مریم نواز کی پریس کانفرنس اور اس میں دکھائی گئی ویڈیو ٹیپس عدالتی معاملہ ہے جس میں بات نہیں کروں گا، وزیراعلیٰ سندھ

عدلیہ کا معاملہ ہے تو عدلیہ اس کی مکمل تحقیقات کرے گی اور کرنی چاہیے کیونکہ اس معاملے پر کئی سوالیہ نشان اٹھتے ہیں اور عدلیہ پر کالا دھبہ نہیں ہونا چاہیے

اتوار جولائی 21:01

سکھر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 جولائی2019ء) سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ مریم نواز کی پریس کانفرنس اور اس میں دکھائی گئی ویڈیو ٹیپس عدالتی معاملہ ہے جس میں بات نہیں کروں گا لیکن کیونکہ عدلیہ کا معاملہ ہے تو عدلیہ اس کی مکمل تحقیقات کرے گی اور کرنی چاہیے کیونکہ اس معاملے پر کئی سوالیہ نشان اٹھتے ہیں اور عدلیہ پر کالا دھبہ نہیں ہونا چاہیئے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھر بیراج پر محکمہ ایریگیشن کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں سیلاب کا خطرہ تو اپنی جگہ لیکن یہاں تو پانی کی قلت ہے اور کاشتکار پریشانی کا شکار ہیں اس لیے جو پانی موجود ہے اس کی منصفانہ تقسیم کی ہدایت کردی ہیں ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں آدھی سے زیادہ وزارتیں خالی ہونے کی باتیں بے بنیاد ہیں میں وزیر اعلیٰ ہوں اور تمام وزارتیں میرے پاس ہیں اور میرا یہ اختیار ہے کہ میں کسی وزیر کو کتنے قلمدان دیتا ہوں ایک دوں یا دس دوں میرا اختیار ہے اٹھارہویں ترمیم کے بعد تو ہم اٹھارہ وزیر لگا سکتے ہیں وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ جام سیف اللہ دھاریجو کی پارٹی میں شمولیت کی تقریب میں بحیثیت پارٹی نائب صدر کی حیثیت سے شرکت کی اگر گھوٹکی میں ہونے والے ضمنی انتخاب پر اثر انداز ہونا ہوتا تو جام سیف اللہ دھاریجو کا گھر گھوٹکی میں بھی وہاں پر تقریب کرواتے پارٹی کا نائب صدر ہوں اور وزیر اعلیٰ بھی ہوں تو اپنا کام تو بند نہیں کرسکتا مداخلت تو یہ ہے کہ آپ کا وفاقی وزیر انتقال کرگیا تو بھی آپ نے کابینہ کا اجلاس جاری رکھا اور تعزیت کرنے اس وقت آئے جب وہاں پر ضمنی انتخاب کا اعلان کیا گیا یہ ہے مداخلت اس لیے یہ بات میں سب کے سامنے کلیئر کررہا ہوں انہوں نے وفاق کی جانب سے سندھ کے تین اسپتال صوبے کو واپس کرنے کے فیصلے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ تو پہلے ہی ہمارے پاس تھے وفاق کے پاس تو ان اسپتالوں کو سنبھالنے کی ول ہی نہیں تھی اور اس نے تو بجٹ میں ان تینوں اسپتالوں کے لیے ایک روپے کی بھی رقم نہیں رکھی تاہم ہم نے اس کے باوجود ان اسپتالوں کے لیے بجٹ میں ساڑھے سولہ ارب روپے مختص کیے ہیں حالانکہ وفاق نے اس سال بھی ہمیں این ایف سی کی مد میں ایک سو پانچ ارب روپے کم دیئے ہیں وفاق نے تو اس حوالے سے کوئی ول ہی نہیں دکھائی سوائے ایک نوٹیفکیشن جاری کرنے کے ان کا کہنا تھا کہ کمشنر سکھر کا تبادلہ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں ہے ضابطہ اخلاق صرف ڈسٹرکٹس کے لیے ہوتا ہے تاہم ہم نے الیکشن کمیشن کی درخواست پر ان کا تبادلہ روک دیا ہے ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں ٹڈی دل پر قابو پانے کے لیے اقدامات کررہے ہیں اور اس سلسلے میں 315 ملین روپے جاری کرنے کی منظوری دیدی ہے اس حوالے سے وفاق سے بھی مدد طلب کی ہے ہمیں ہر صورت تین ماہ میں ٹڈی دل پر قابو پانا ہے جس کے لیے جہازوں کی ضرورت ہے پہلے ہمارے پاس سولہ جہاز ہوا کرتے تھے تو ہم باہر جاکر بھی مدد کرتے تھے ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن اپنی بات کے پکے ہیں اور کیونکہ ہم نے خیبر پختون خواہ میں ان کی حمایت کی تھی تو وہ گھوٹکی میں ہماری مدد کریں گے اور ہمیں امید ہے کہ ان کی پارٹی بھی ہمارے ساتھ ہوگی۔

سکھر شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments