اب پشاور سے کراچی تک بذریعہ روڈ نان اسٹاپ سفر ممکن ہو جائے گا

سکھر حیدرآباد موٹر وے منصوبہ نجی شعبے کی شراکت سے بنانے کی منظوری دیدی گئی، 306 کلومیٹر طویل موٹروے ڈھائی سال میں تعمیر کی جائے گی

muhammad ali محمد علی جمعہ 17 ستمبر 2021 23:47

اب پشاور سے کراچی تک بذریعہ روڈ نان اسٹاپ سفر ممکن ہو جائے گا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 ستمبر2021ء) اب پشاور سے کراچی تک بذریعہ روڈ نان اسٹاپ سفر ممکن ہو جائے گا، سکھر حیدرآباد موٹر وے منصوبہ نجی شعبے کی شراکت سے بنانے کی منظوری دیدی گئی، 306 کلومیٹر طویل موٹروے ڈھائی سال میں تعمیر کی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق پشاور تا کراچی تک موٹروے کے روٹ کی تکمیل کے سلسلے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

پشاور تا کراچی موٹروے روٹ کا صرف سکھر تا حیدرآباد سیکشن تعمیر ہونا باقی ہے، اس سیکشن کی تعمیر سے پشاور تا کراچی تک موٹروے کے ذریعے نان اسٹاپ سفر ممکن ہو جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی زیر صدارت ہوئے اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے بورڈ نے سکھر حیدرآباد موٹر وے منصوبہ نجی شعبے کی شراکت سے بنانے کی منظوری دیدی ۔

(جاری ہے)

جمعہ کو وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی زیر صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں ڈپٹی چیئرمین منصوبہ بندی کمیشن ، چیئرمین این ایچ اے شریک ہوئے ،اجلاس میں سکھر حیدرآباد موٹر وے منصوبہ نجی شعبے کی شراکت سے بنانے کی منظوری دی۔ بورڈ نے 1 ارب 23 کروڑ ڈالر مالیت سے 306 کلومیٹر طویل منصوبے کی بولی دستاویزات کی بھی منظوری دی۔

بورڈ نے اس سے قبل منعقدہ اجلاس میں منصوبے کی کمرشل فیزیبیلٹی اسٹڈی کی منظوری دی تھی۔ سکھر تا حیدرآباد موٹروے منصوبے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ شاہراہ 6 لین پر مشتمل ہو گی اور اس کی تعمیر ڈھائی سال میں مکمل کی جائے گی۔ منصوبے کو بناؤ، چلاؤ اور منتقل کرو بنیاد پر مکمل کیا جائے گا ،موٹر وے بنانے والے سرمایہ کاروں کو 25 سال کیلئے ٹول اور دیگر کاروباری مواقعوں سے وصولی کا اختیار ہو گا۔

بتایا گیا ہے کہ حکومت منصوبے کیلئے مالی وسائل حاصل کرنے کیلئے نجی شعبے کی معاونت کرے گی، جبکہ حکومت کی جانب سے بھی منصوبے کیلئے 43 ارب روپے کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق اس پیش رفت کے بعد منصوبے کی تعمیر کا کام جلد سے جلد شروع کروانے کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔

سکھر شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments