Hanooz Neend Main Hain

ہنوز نیند میں ہیں

تم ایک سیاہ گلاب کی طرح کھل اٹھتے ہو

اور تمہاری پتیاں

میرے دل کے آنگن میں

آہستگی سے گرتی رہتی ہیں

میری آنکھ ہی نہیں کھلتی

ریشمی نیندوں والی رات میں

تم ایک گھنے لمس کی صورت

میرے بستر میں گنگنانے لگتے ہو

اور میری آنکھ ہی نہیں کھلتی

عمر کی منڈیروں سے دن

پرندوں کی طرح

ایک ایک کر کے اڑ جاتے ہیں

اور ان کے گرے ہوے پروں کے ساتھ

ہوا کھیلتی رہتی ہے

وقت اپنا کاہل ماتھا دیواروں سے ملتا رہ جاتا ہے

گلیاں اور مکان

موسموں اور چہروں سے بھر جاتے ہیں

میدانوں میں ہوا سیٹیاں بجاتی ہے

ایک ہاتھ ----------

تمہاری لرزتی ہوئی شاخ پر جھک جاتا ہے

بادل ، زمین کا ماتھا چوم کر

رو دیتے ہیں

آوازوں کا سیل

میری کنپٹیوں سے ٹکراتا ہے

پلکوں پر دنوں کا نم

بوندوں کی طرح برسنے لگتا ہے

دوریوں کی اوٹ سے

تم ، میری جانب دیکھتے ہو

موسموں کی گھنی ردا میں لپٹی ہوئی

اپنی مخروطی انگلیاں

تم -- میرے سینے میں گاڑ دیتے ہو

اور میری آنکھ ہی نہیں کھلتی

ابراراحمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(404) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Abrar Ahmad, Hanooz Neend Main Hain in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 93 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 5 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Abrar Ahmad.