ٹنڈوالہ یار، پولیس کی مبینہ سرپرستی اور بھاری منتھیلی کے عوض مضر صحت مین پوری گٹکا سفینہ کھلے عام فروخت ہونے لگا

جمعہ مارچ 22:51

ٹنڈوالہ یار (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 20 مارچ2020ء) ٹنڈوالہ یار پولیس نے سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کی دھجیاں اڑا دی ٹنڈوالہ یار اور اسکے گرد وانوح کے علاقوں میں پولیس کی مبینہ سرپرستی اور بھاری منتھیلی کے عوض مضر صحت مین پوری گٹکا سفینہ کھلے عام فروخت بونے لگا واضع رہے کہ گزشتہ چند ماہ قبل سندھ ہائی کورٹ نے ٹنڈوالہ یار سمیت سندھ بھر میں مین پوری سفینہ گٹکا فروخت کرنے پر پاپندی عائد کرتے ھوئے پولیس کو سخت احکامات دیئے تھے کہ مین پوری سفینہ گٹکا فروخت کرنے کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کرتے ھوئے انہیں گرفتار کیا جائے مگر سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود ٹنڈوالہ یار اور اسکے گرد وانوح کے علاقوں میں پولیس کی مبینہ سرپرستی میں کھلے عام مین پوری سفینہ گٹکا فروخت ھوری ھے مگر پولیس انکے خلاف کاروائی کرنے بجائے خاموش تماشائی بنی ھوئی ھے ٹنڈوالہ یار میں کھلے عام مین پوری سفینہ گٹکا کی فروخت پر شہریوں تاجروں سول سوسائٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ھوئے کہا کہ مین پوری سفینہ گٹکا کی فروخت پر سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پولیس انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں کررہی ھے انہوں نے تشویش کرتے ھوئے کہاکہ ٹنڈوالہ یار میں مین پوری سفینہ گٹکا کے بڑے بڑے ڈیلر موجود ھیں جو روزانہ لاکھوں روپے کی مین پوری سفینہ گٹکا فروخت کرتے ھیں جبکہ ٹنڈوالہ یار اور اسکے گرد وانوح کے علاقوں میں دو درجن سے زاہد مین پوری گٹکا بنانے کی منی فیکٹریاں قائم ھیں جہاں روزانہ لاکھوں کی تعداد میں مین پوری گٹکا تیار کرکے ٹنڈوالہ یار سمیت سندھ کے مخلتف علاقوں میں فروخت کی جاتی ھیں شہریوں تاجروں سول سوسائٹی کے نمائندوں نے سندھ ہائی کورٹ آئی جی سندھ ڈی آئی جی حیدرآباد ایس ایس پی ٹنڈوالہ یار سے مطالبہ کیا ھے کہ ٹنڈوالہ یار میں پولیس کی مبینہ سرپرستی اور بھاری منتھیلی کے عوض مضر صحت مین پوری سفینہ گٹکا فروخت کرنے والوں کو فوری گرفتار کیا جائے اور اس کی سرپرستی کرنے والے پولیس اہلکاروں کو معطل کیا جائے۔

#

ٹنڈو الہ یار شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments