River Ravi

درائے راوی

ہمالیہ کی گود سے جنم لینے والے ’’راوی‘‘کا پانی ہماچل پردیش سے مادھوپور (انڈیا)ہیڈورکس تک آتا ہے مگر اس کی اصل پہچان پنجاب ہے جس میں اسے چناب سے راوی مرالہ لنک کینال سے سے پانی دیکر کر زندہ رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے پنجاب کا یہ عظیم دریا گردش وقت کا شکار ہوکر دریا کی بجائے نکاسی آب کا بڑے نالہ کی صورت اختیار کرچکا ہے

River Ravi
ہمالیہ کی گود سے جنم لینے والے ’’راوی‘‘کا پانی ہماچل پردیش سے مادھوپور (انڈیا)ہیڈورکس تک آتا ہے مگر اس کی اصل پہچان پنجاب ہے جس میں اسے چناب سے راوی مرالہ لنک کینال سے سے پانی دیکر کر زندہ رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے پنجاب کا یہ عظیم دریا گردش وقت کا شکار ہوکر دریا کی بجائے نکاسی آب کا بڑے نالہ کی صورت اختیار کرچکا ہے --پاکستان کے پہلے فوجی حکمران ایوب خان کے دور میں1962ء کو پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت پنجاب کے تین دریاؤں ستلج‘بیاس اور راوی کا کنٹرول بھارت جبکہ چناب اور جہلم کا پاکستان کو دیا گیا-پرانے وقتوں میں آبادیاں دریا ؤ ں کے کنارے بنائی جاتی تھیں آج بھی دنیا کے قدم شہروں کی اکثریت مختلف دریاؤں کے کناروں پر آباد ہے‘خانہ بدوش صدیوں سے سفر میں ہیں آج بھی وہ جہاں جاتے ہیں اپنی بستیاں دریاؤں کے کناروں پر آباد کرتے ہیں اور کچھ عرصہ وہاں گزارنے کے بعد اگلی منزل کی جانب کوچ کرجاتے ہیں‘ راوی کے کنارے آباد شہر لاہور بھی تاریخی اہمیت رہا ہے یہ شہر اور دریا راوی کئی تہذیبوں کے عروج وزوال کا گواہ اور تاریخ کے گہرے رازوں کاامین ہے ‘ لاہور کے ایک کنارے سے گزرنے والا راوی اس علاقے کی تاریخ کا ایک گواہ بن کر کب سے یونہی بہہ رہا ہے ؟اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں ہے اس نے بادشاہوں کی بھی اپنی سیر کے لئے آتے دیکھا اور گداؤں کوا پنی قسمت پر آنسو بہاتے بھی دیکھا۔

(جاری ہے)

راوی کا پانی لوگوں کے لئے اگر زندگی کی نوید ہے تو موت کا پیغام بھی ہے۔ اسی راوی نے کئی زندگیوں کو بہا کر موت میں بدل دیا ہے اور پھر اس کی لہروں نے اپنی بے رحمی کا ثبوت نعشوں کی شکل میں کناروں پر اگل دیا ہے ۔راوی کا یہ دریا اپنی سنگ دلی کے جو نقوش کناروں پر چھوڑتا ہے انہیں مٹانے کے لئے آدمی جو کچھ کرتا ہے وہ بھی کم نہیں۔اگر دریا کی لہریں کسی جسم کو بہا کر کنارے تک لے آتی ہیں تو انسان ایسی نعشوں کو واپس دریا برد کردیتا ہے کیونکہ وہ ان سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔

اور مردہ جسم کی حرمت سے متعلق تعلیم محض پولیس کے خوف سے فراموش کر دی جاتی ہے ۔اپنی ساری زندگی دریا کے کنارے گزار دینے والے ایک ادھیڑ عمر ملاح محمدعلی بتاتے ہیں ہمیں جب بھی کوئی نعش نظرآتی ہے ہم اسے دریا میں بہا دیتے ہیں ،اور یہی بات کم وبیش یہی بات اس ملاح نے بتائی جن سے پوچھا گیا کہ کیا بھٹکی ہوئی اس نعشوں کو ورثا کے حوالے کیا جاتا ہے یا نہیں محمد علی کا کہنا ہے کہ دریا میں بہہ کر آنے والی نامعلوم نعشوں کو ہم ملاح لوگ نہیں چھیڑتے جو نعش بہتی آرہی ہوتی ہے اسے بہنے دیا جاتا ہے اور جو کہیں خشک حصے میں پھنس جاتی ہے اس کے اوپر مزید مٹی ڈال دی جاتی ہے تاکہ اس کی بے حرمتی کم سے کم ہو۔

دریائے راوی میں ڈوبنے والوں اوراس دریا کے کنارے آلگنے والی نعشوں کے ساتھ کیا کیا ہوتا ہے شاید اس بات پر اخفا کا پردہ ہی پڑا رہتا اگر لاہور کے ایک نوجوان محمد یونس کے ورثا ان کی نعش کی تلاش نہ کرتے۔ محمد یونس اپنے بھائی اور دوستوں کے ہمراہ دریا کی سیر کے لیے گیااور ڈوب گیااس تلاش کے دوران یہ راز کھلا کر دریائے راوی میں ڈوب جانے والوں کی نعشیں کتنی بے وقعت ہوجاتی ہیں مسافروں کو بارہ دری تک لے جانے والے نوجوان ملاح محمد سلیم نے بتایا کہ وہ اپنے ساتھیوں اور ایک سرکاری غوطہ خور کے ہمراہ یونس کی نعش ڈھونڈرہے تھے کہ انہیں ایک دس سالہ بچے کی نعش ملی۔

چونکہ اس نعش کی شناخت کرنے کے لئے کسی نے رابطہ نہیں کیا تھا (اس کے انتظام ناقص اور بہت مشکل ہے )لہذا اس بچے کی نعش راوی کے پانی کی ہی نذر کر دی گئی ‘ملاح سلیم بتاتے ہیں کہ راوی سے ملنے والی کوئی نعش پولیس کی اجازت کے بغیر باہر نہیں نکالی جاسکتی کیونکہ ایسے برآمد ہونے والی نعشوں پر بھی پولیس کی حدود کے تعین کا روایتی تنازعہ کھڑا ہو جاتا ہے دریا کے مختصر سے حصے کو بھی چار تھانوں کی حدود میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

پانی ایک تھانے کی حدود میں ہے تو کنارے کسی دوسرے تھانے کی حدود میں ۔کئی بار ایسا ہوا کہ کنارے لگی نعش پر تھانے کی حدود کا جھگڑا ہوگیااور جب جھگڑے بعد ایک تھانے کی پولیس ٹیم واپس چلی گئی تو دوسری ٹیم نے خاموشی سے نعش دوبارہ دریا میں بہا دی ۔ دریائے راوی پر تعینات محکمہ ‘دفاع کے واحد غوطہ اللہ دتا کے اندازے کے مطابق راوی سائفن سے لے کر ہیڈ بلو کی تک ہر سال قریب قریب پچاس افراد ڈوب جاتے ہیں ‘ایک اورنوجوان ملاح شہباز کا کہنا تھا کہ دریا میں سیاحوں کے لئے کشتیاں چلانے والے خدا ترسی کے تحت ڈوبنے والوں کو بچاتے رہتے ہیں۔

اگر صرف حکومت کی جانب سے مامور ڈوبتے ہوؤں کو بچانے والوں پر انحصار کیا جائے تو یہ تعداد میں بیس گنا سے بھی بڑھ جائے‘ سرکاری بچانے والوں سے مراد صرف ایک عارضی سرکاری غوطہ خور ملازم ہے جس کی ڈیوٹی پورے دریا کے لیے ہے اور جس کے پاس ڈوبتوں کو بچانے کیلئے ایک جانگیے کے علاوہ اور کوئی سہولت موجود نہیں‘محمد یونس کے بھائی قاسم بتاتے ہیں کہ ،ہم اپنے بھائی کی نعش کی تلاش میں دیوانہ وار پھرتے رہے ۔

چند ملاح آئے او ران کی نشاندہی پر متوفی کے ساتھ ڈھونڈتے ہوئے محکمہ شہری دفاع کے دفتر پہنچے تو علم ہو ا کہ پہلے تھانے میں رپورٹ درج کرانا ضروری ہے اور جب تک رپورٹ درج ہوئی رات ہو چکی تھی اور نعش ڈھونڈناممکن نہیں رہا تھا۔ لہذا تلاش صبح تک موخر ہوگئی اور پھر چار روز تک بے سود اور ناکام تلاش جاری رہی ۔ چوتھے روز یونس کی نعش دریا کی سیر کو آئے ایک غیر متعلقہ شخص کو ایک خشک جگہ پرمٹی میں دبی ملی۔

یونس کی نعش شدید اس لیے ان کے ورثا کو مل گئی کہ ایک سیاح نے ان کی نعش مٹی میں دبی ہوئی دیکھ لی تھی ۔غالباً اسی لیے انہیں کفن بھی نصیب ہوگیااور ان کے گھر والوں کو صبر بھی آہی جائے گا۔لیکن دریا میں ڈوبنے والے کئی ایسے بھی ہوتے ہوں گے جن کے گھر والوں کو یہ صبر بھی نصیب نہیں ہوتا ہوگا اورنعش نہ ملنے کی وجہ سے وہ ساری زندگی ان کی واپسی کے معجزے کے منتظر رہتے ہوں گے لیکن انہیں نہیں معلوم کہ یہ معجزہ کبھی نہ ہو سکے گا ۔

یہ راز اگر کسی کو معلوم ہے تو صرف دریائے راوی کو جو ایک گواہ کی طرح مسلسل یہ دیکھ رہا ہے کہ اس کے کنارے سے ملنے والی نعشوں کو دریا کے سفر پر دوبارہ ورانہ کر دینے کا عمل بہت عرصے سے جاری ہے ۔راوی جہاں بہت سارے تاریخی رازوں کا امین ہے وہاں محبت کے ماروں کے رازونیاز کو بھی اپنی گہرائیوں میں دفن کیے ہوئے ہے 90سالہ ملاح بابا فریاد نے بتایا کہ صبح نو بجے سے12بجے تک سکولوں اور کالجوں کے نوجوان جوڑے دریا پر آتے ہیں جبکہ سہ پہر کو فیملیز کی آمد شروع ہوجاتی ہے اور سورج ڈھلتے ہی جرائم پیشہ‘منشیات کے عادی افراد یہاں ڈیرے ڈال لیتے ہیں جبکہ رات کو راوی کے کناروں پر عامل ‘جادوٹونہ کرنے والے پیر چراغ جلاتے ہیں ‘پرانے وقتوں میں ’’پتن‘‘ہواکرتے تھے اب پکے پل بن گئے ہیں اب کس نے ’’بیڑی‘‘(کشتی)کے ذریعے دریار پار کرنا ہے؟جودرجنوں کشتیاں تمہیں یہاں نطر آرہی ہیں یہ دریا پر سیر کرنے والوں کے لیے ہیں ‘اب کچھ نظر تو نہیں آتا بس اپنے ’’ساتھی‘‘(دریائے راوی)کو ملنے چلا آتا ہوں تم نے سنا ہے ناں نورجہاں کا گانا کچی ٹٹ گئی جناں دی یاری پتناں تے رون کھڑیاں اب نہ پتن ہیں نہ ہی بیڑیاں(باربرداری کی کشتیاں)اب تو گزرے وقتوں کی یادوں کو تازہ کرنے آتے ہیں ‘عمررسیدہ ملاح بابا منصف علی نے بتایا کہ روای کے ساتھ ان کا ساتھ40سال سے ہے میں اس کے مزاج سے واقف ہوں‘یہ کب پرسکون ہوتا ہے اور کب جوش میں آتا ہے‘ادھر پاس بیٹھے بابا فریاد نے اسے ٹوکا ’’اب جوش کہاں‘اب تو پانی کا انتظارکرتے ہیں‘‘-ہاں اب پانی کا انتظارہوتا ہے یہ جو تھوڑا بہت پانی نظر آرہا ہے ناں اس میں زیادہ تر فیکٹریوں اور گھروں کا گندا پانی ہے ‘باقی رہا دریا کا پانی تو وہ بھارت کی مرضی ہے‘‘بابا منصف علی نے بتایا کہ صبح 6بجے سے9بجے تک ضعیف الاعتقاد لوگوں کی آمد جاری رہتی ہے کوئی پانی میں تعویز بہانے آتا ہے توکسی کو دریا کے پانی کی ضرورت ہوتی ہے‘کئی لوگ اپنے کاروبار میں ترقی کے لیے عاملوں کا ’’دم‘‘کیا تالہ دریا میں پھینکنے آتا ہے‘فجر کے بعد کئی عورتیں بھی منت پوری کرنے کے لیے دریا پر نہانے کے لیے آتی ہیں‘ہمیں بھی کچھ فائدہ ہوجاتا ہے ‘کشتی کے کیل کا پتہ ہے؟بابا منصف مسکراکر خود ہی بولنا شروع ہوگیا دریا کے کنارے گڑے کھونڈے جس سے کشتی کو باندھا جاتا ہے اسے کیل کہتے ہیں یہ عامل لوگ جادو ٹونے میں کشتی کے کیل کو استعمال کرتے ہیں ہم ایک کیل بیچ کر 100200روپے کما لیتے ہیں‘بابا یونس مچھیرا ہے اور پچھلے45سال سے دریائے راوی سے مچھلیاں پکڑکرفروخت کرتا ہے ‘بابا یونس بہت ناراض ہے ’’جانتے ہو ایوب خان ہندوستان کو راوی بیچ کر پنجاب کو بنجرکردیا دریا میں پانی ہی نہیں تو ’’مچھی‘‘(مچھلی)کہاں سے ہوگی؟ہندوستان ہمیں احسان کرتے ہوئے گندا پانی دیتا ہے جو ہم ہڈیارہ ڈرین کے ذریعے راوی میں ڈال کر اس کے پانی کو زہریلا کرتے ہیں ‘رہی سہی کسر فیکٹریاں نکال رہی ہیں جن کا کیمیکل ملا زہریلا پانی دریا کے پانی کو مزید آلودہ کرتا ہے ‘زہرمیں مچھلی کیسے زندہ بچے گی؟حکومت کا کیا ہے اس کا کام چل رہا ہے اس کو کیا ضرورت ہے کہ وہ راوی کو بچانے کے لیے کچھ کرئے ‘‘راوی کنارے آباد خانہ بدوشوں کی بستی کے سردار فقیرے کو اپنے اصل نام کا بھی نہیں پتہ‘وہ تقریبا150جھگیوں پر مشتمل بستی کا سردار ہے ‘اس کی آدھی عمر راوی کے کناروں پر ہی بیت چکی ہے اب وہ بوڑھا ہورہا ہے ‘میں پیدا بھی ’’بڈھے دریا‘‘(پرانا راوی)کے کنارے ہوا تھا ‘ہم لوگ صدیوں سے سفر میں ہیں کبھی اس نگر تو کسی اس نگر زندگی اسی سفر میں گزررہی ہے ہم فقیر نہیں ہیں اور نہ ہی بھیک مانگتے ہیں بلکہ ہمارے مرد وزن مزدوری کرتے ہیں ‘جب تک یہاں دانہ پانی ہے کھائیں گے اس کے بعد یہاں سے کوچ کرجائیں گے مگر ہم رہتے راوی کے کنارے ہی ہیں

لاہور کے مزید سیاحتی مقامات :

Your Thoughts and Comments