سجاول، مویشیوں کی بیماریوں کے علاج کے لئے تاحال مناسب اقدامات نہ ہوسکے

جمعرات 20 جنوری 2022 00:52

سجاول(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 19 جنوری2022ء) سجاول میں مویشیوں کی بیماریوں کے علاج کے لئے تاحال مناسب اقدامات نہ ہوسکے ہیں، اور صرف پرچیاں لکھ کر ٹرخایاجارہاہے، ایک ماہ سے علاج کے لئے پریشان مویشی مالکان کو مزید پریشان کیاجارہاہے جبکہ شکایات پر صرف فوٹو سیشن کرکے ریکارڈ پر کرکے پرانی روش برقرار رکھی گئی ہے،، سجاول میں آمڑا اسٹاپ کے علاقے میں مویشیوں میں بیماریوں کی ایک ماہ پہلے اطلاع پر کسی قسم کا علاج مہیانہ کرنے کی وجہ سے مزید مویشی جاں بحق ہوئے جس کے بعد مویشیوں کی حالت خراب ہونے پر چودہ جنوری کو سجاول میں ڈپٹی ڈائریکٹرلائیواسٹاک کو علاج کی درخواست کی گئی جبکہ پندرہ جنوری کو دوبارہ سجاول میں مقرر ڈاکٹر کو درخواست کی گئی تاہم ٹال مٹول سے کام لیاگیا، ایسی شکایت اعلیٰ سطح پر ارسال کی گئیں نوٹس لیے جانے پر سترہ جنوری ڈاکٹر اور اسسٹنٹ لائیواسٹاک نے وزٹ کرکے مویشی کو ٹیکے داغ کر پرچی لکھ کر دیدی جبکہ اسی وقت ڈپٹی ڈائیرکٹر نے مویشی مالک کو اسپتال طلب کرکے سرٹیفکیٹ اور فوٹو سیشن کیا، اور ایف ایم ڈی اور ڈرینچ تھمانے کی کوکوشش کی تاہم انہیں لینے سے انکار کرکے درخواست کی گئی کہ مویشیوں کا خود آکر علاج کریں اور دویات دیں، جس کے بعد روانہ ہوگئے پیچھے وہی مویشی جس کو ٹیکہ لگاکے آئے مزید بیمارہوکر موت وزیست میں مبتلا ہوگیا، پوری رات دعائوں اور دیسی ٹوٹکوں سے مویشی کی حالت سنبھلی، گائوں میں شدید غم وغصہ پیداہوگیاکہ جب ٹیکے لگانے آتے ہیں مویشی مرجاتے ہیں، اس سے قبل بھی اعلیٰ سطح پر بیماری کی اطلاع پر اسی لائیواسٹاک اسسٹنٹ کو بھیجاگیاجس کے ٹیکے مارتے ہیں جانور مرگئے تھے ان کی تمام رپورٹ پہلے ہی ریکارڈ پر موجود ہے، اٹھارہ جنوری کو ڈاکٹرکو اطلاع کی گئی تاہم کوء وزٹ نہیں ہوسکا بعداازاں ایسی شکایت ارسال کی گئیں تو انیس جنوری کو صبح ڈاکٹرنے رابطہ کرکے وزٹ کی یقین دہانی کرائی،اسپتال میں گئے تو موجود نہیں تھے۔

(جاری ہے)

بعدازاں شام گئے مویشی کو چیک کرکے ایک پرچی میں انجکشن لکھ کر تین دن تک لگوانے کی ہدایت کرکے روانہ ہوگئے، ڈپٹی ڈائریکٹر کئی روز سے موجود ہی نہیں ہیں شا م گئے ان سے فون پر رابطے کی کوشش کی گئی تاہم نیٹ ورک پرابلم کہہ کرکر بات کرنے کتراگئے،، ڈرینچ اور ایف ایم ڈی بھی نہ ہوسکی ہے،اس طرح مویشیوں کا کئی روز کے بعد صرف معائنہ کرکے پرچیوں پر علاج ہورہاہے، مویشی مالکان اپنے طورپر دیسی ٹوٹکوں اور اتائیوں کے رحم کرم پر چھوڑدئے گئے ہیں، بدستور لاغرضی کا سلسلہ جاری ہے، صرف فوٹو سیشن اور کاغذی کاروائی کرکے ریکارڈ درست کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اور یہ بھی صرف ایک مویشی تک محدود ہے دیگر بیمارمویشیوں کی طرف تو دیکھابھی نہیں گیاہے، علاج کے ساتھ ادویات اور مناسب فیلڈ ورک پر کوئی کام نہیں کیاجارہاہے، اس طرح سے محکمہ لائیواسٹاک کی سجاول میں انتہائی بدنظمی اور خراب کارکردگی نظرآئی ہے، مویشی مالکان اپنے جانوروں کی صحت لئے آج بھی پریشان پھررہے ہیں ، شکایت کنندہ مویشی مالک شفیع میمن اوردیگر نے کہاہے کہ ایک ماہ قبل جب ڈرینچ اور ایف ایم ڈی کی درخواست پر عمل کیاجاتاتو مزید جانور ہلاک نہ ہوتے، بعد ازاں بھی بیمارجانوروں کے علاج میں اس طرح کی سستی اور پرچیوں کے ذریعے مالکان کو ادھر ادھر دوڑاکر پریشان کرنے اور خود ہی علاج و ادویات کرنے کی روش لاغرضی کی مثال ہے، اس طرح سے علم ہوتے ہوئے بھی علاج نہ کرکے ڈلے ٹیکٹس سے مویشی مارنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کا نوٹس لینا ضروری ہے،۔

اس ضمن میں مویشی مالکان نے دوبارہ اپیل کی ہے کہ علاج اور ادویات کو مناسب انتظام کرکے جانوروں کی صحت اور مویشی مالکان کو پریشانی و نقصان سے بچانے کی اپیل کی ہے جبکہ سجاول میں مقرر لائیواسٹاک اسسٹنٹ اور دیگر عملے کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے فیلڈ ورک کو فعال کرنے کی اپیل کی گئی ہی

ٹھٹھہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments