جے یوآئی نے ہمیشہ اسلامی نفاذ کے قیام کی جدوجہد کی ہے،مولانا محمد صالح اندھڑ

انشاء اللہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں وطن عزیز میں بہت جلد اسلامی نفاذ کا قیام عمل میں آئیگا

بدھ نومبر 21:07

سکھر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 نومبر2020ء) جمعیت علماء اسلام ضلع سکھر کے جنرل سیکریٹری مولانا محمد صالح انڈھڑ نے کہا ہے کہ جے یوآئی نے ہمیشہ اسلامی نفاذ کے قیام کی جدوجہد کی ہے اور انشاء اللہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں وطن عزیز میں بہت جلد اسلامی نفاذ کا قیام عمل میں آئیگاجے یو آئی کی عوامی اور تحفظ اسلام کی جدوجہد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، یوٹرن خان حکومت کفریہ طاقتوں کے زیر سائیہ وطن عزیز کو معاشی بحرانوں سمیت عوام پر آئے روز مہنگائی کے ایٹم بم گرارہی ہے ،انکروچمنٹ کے نام پر مساجد کو گرائے جانے والے عمل کے خلاف جے یو آئی کی تحفظ تحریک مساجد کی جدوجہد اور قائد سندھ علامہ راشد خالد محمود سومرو کے زیر سائیہ انکروچمنٹ کے خلاف دائر پٹیشن کی سماعت پر عدالت عالیہ کے فیصلے نے تمام امت مسلمہ کے دل جیت لئے ہیں پاکستان کی باشعور بائیس کروڑ عوام کی جانب سے عدالت عالیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تحریک تحفظ مساجد میں کردار ادا کرنے والے کارکنان و شہریوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز جامعہ حمادیہ مدرسہ مظہر العلوم منزل گاہ سکھر میں عدالتی فیصلے کی خوشی میں منعقد ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا اس موقع پرجے یو آئی رہنمائوں قاری لیاقت علی مغل ،ناظم انتخابات سکھر قاری عبداللہ مہاجر مکی و دیگر کارکنان نے قائد سکھر مولانا محمد صالح انڈھڑ،مفتی سعود افضل ہالیجوی ، قاری جمیل احمد بندھانی و دیگر کومساجد کے تحفظ کیلئے جدوجہد اور فیصلہ حق میں آنے کی خوشی میں پھولوں کے ہار پہنائے اور مٹھائی تقسیم کرتے ہوئے مبارکباد پیش کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی ضلع سکھر کے جنرل سیکریٹری مولانا محمد صالح انڈھڑ نے مزید کہا کہ کو لاڑکانہ میں منعقد شہید اسلام کانفرنس ملک کی سیاسی تاریخ میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی جس میں لاکھوں کی تعداد میں کارکنان شرکت کرکے شہید اسلام قائد سندھ علامہ ڈاکڑ خالد محمود سومرو کے مشن کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کرکے شہید کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کرائینگے۔

سکھر شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments