اجتماعی زیادتی کا شکار بننے والی لڑکی نے خودکشی کرلی

17 سالہ لڑکی کو ملزمان کی جانب سے کیس واپس لینے کے لیے مسلسل دھمکیاں دی جارہی تھیں

جمعرات اکتوبر 00:23

اجتماعی زیادتی کا شکار بننے والی لڑکی نے خودکشی کرلی
تھرپارکر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 ستمبر2020ء) تھرپارکر کے علاقے میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی 17 سالہ لڑکی نے ملزمان کی جانب سے کیس واپس لینے کے دباؤ میں آکر خودکشی کرلی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک سال قبل تھرپارکر میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی نوجوان لڑکی نے کنویں میں چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی ہے۔ لڑکی مٹھی کے ایک گاؤں جیلانجو تار کی رہائشی تھی۔

پولیس نے لڑکی کے ساتھ زیادتی کے مرکزی ملزم آدم دل کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق لڑکی آدم دل کے گھر کے قریب مردہ پائی گئی ہے اور لڑکی کے قدموں کے نشانات بھی اس کے گھر کے پاس دیکھے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق لڑکی کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے سول ہسپتال مٹھی منتقل کردی گئی ہے جبکہ پولیس نے آدم دل کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی لے لیا ہے۔

(جاری ہے)

ایس ایچ او ملک مشتاق نے کہا کہ ہم تحقیات کررہے ہیں کہ لڑکی ملزم کے گھر کیوں گئی تھی، ملزم کا ڈی این اے سیمپل لیا گیا ہے کیونکہ ہمیں شک ہے کہ اس نے لڑکی کی موت سے پہلے اس کے ساتھ پھر زیادتی کی ہے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ جلد ہی پولیس واقعے کی تہہ تک پہنچ جائے گی، پولیس کی جانب سے تحقیات جاری ہیں۔ زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کے والد کا کہنا تھا کہ ان کےخاندان پر ملزمان کی جانب سے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ ان کے خلاف کیس واپس لے لیں۔ اس نے شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آدم اور اس کے ساتھی ان کی بیٹی کو زبردستی اپنے گھر لے گئے جہاں انہوں نے اس سے کیس واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا ہوگا۔ واضح رہے کہ نوجوان لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا یہ مقدمہ جولائی 2019 سے زیرسماعت تھا۔

متعلقہ عنوان :

تھرپارکر شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments