سندھ میں جو مسائل ہمیں گنوائے جارہے ہیں وہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے ، صوبائی حکومت اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرنا چاہ رہی تو ہم کیا کرسکتے ہیں، اسدعمر

وزیراعلیٰ سندھ بتائیں کہ سندھ اپنی ضرورت سے زیادہ گندم پیدا کرتا ہے لیکن چار ماہ سے سندھ کے لوگ آٹے کی قیمت پنجاب کے مقابلے میں 300 روپے زیادہ کیوں ادا کررہے ہیں ،وفاقی وزیر

ہفتہ نومبر 19:37

سکھر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 نومبر2020ء) وفاقی وزیر منصوبہ بندی و دیہی ترقی اسد عمر نے سکھرسمیت شمالی سندھ کے عوام کو ایک بڑے ترقیاتی پیکیج ملنے کی نوید سناتے ہوئے سندھ حکومت پر ایک بار پھر برس پڑے کہتے ہیں سندھ میں جو مسائل ہمیں گنوائے جارہے ہیں وہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن اگر صوبائی حکومت اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرنا چاہ رہی تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ بتائیں کہ سندھ اپنی ضرورت سے زیادہ گندم پیدا کرتا ہے لیکن چار ماہ سے سندھ کے لوگ آٹے کی قیمت پنجاب کے مقابلے میں 300 روپے زیادہ کیوں ادا کررہے ہیں ،سندھ میں ہمارا جو بھی سیاسی اقدام ہوگا وہ آئین اور قانون سے بالاتر نہیں ہوگا ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی ٹی آئی نادرن سندھ سکھر ریجن کی جانب سے منعقدہ تقریب اور بعد ازیں میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر تقریب میں اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی فرودس شمیم نقوی ، پی ٹی آئی صوبہ سندھ کے رہنما حاجی دیدار خان جتوئی، رکن قومی اسمبلی ارسلان گھمن ، پی ٹی آئی نادرن سندھ سکھر ریجن کے جنرل سیکریٹری مبین خان جتوئی ، سردار پپو خان چاچڑ سمیت عہدے داروں و کارکنان کی کثیر تعداد شریک تھی، وفاقی وزیراسد عمر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت سکھرسمیت شمالی سندھ کے لیے دو سے تین ماہ میں پیکیج بنائے گی اور وزیراعظم خود سکھرسمیت شمالی سندھ کا دورہ کرکے اس کا اعلان کریں گے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم صرف کراچی نہیں بلکہ پورے پاکستان باالخصوص سندھ کی ترقی چاہتے ہیں انہوں نے اس ملک کو نئی لیڈر شپ دے کر قائد اعظم کے پاکستان کی بنیاد رکھ دی ہے وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان محفوظ ہو اور آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ ہو اور پاکستان کے ہر شہری کو برابر ترقی کے مواقع میسر ہوں وفاقی وزیر کا کہنا تھاکہ وزیراعظم نے بلوچستان کے نو اضلاع کے لیے بھی ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا ہے جس پر کام چل رہا ہے میں سندھ میں ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے آیا ہوں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان پٹھانوں پنجابیوں ،پختونوں ،مہاجروں یا سندھیوں کے نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے لیڈر ہیں ان کا ہمیشہ اس بات پر زور رہا ہے کہ غریب لوگوں اور پسماندہ علاقوں میں ترجیحی بنیادوں پر کام کرائے جائیں وفاقی وزیر اسد عمر نے پی ٹی آئی رہنما مبین جتوئی کی رہائش گاہ پر ورکز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ عوام کو جلسوں میں بلاکر ایس اوپیز کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جارہی ہے ان لوگوں کو عوام کی کوئی فکر نہیں وہ اپنے اور اپنے خاندان کے لیے ایک معیار اورعوام کے لیے دوسرا معیار نہ رکھیں اگر عوام کی صحت اور روزگار کا خیال نہ ہوتا تو ہم بھی سکھر سمیت مختلف شہروں میں جلسے کرسکتے تھیمگر ہم این سی او سی کی ہدایات کے مطابق تقاریب کررہیہیں اگر اپوزیشن بھی این سی او سی کی ہدایات پر عمل کرکے کرسکتی ہے تو ضرور جلسے کرے ہم۔

(جاری ہے)

خلاف ورزی نہیں ہونیدیں گے ان کا کہنا تھا کہ اسٹیل مل کے حوالے سے حکومت نے اسے فعال کرنے اور چلانے کا وعدہ کیا تھا جس کیے منصوبہ بندی بھی کی گئی تھی ہم اس کی کیپسٹی 10 لاکھ ٹن سے بڑھاکر 30 لاکھ ٹن کرنا چاہتے تھے مزید لوگوں کو روزگار دینا چاہتے تھے جس پر وزیر نجکاری محمد میاں سومرو کام۔بھی کررہیتھے مگر کورونا کی وجہ سے معاملات متاثر ہوئے تاہم اب بھی حالات بہتر ہوئے اور سرمایہ کاری آئی تو اسٹیل مل کو دوبارہ آباد کریں گے ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی مرضی ہے کہ وہ حکومت سے بات کرنا چاہے یا نہ چاہے لیکن ہماری ذمہ داری عوام کی خدمت ہے ہم تو اپنا کام کررہے ہیں پہلے یہ لوگ کہتے تھے کہ عمران خان بات نہیں کررہے ہیں اب تو پورا پاکستان دیکھ رہا ہے کہ کون بات نہیں کررہا ہے ہم نے پچھلے چند دنوں میں ایک سے زیادہ موضوع پر کوشش کی ہے کہ اپوزیشن آکر بیٹھے کورونا کا تو سیاست کوئی تعلق نہیں مگر پارلیمانی کمیٹی جس کے چار اجلاسوں میں شہباز شریف اور راجہ پرویز اشرف تک شرکت کر کے ہیں اب اس کمیٹی کو وہ غیرآئینی اور غیر قانونی قرار دے رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں لوگوں کے گھر گرانے کے معاملے سے وفاق کا کوئی تعلق نہیں گھر پیپلزپارٹی والے گرا رہے ہونگے تاکہ وہاں پر وہ دوبارہ قبضے کراسکیں جس طرح کراچی میں الطاف حسین اور ان کی ٹیم کرتی تھی پیپلزپارٹی نے بھی بہت قبضے کرائے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہم تو کہتے ہی نواز شریف واپس آئیں انہیں لندن میں تو عمران خان نے نہیں روکا ہوا ہے شہباز شریف کے لیے پیرول پر رہائی کی ہدایت وزیر اعظم نے پہلے روز کردی تھی اب اس پر وہ سیاسی اداکاری کررہے ہیں وفاقی وزیر کا کہنا تھاکہ سندھ کے جزائرپرکوئی قبضہ ہونے نہیں جارہاہے بلکہ سب نے دیکھا ہے کہ سندھ نے اس پر این او سی خود دی تھی تو کیا سندھ حکومت خود اس پر قبضہ کروانے میں ملوث تھی جزائر سندھ کی ملکیت ہیں اور رہیں گے وہاں پر سرمایہ کاری سے جوروزگار پیدا ہوگا وہ سندھ کیلیے ہوگا ہم اس حوالے سے سندھ کے ساتھ باہمی مشاورت سے کام کرنا چاہ رہے ہیں

سکھر شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments