پاکستان کے ساتھ انڈونیشیا کے درمیان سماجی, مذہبی اور ثقافتی ہم آہنگی پائی جاتی ہے، سفیر ایڈم ایم تو گیو

23ء پاکستان میں ساؤتھ ایشین گیمز ہونے جارہی ہے ،ہاہمی تعلقات اور تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے،سفیر کی گفتگو

منگل 14 ستمبر 2021 16:03

سیالکوٹ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 ستمبر2021ء) جمہوریہ انڈونیشیا کے سفیر ایڈم ایم توگیو نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ انڈونیشیا کے درمیان سماجی, مذہبی اور ثقافتی ہم آہنگی پائی جاتی ہے، پاکستان ،انڈونیشیا جیسا ہے یہاں کے کھانے،لباس اور بالخصوص جناح کیپ انڈونیشیا کے بیشتر علاقوں کے لوگ پہنتے ہیں،یہ دونوں ممالک 2021 میں دنیا کے بڑے مسلم آبادی کے ب ملک بننے جارہے ہیں،یہ ممالک تاریخی کے اعتبار سے بھی بہت سے مماثلت رکھتے ہیں،ان کے درمیان تجارت کو فروغ دیا جاسکتا ہے،بالخصوص سیالکوٹ میں تیار کی جانے والی مارشل آرٹ ،سپورٹس ،گڈرز، ہوزری سمیت دیگر مصنوعات کی انڈونیشیا میں مانگ ہے۔

انہوںنے کہاکہ 2023ء پاکستان میں ساؤتھ ایشین گیمز ہونے جارہی ہے یہ ہاہمی تعلقات اور تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے،پاکستان اور انڈونیشیا قدرتی حسن سے مالا ہے پاکستان کے گلیشئر خوبصورت ہیں جہاں ٹورازم کے وسیع مواقع ہیں . انڈونیشیا جی ڈی پی 6 فیصد ٹورازم سے حاصل کرتا ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان صنعت وتجارت سیالکوٹ کے ممبران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

صدرایوان صنعت وتجارت سیالکوٹ قیصر اقبال،سینئر نائب صدر اسلم بٹ،نائب صدر انصر عزیز پوری،میاں نعیم جاوید ، نوشین گیلانی انیل سرفراز بھی موجود تھے۔اس موقع پر صدر ایوان صنعت و تجارت قیصر اقبال بریار نے کہا کہ انڈونیشیا اور پاکستان کے مابین معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے،اس سے دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہونگے،دونوں ممالک کے درمیان کل تجارتی حجم 2.5بلین ڈالر کا ہے، پاکستان انڈونیشیا کے ٹورازم انڈسٹریز سے سیکھنے کو بہت کچھ مل سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ تجارتی وفود کے سرکاری سطح پر دوروں سے کاروباری سرگرمیاں فروغ پائیں گی،انہوں انڈونیشین سفیر ایڈم ایم توگیو کی پاکستان ، انڈونیشیا کی ہم آہنگی کیلئے کتاب کی اشاعت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہ ان کی اس کوشز سے دونوں ممالک کی عوام کو ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملے گی، انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ اور ای بزنس کے ذریعے منظم طریقے سیتجارت کا فروغ ممکن ہے۔

سیالکوٹ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments