Agar Mujhe

اگر مجھے

اگر مجھے خواب ہی دیکھنا تھے

تو میں خواب دیکھتا

آزادی اور محبت کی سمت کھلنے والی کھڑکیوں

اور کشادہ آنگنوں کے

میں نے کیوں بند دروازوں کے خواب دیکھے

اگر مجھے جاگنا ہی تھا

تو میں جاگ اٹھتا ، کسی بادلوں بھری صبح میں

تمہارا ہاتھ تھامے ہوئے

میں نے کیوں شک اور دکھ سے بھرے

اس گھر میں آنکھ کھول دی

اگر مجھے بکھرنا ہی تھا

تو میں بکھرتا

سمندر کے سینے پر

یا پھر تمھارے قدموں میں

میں نے کیوں

ان بے اماں راستوں میں

اپنی مٹی خراب کی

اگر مجھے انتظار ہی کرنا تھا

تو میں انتظار کرتا

اس کا ، جو راستے ڈھونڈتا میری طرف آنے کے

میں کیوں آنکھوں میں چراغ لیے

اس رہگزر پر بیٹھا رہا

جہاں سے کوئی نہیں گزرتا

اگر مجھے دوڑنا ہی تھا

تو میں دوڑتا چلا جاتا

کسی بھی نا ہموار سڑک پر ، آنکھیں بند کیے ہوئے

میں کیوں ان دیکھے بھالے راستوں پر

ٹھوکریں کھاتا پھرا

اگر مجھے رکنا ہی تھا تو میں رک جاتا

کسی بھی جھیل کے کنارے ، اجنبی آسمان کے نیچے

میں کیوں بیٹھ گیا

دنوں کی بےکیفی اور اکتاہٹ کی دہلیز پر

اگر مجھے سونا ہی تھا

تو میں سو رہتا یہیں کہیں ، اس بستر پر

یا اپنے مضافات میں کہیں

میں کیوں سو گیا ، بے خوابی اور اذیت کے پتھر پر

سر رکھ کر ----------

اور اگر مجھے اتنے بہت سے کام کرنا ہی تھے

تو میں اس دوڑ میں بھی شامل ہو جاتا

یا پھر ----- دیواروں سے ہی ٹکرا جاتا

انہیں توڑتے ہوئے !

ابراراحمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(346) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Abrar Ahmad, Agar Mujhe in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 93 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.3 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Abrar Ahmad.