Bicharne Ki Bhi Koi Awaz Hoti Hai

بچھڑنے کی بھی کیا آواز ہوتی ہے

بہت کچھ کہ لیا میں نے

حد آغاز سے

اس ملگجے گہرے اندھیرے تک

سفر میں ، ہر قدم لگتی ہوئی

ٹھوکر کو بھی

آواز دی میں نے

اسی بیٹھی ہوئی آواز میں

کہتا رہا ہوں میں

فسانے زندگانی کے

کہیں پر ہجرتوں کی اندھی رنگت میں

کہانی اپنے ہونے کی ----

سنو .. اب میں تمہارا ہوں ، نہ اپنا ہوں

مگر اک سر گزشت نکہت گل بھی ہوں

مٹی پر کھدی

آواز بھی میں ہوں ...

مرے گیتوں کی لرزش سو گئی شاید

تمھاری ہی سماعت میں

کہیں جا کر

بچھڑنے کی بھی کیا آواز ہوتی ہے ! ؟

ملا تھا رزق آوازوں کا....

سو ، اب کھینچتا ہوں ہاتھ ، دستر خوان سے ---

اترتی ہے رگ و پے میں

تمھاری گنگناتی گفتگو کی سرسراہٹ بھی

کبھی تو کاٹتی جاتی ہے پہلو کو

کہ خنجر بھی کہیں

آواز میں رکھ کر نکلتے ہو

گزشتہ کی گزرگاہیں

ابھرنے والے وقتوں کی صدا

کہتی رہے کچھ بھی ---

کہو ، دل کھول کر

آواز کو کاندھے پہ دھر کر

پھینک دو ہر سمت

کہ ڈالو جو کہنا ہے

نہ گوش ہوش ہے کوئی

نہ مد ہوشی میں ہی لپٹی ہوئی

کوئی سماعت ہے

مجھے .. اب کچھ نہیں کہنا

ابراراحمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(542) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Abrar Ahmad, Bicharne Ki Bhi Koi Awaz Hoti Hai in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 93 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.6 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Abrar Ahmad.