Akser Main Sochta Hoon

اکثر میں سوچتا ہوں

کیسے بنائی تو نے یہ کائنات پیاری

حیران ہو رہی ہے عقل و خرد ہماری

کلیاں مہک رہی ہیں اعجاز ہے یہ تیرا

خوشبو کہاں سے آئی اک راز ہے یہ تیرا

بلبل کے چہچہوں نے حیران کر دیا ہے

انساں کے قہقہوں نے حیران کر دیا ہے

ششدر ہوں دیکھ کے میں اڑتے ہیں کیسے پنچھی

دریا میں دیکھتا ہوں جاتے ہیں کیسے مانجھی

کس طرح بے ستوں یہ تو نے فلک بنایا

آنچل کو تو نے اس کے باروں سے جگمگایا

کس طرح کی ہیں پیدا برسات کی گھٹائیں

کس طرح چل رہی ہیں پر کیف یہ ہوائیں

دریا پہاڑ جنگل کس طرح بن گئے ہیں

یہ بات عقل والے ہر وقت سوچتے ہیں

کس طرح تو نے مولا انسان کو بنایا

اکثر میں سوچتا ہوں کیسا ہے تو خدایا

عادل اسیر دہلوی

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1038) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Aadil Aseer Dehlvi, Akser Main Sochta Hoon in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Social, Hope Urdu Poetry. Also there are 8 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Love, Social, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Aadil Aseer Dehlvi.