Or Kis Ka Gher Kushada Hai Kahan Thehrey Gi Raat

اور کس کا گھر کشادہ ہے کہاں ٹھہرے گی رات

اور کس کا گھر کشادہ ہے کہاں ٹھہرے گی رات

مجھ کو ہی مہماں نوازی کا شرف بخشے گی رات

نیند آئے گی نہ ان بے خواب آنکھوں میں کبھی

مجھ کو تھپکی دیتے دیتے آپ سو جائے گی رات

شام ہرگز دن کے سینے میں نہ خنجر گھونپتی

یہ اگر معلوم ہوتا خوں بہا مانگے گی رات

آنسوؤں سے تر بہ تر ہو جائے گا آنگن تمام

کرب تنہائی پہ اپنے پھوٹ کر روئے گی رات

چاند تاروں کو چھپا بھی لیں گھنے بادل اگر

جھلملاتے جگنوؤں سے راستہ پوچھے گی رات

اپنے اپنے لطف سے دونوں نوازیں گے مجھے

زخم دل بخشے گا دن اس پر نمک چھڑکے گی رات

سورج اپنے رتھ کو پھر آکاش پر دوڑائے گا

صبح کا تارا نکلتے ہی سمٹ جائے گی رات

جب ترے جوڑے کا گجرا یاد آئے گا مجھے

رات کی رانی کے پھولوں سے مہک اٹھے گی رات

گھر پلٹ کر جاؤں گا رخ پر لیے دن بھر کی دھول

مجھ کو اے عابدؔ بڑی مشکل سے پہچانے گی رات

عابد مناوری

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(1660) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Abid Munavari, Or Kis Ka Gher Kushada Hai Kahan Thehrey Gi Raat in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Ghazal, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Islamic, Bewafa, Hope Urdu Poetry. Also there are 11 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.4 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Islamic, Bewafa, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Abid Munavari.