں گرفتار کرلیا ، یہ ملزمان اپنے دوستوں اور رشتے داروں کے گھروں میں گرفتاری کے ڈر سے چھپے ہوئے تھے۔

(جاری ہے)

قبل ازیں انسپکٹر جنرل پنجاب راؤ سردار نے کہا کہ سیالکوٹ واقعے میں پولیس کی کوتاہی ثابت نہیں ہوئی، 160 فوٹیجز کی روشنی میں گرفتاریاں کی جائیں گی، سیالکوٹ کے افسوسناک واقعے کا آغاز 10 بج کر2 منٹ پرہوا جب کہ 11 بجے تک پریا نتھاکمارا کی ہلاکت ہوچکی تھی ، پولیس11 بج کر 28 منٹ پر جائے وقوعہ پر پہنچی ، واقعے کی اطلاع ملنے پر مقامی پولیس نے فوری طورپر حکام کوآگاہ کیا ، ڈی پی او اور ایس اپی پیدل چل کر وہاں پہنچے، واقعے کے بعد راستے بلاک تھے اس میں پولیس کی کوتاہی ثابت نہیں ہوئی، اگر واقعے میں پولیس کی کوئی کوتاہی ہوئی تو اس کا جائزہ لیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ 13 مرکزی ملزمان میں وہ لوگ ہیں جو ادھر میڈیا کو بھی انٹرویوز میں بیان حلفی دیتے رہے ، واقعے میں سارے ملزم تو قاتل نہیں ہر ملزم کا کردار طےکیا جائے گا اور تفتیش میں طے کریں گے کس ملزم کا کیا رول تھا ، مزید گرفتاریوں کے لیے بھی 10 ٹییمیں بنائی گئی ہیں ، واقعے کے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں ، آر پی او اور ڈی پی او 24 گھنٹے چھاپوں کی نگرانی کررہے ہیں۔

ادھر سیالکوٹ واقعے کا ازخود نوٹس کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کو درخواست دے دی گئی ہے، درخواستگزار نے مئوقف اختیار کیا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کی حفاظت کرے، سانحہ سیالکوٹ کا ازخود نوٹس لے کر ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے ، سری لنکن شہری کی لاش کی بےحرمتی کی گئی، وہاں پر موجود سینکڑوں لوگ بچانے کی بجائے ویڈیوز بناتے رہے، بنیادی حقوق کا تحفظ عدالت عظمی کی اولین ذمہ داری ہے، عدالت سے استدعا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزموں کو قرار واقعی سزا دے۔

سیالکوٹ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments