Sylvia Plath K Liye

سیلویا پلاتھ کے لیے

ایسے منہ زور اندھیرے سے نمودار ہو کر

تم اب کیا دیکھتی ہو ؟

جب ہر طرف راکھ اڑتی ہے

بے چینی سے جگہیں بدلتے ہوے

تم کہاں جان پائیں

کہ بے پناہ دیوانگی کے لیے کچھ بھی کافی نہیں ہوتا

کانپتے ہونٹوں پر ، ڈولتے پنچھی

کسی کو دکھائی نہیں دیتے

تہ خانے میں چھپ کر

خواب آور گولیاں کھا لینے سے

دنیا پیچھا کہاں چھوڑتی ہے

نہ ہڈیوں کو کاٹ دینے والی

یخ بستہ ہواؤں کو

پھول سے چہرے کی نیلاہٹ

گرم جوش بنا سکتی ہے

تاسف سے تم دیکھتی رہیں

مہربان آنکھوں میں ، اترتی ہوئی سفاک لا تعلقی

اور لا متناہی اضطراب میں

اپنے ہونے کو لکھتی رہی

کتاب کے نام سوچتے سوچتے

ابد تک ...لو دیتا ہوا نشان بن گئیں

کاش تم جیتے چلے جانے پر خود کو آمادہ کر سکتیں

اور ہم ...کم از کم ایک مرتبہ

اس آسمان کے نیچے

ایک دوسرے کو دیکھ سکتے

درختوں کے درمیان

دھند اور مشترکہ نیند میں چلتے ہوے

گھاس کی جڑوں میں

اتر جانے تک .....

ابراراحمد

© UrduPoint.com

All Rights Reserved

(669) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Urdu Nazam Poetry of Abrar Ahmad, Sylvia Plath K Liye in Urdu. This famous Urdu Shayari is a Nazam, and the type of this Nazam is Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope Urdu Poetry. Also there are 93 Urdu poetry collection of the poet published on the site. The average rating for this Urdu Shayari by our users is 4.6 out of 5 stars. Read the Love, Sad, Social, Friendship, Bewafa, Heart Broken, Hope poetry online by the poet. You can also read Best Urdu Nazam and Top Urdu Ghazal of Abrar Ahmad.