سیکریٹری صحت کا پولیو وائرس سیمپل پازیٹو آنے پر اظہار تشویش ،افسران پر سخت برہمی

منگل اپریل 18:11

سکھر۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 اپریل2019ء) سیکریٹری صحت سکھر پہنچے، پولیو وائرس سیمپل پازیٹو آنے پر تشویش اور ہیلتھ افسران پر سخت برہمی کا اظہار کیا، جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق سکھر میانی ڈسپوزل سے پولیو وائرس کا سیمپل پازیٹو آنے پر سیکریٹری صحت سندھ سعید احمد اعوان سکھر پہنچ گئے۔ کمشنر آفیس سکھر کے کاؤنسل ہال میں گھوٹکی، سکھر اور خیرپور کے ڈی ایچ اوز سے اہم اجلاس منقعد کرکے متعلقہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران کی کاکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک ماہ کے کے دوران کاکردگی بہتر بنانے کا الٹیمیٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیو سمیت دیگر وبائی بیماریوں پر کنٹرول کرنے کے لئے جنگی بنیادوں پر کام کیا جائے اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کروں گا اور گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں لینے والوں کو ہٹایا جائے گا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر سکھر ڈویزنل ٹاسک فورس کے کورآرڈینیٹر اکبر گھانگھرو نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2019 ? کے دوران میانی ڈسپوزل کے گندے پانی سے لئے گئے سیمپل سے پولیو وائرس پازیٹو رپورٹ ہوا ہے جبکہ مہم کے دوران کچھ پولیو ٹیمیں تصدیق کئے بغیر بچوں کو این اے لکھ دیتی ہیں۔ سیکریٹری صحت سندھ سعید احمد اعوان نے محکمہ صحت کے افسران پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیو مہم کے حوالے سے وقت پر مائکرو پلان بنائے جائیں ، تمام ڈی ایچ اوز اپنے اپنے ضلع کے ڈاکٹروں کی ڈیوٹیوں کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ ایک دن میں فراہم کریں تاکہ جہاں پر ڈاکٹروں کی کمی ہے وہ پوری کرنے کے لئے اقدامات کیے جاسکیں۔

انہوں نے محکمہ صحت کے افسران کو ہدایت کی کہ پولیو مہم کے دوران اگر کوئی بچہ گھر پر نہیں تو ہر صورت میں اس کی معلومات حاصل کرکے اسے پولیو کے قطرے پلائے جائیں اس سلسلے میں کسی کو بھی پولیو مہم یا حفاظتی ٹکے لگانے والی مہم کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے ڈی ایچ اوز کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دفاتر میں بیٹھ جانے سے کام نہیں چلے گا تمام ڈی ایچ اوز مہم کے دوران اپنے اپنے ضلع کے پسماندہ علاقوں کو جائزہ لیں تاکہ پولیو ٹیموں اور ویکسینیٹرز کی کاکردگی بہتر ہو سکے اور اس سلسلے میں عوام کو کسی قسم کی شکایت کا موقع نہ مل سکے۔

لیڈی ہیلتھ ورکرز کو پولیو مہم اور حفاظتی ٹکوں والی مہم میں سو فیصد شامل کیا جائے جبکہ پولیو ٹیموں کے اعداد شمار پراعتماد کرنے کے بجائے گھروں پر لگائے گئے ان کے اعداد شمار کی تصدیق وہاں کے مکینوں سے کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ماہ کے دوران کاکردگی بہتر نہ کرنے والے ڈی ایچ اوز کو ہٹایا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کہ تینوں اضلاع میں ای پی آئی سینٹروں اور فیلڈ ورکرز کی کاکردگی بہتر بنائی جائے۔

سیکریٹری صحت سندھ سعید احمد اعوان نے سکھر ڈویزن کے محکمہ صحت کے افسران سے استسفار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ اور بین الاقوامی ڈونر ایجنسیوں کی جانب سے بڑے پئمانے پر فنڈنگ کے باجود سکھر ڈویزن میں محکمہ صحت کی کاکردگی زیرو کیوں ہی انہوں نے کہا کہ سکھر کے گندے پانی میں پولیو وائرس کی موجودگی خطرے کی گھنٹی ہے اس لئے جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔ سیکریٹری صحت نے کہا کہ پنجاب و بلوچستان کے مسافروں کے رش کی وجہ سے سکھر حساس ہے تمام میڈیکل افسران اپنے فرائض احسن طریقے سے سرانجام دیں۔

سکھر شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments