عابد ملک کی دل شکسته شاعری

یہ جو میں چھیل کے ہر زخم ہرا کرتا ہوں

عابد ملک

یار اچھے نہ کسی یار کی صحبت اچھی

عابد ملک

سفر تو رزق نے پاوٴں سے باندھ رکھا ہے

عابد ملک

موسمِ وصل سے بیزار ہوا بیٹھا ہے

عابد ملک

میں نے لوگوں کو نہ لوگوں نے مجھے دیکھا تھا

عابد ملک

کُچھ اس طرح مرے ہمراہ رتجگا رہے گا

عابد ملک

کہاں خوشی سے میرے یار دن گزارے ہیں

عابد ملک

جب خلا درمیاں نہیں رہے گا

عابد ملک

اک اجنبی کی طرح ہے یہ زندگی مرے ساتھ

عابد ملک

گلے لگائے مجھے میرا رازداں ہو جائے

عابد ملک

دشت میں اس کا آب و دانہ ہے

عابد ملک