Aik Ansu Nahi Tha

ایک آنسو نہیں تھا

جہاں میں کھڑا تھا ، ازل سے کھڑا تھا

مرے ہاتھ میں پھول تھے

جو یہیں پر کھلے تھے کبھی

اور پہلو میں نیزے -----

ہوا میں نمی تھی

درختوں میں ٹھہری ہوئی سبز چپ

دل کو لبریز ، سانسوں کو زخمی کیے جا رہی تھی

کہیں دور تک ٹیڑھی میڑھی گلی تھی جو رکتی نہ تھی

ہر طرف شام ، زردی انڈیلے ہوے

اجنبی آشنائی سے تکتی تھی ہم کو

کچھ اس طور سے جیسے صدیوں سے کوئی گیا ہی نہ ہو

ہاں --وہی موڑ تھا

جس سے سمتوں کی سمتیں نکلتی تھیں

گندم کی خوشبو وہی تھی

دہکتے رخوں پر وہی نم کے قطرے تھے

عمروں سے اڑتا ہوا حبس

سارے میں پھیلا ہوا تھا

وہیں --خالی میداں سے

لڑکوں کی آواز سے کھڑکیاں ٹوٹتی تھیں

وہیں پر کہیں اپنی بانہوں کو کھولے ہوے

موٹے شیشوں سے حیران ہوتی ہوئی روشنی

ہم کو پہچاننے کی اذیت میں تھی

شور کرتا ہوا خالی پن تھا

وہی دھند تھی ، بام و در بھی وہی

اور اڑتے ہوے وقت کے بال و پر بھی وہی ------

عقب میں کہیں... لوٹ جانے کا رستہ وہی تھا

وہی ہو بہ ہو تھا

وہی چار سو تھا

مری آنکھ میں ایک آنسو نہیں تھا !

ابراراحمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(457) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Abrar Ahmad, Aik Ansu Nahi Tha in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 93 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.7 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Abrar Ahmad.